Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ائمہ و موذنین کو اعزازیہ پر جامعہ نظامیہ سے فتویٰ کا حصول

ائمہ و موذنین کو اعزازیہ پر جامعہ نظامیہ سے فتویٰ کا حصول

حکومت کی جانب سے جائز قرار دینے کی کوشش ، اعزازیہ مباح ، مفتی محمد عظیم الدین صدر مفتی کا جواب
حیدرآباد۔ 23 ۔ ڈسمبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ کی ادائیگی سے متعلق اسکیم پر کامیاب عمل آوری کیلئے جنوبی ہند کی عظیم درسگاہ جامعہ نظامیہ سے فتویٰ حاصل کیا گیا ہے ۔ تاکہ حکومت کی جانب سے دی جارہی امداد کے حصول کو جائز قرار دیا جاسکے۔ واضح رہے کہ حکومت نے تلنگانہ کے پانچ ہزار مساجد کے ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ ایک ہزار روپئے اعزازیہ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے  لئے 12 کروڑ روپئے وقف بورڈ کو الاٹ کئے گئے ۔ اگرچہ اس اسکیم کا رمضان المبارک میں اعلان کیا گیا لیکن شرائط و قواعد کی تیاری میں تاخیر ہوئی ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے ائمہ اور مؤذنین سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں اور 30 ڈسمبر آخری تاریخ ہے۔

اس اسکیم سے استفادہ کیلئے ائمہ اور مؤذنین کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے شرائط میں نرمی کی ہے ۔ اس کے علاوہ بعض گوشوں سے سرکاری اعزازیہ حاصل کرنے پر اعتراضات کئے گئے اور مساجد کمیٹیوں نے امام اور مؤذن کو صداقت نامہ جاری کرنے سے انکار کیا۔ ان کا استدلال ہے کہ سرکاری اعزازیہ حاصل کرنا درست نہیں ہے اور یہ مسجد کی شان میں بے ادبی کے مترادف ہے ۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے جامعہ نظامیہ سے باقاعدہ فتویٰ حاصل کیا گیا ۔ 20 ڈسمبر کو جاری کردہ اس فتویٰ میں وضاحت طلب کی گئی کہ آیا حکومت کی جانب سے دیا جانے والا اعزازیہ قبول کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ صدر مفتی مولانا محمد عظیم الدین نے اس سوال کے جواب میں فتویٰ جاری کیا کہ ’’حکومت کی طرف سے ملنے والی رقم کا حصول ائمہ اور مؤذنین کیلئے مباح ہے۔ اس میں مسجد کی قدر و شان میں بے ادبی کا کوئی شائبہ نہیں‘‘۔ فتویٰ کے مباح کا مطلب اختیاری ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شخص حکومت کا اعزازیہ قبول کرنے یا نہ کرنے کا مجاز ہے ۔ اگر وہ قبول کرے تو شرعاً کوئی حرج نہیں اور قبول نہ کرے تب بھی کوئی شرعی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ اس  فتویٰ کو عام کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود زیادہ سے زیادہ درخواستیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اگرچہ درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ 30 ڈسمبر مقرر کی گئی ۔ تاہم ابھی تک صرف 250 درخواستیں ہی داخل کی گئی ہیں جس سے وقف بورڈ کے عہدیدار اسکیم کی کامیابی کے بارے میں فکرمند ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض دیگر دینی مدارس میں حکومت کی جانب سے ائمہ اور مؤذنین کو اعزازیہ کی اجرائی پر اعتراض کیا ہے۔ اسی دوران محکمہ اقلیتی بہبود نے اس اسکیم کیلئے درکار شرائط میں نرمی کی ہے۔ درخواستیں صرف آن لائین داخل کی جاسکتی ہیں اور درخواست کے ساتھ آدھار کارڈ اور مسجد کمیٹی کا صداقتنامہ ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بینک پاس بک کی زیراکس اور رہائشی صداقتنامہ پیش کرنا ہوگا۔ اگر 30 ڈسمبر تک مناسب تعداد میں درخواستیں داخل نہیں کی گئیں تو آخری تاریخ میں توسیع کی جاسکتی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ عہدیدار صرف آن لائین درخواستیں داخل کرنے کی شرط میں ترمیم کرتے ہوئے شخصی طور پر درخواستیں قبول کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اس اسکیم پر عمل آوری کیلئے وقف بورڈ میں بہت جلد کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ اسی دوران چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسداللہ نے آج تمام 10 اضلاع کے وقف انسپکٹرس کا اجلاس طلب کیا اور اس اسکیم کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کرنے کی ہدایت دی۔ اسکیم پر عمل آوری کیلئے متعلقہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ابتداء میں 6 ماہ تک ماہانہ اعزازیہ امام اور مؤذن کے اکاؤنٹ میں راست جمع کیا جائے گا اور 6 ماہ بعد انہیں دوبارہ مسجد کمیٹی کا صداقتنامہ پیش کرنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT