Wednesday , December 12 2018

ائمہ و موذنین کی اسکیم پر عمل آوری میں محکمہ اقلیتی بہبود ناکام

درخواست گزار دفتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ، آندھرا پردیش اسکیم پر بروقت عمل آوری
حیدرآباد۔16 مارچ (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے ائمہ اور موذنین کو ماہانہ اعزازیہ کی اسکیم کا آغاز کیا گیا لیکن اسکیم پر عمل آوری سے کسی کو دلچسپی نہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ اسکیم پر عمل آوری میں ناکام ہوچکا ہے۔ اپریل 2016ء سے اسکیم کا آغاز کیا گیا ماہانہ اعزازیہ کی رقم جاری کرنے کے بجائے کئی ماہ بعد رقومات جاری کی گئیں۔ موجودہ صورتحال تو یہ ہے کہ حیدرآباد میں گزشتہ چھ ماہ سے اعزازیہ کی رقم جاری نہیں کی گئی ہے۔ جبکہ اضلاع کے ائمہ اور موذنین 9 ماہ سے اعزازیہ سے محروم ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عہدیدار ایک سال کی تکمیل پر یکمشت رقم جاری کریں گے۔ حکومت کو اگر ماہانہ اجرائی منظور نہیں تھی تو پھر اسکیم کا نام سہ ماہی یا پھر ششماہی رکھا جانا چاہئے تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 9 ہزار درخواستیں زیر التوا ہیں اور وقف بورڈ میں اس اسکیم پر عمل آوری کے لیے کوئی علیحدہ شعبہ قائم نہیں جس کے نتیجہ میں اسکیم ٹھپ ہوچکی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسکیم کے لیے علیحدہ شعبہ قائم کیا جاتا اور زائد اسٹاف کو مقرر کرتے ہوئے درخواستوں کی فوری یکسوئی عمل میں آتی۔ لیکن عہدیداروں کو اسکیم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ 16 اپریل 2016ء کو حکومت نے اسکیم کا اعلان کیا لیکن عمل آوری یکم جولائی 2015ء سے مقرر کی گئی اور بقایا جات کے ساتھ اعزازیہ کی ادائیگی کا تیقن دیا گیا۔ وقف بورڈ کو 8,900 سے زائد درخواستیں آن لائین موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ راست طور پر بھی ائمہ اور موذنین نے درخواستیں داخل کی ہیں۔ درخواستوں کی جانچ کے لیے کوئی منظم طریقہ کار اور علیحدہ اسٹاف کی عدم موجودگی کے سبب ائمہ اور موذنین کو وقف بورڈ کے چکر کاٹنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 7,500 درخواست گزاروں کو جزوی طور پر اعزازیہ جاری کیا گیا جبکہ حیدرآباد میں ستمبر 2017ء اور اضلاع میں جولائی 2017ء سے ادائیگی باقی ہے۔ اسکیم کے ابتداء میں اعزازیہ کی رقم ایک ہزار مقرر کی گئی تھی جبکہ یکم اپریل 2017ء سے یہ رقم بڑھاکر 1500 روپئے کردی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ائمہ اور موذنین کے اکائونٹ نمبر داخل نہ ہونے کے سبب اسکیم کی رفتار سست ہوچکی ہے۔ آندھراپردیش میں ائمہ کو 5 ہزار اور موذنین کے لیے 3 ہزار روپئے اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے اور وہ ہر ماہ پابندی سے جاری کیا جاتا ہے۔ ریاست بھر میں 5 ہزار ائمہ اور موذنین کا اس اسکیم کے لیے انتخاب کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT