Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / ائمہ و مؤذنین کو اعزازیہ، ادخال درخواست کی تاریخ میں توسیع متوقع

ائمہ و مؤذنین کو اعزازیہ، ادخال درخواست کی تاریخ میں توسیع متوقع

7000 درخواستوں کا ادخال، مسجد کمیٹی کے صداقتنامہ کے لزوم کو برخاست کرنے پر غور
حیدرآباد۔/9جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ سے متعلق اسکیم کیلئے درخواست داخل کرنے کی تاریخ میں توسیع کا امکان ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے بتایا کہ درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ 10جنوری مقرر کی گئی تھی تاہم اس میں مزید ایک ہفتہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ائمہ و مؤذنین نے تاریخ میں توسیع کیلئے نمائندگی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک اس اسکیم کے تحت تقریباً 7000 درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ مکمل درخواستوں کی وصولی کے بعد ان کی جانچ کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور مستحق افراد کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ حکومت نے 5000 مساجد کے ائمہ و مؤذنین کو ماہانہ 1000 روپئے اعزازیہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو مسجد انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی تنخواہ کے علاوہ ہوگا۔ حکومت اعزازیہ کی رقم راست طور پر ائمہ و مؤذنین کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کردے گی۔ اسکیم کے اعلان کے بعد درخواستیں داخل کرنے آخری تاریخ پہلے 30 ڈسمبر تھی جس کو 10جنوری تک توسیع دی گئی، اب مزید ایک ہفتہ کی توسیع سے توقع ہے کہ درخواستوں کی تعداد 10ہزار تک پہنچ جائے گی۔ حکومت نے 12کروڑ روپئے اس اسکیم کیلئے مختص کئے ہیں جو وقف بورڈ میں جمع کئے گئے اور یہی ادارہ اس اسکیم پر عمل آوری کی نگرانی کرے گا۔ درخواستیں آن لائن داخل کرنے کے بعد اس کی ہارڈ کاپی متعلقہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں جمع کی جائے جس میں مسجد کمیٹی کا صداقتنامہ، شناختی کارڈ، آدھار کارڈ ، بینک پاس کی کاپی اور دو فوٹوز شامل رہیں۔ اسی دوران سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اسکیم سے استفادہ کے قواعد میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ جلد احکامات جاری کئے جائیں گے۔ ائمہ و مؤذنین کیلئے مسجد کمیٹی کے صداقتنامہ کے لزوم کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے کیونکہ بعض علاقوں میں مساجد کمیٹی کی جانب سے مکتوب کی اجرائی سے انکار کی شکایات ملی ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود 5000 ائمہ و مؤذنین کی مقررہ حد کے علاوہ زیادہ سے زیادہ درخواست گذاروں کو اعزازیہ جاری کرنے کے حق میں ہیں۔ بعض ائمہ اور موذنین نے اسکیم سے استفادہ کیلئے مقامی ہونے کی شرط سے استثنیٰ دینے کی اپیل کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT