Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / ائی پی ایس اسوسیشن نے پولیس افسروں کے ایودھیا پر تبصرے سے خود کو دور کھا۔ کہاکہ یہ’ اخلاقی اقدار‘کے خلاف ہے۔

ائی پی ایس اسوسیشن نے پولیس افسروں کے ایودھیا پر تبصرے سے خود کو دور کھا۔ کہاکہ یہ’ اخلاقی اقدار‘کے خلاف ہے۔

نئی دہلی۔سوشیل میڈیا پراترپردیش کے ایک سینئر ائی پی ایس افیسر کی جانب سے رام مندر کی عاجلانہ تعمیر کے متعلق عہد لینے کا ویڈیو وائیرل ہونے کے بعد تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ انڈین پولیس سروس اسوسیشن نے سینئر ائی پی ایس افیسر کے اس اقدام سے کنارے کشی اختیار کی ہے۔ائی پی ایس اسوسیشن نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہاکہ ’’ ہم سینئر ائی پی ایس افیسر کے اس اقدام سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ اخلاقی اقدار کے خلا ف ہے‘ کیونکہ انڈین پولیس سرویس غیر جانبدار او رشفافیت کے ساتھ کام کرنے کی پابند عہد ہے‘‘۔

یوپی حکومت کی شبہہ کو مسخ کرنے والے اس ویڈیو میں ڈی جی ( ہوم گارڈس ہیڈکوارٹر) میں کہتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں کہ’’آج اس پروگرام کے دوران ہم اس بات کا عہد لیتے ہیں کہ جلد سے جلد رام مندر کی عالیشان تعمیر کرائیں گے‘جئے شری رام‘‘۔ بتایاجارہا ہے کہ مذکورہ ویڈیو مبینہ طور سے جنوری 28کے روز لکھنو یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران کا ہے‘ جو ریاستی حکومت کی کاس گنج میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کی روک تھام میں ناکامی کادوسرا دن تھا‘ اس واقعہ میں ایک 22سال کے نوجوان کا قتل بھی کردیاگیا تھا۔انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے اگست میں ریٹائرڈ ہونے والے شکلا نے کہاکہ ’’ مسئلہ کو غلط انداز میں پیش کیاجارہا ہے ۔

وہ ایک سمینار تھا جو رام مندر کے موضوع پر ہندو ؤں او رمسلمانوں کے درمیان میں بات چیت کے لئے منعقد کیاگیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی اس قسم کی بات چیت شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ تقریب چند مسلمانوں کی جانب سے کی گئی پہل کا حصہ تھی جس میں مجھے مدعو کیاگیا تھا جو ایک بہترین پہل بھی ہے۔

مجھے ایسے پروگرام کا حصہ بننے میں کچھ غلط محسوس نہیں ہوا ہے‘‘۔جب عہد لینے کے متعلق پوچھا گیا تو شکلا نے کہاکہ ’’ اس میں غلط کیا ہے؟ میں نے صرف رام مندر قائم ہو کہا ہے‘‘۔واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے یوپی کے پرنسپل سکریٹری ( ہوم) ارویندر کمار نے کہاکہ ’’ مذکورہ ڈی جی نے اس مسلئے پر وضاحت کردی ہے جس کے بعد مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

عہدیداروں کے مطابق آر ایس ایس کی پشت پناہی میں چل رہی تنظیمیں مسلم راشٹرایہ منچ‘ سنتھان مہاسبھا‘ کریہ سیوک مسلم منچ‘ بجرنگ بلی سماجیک سیوا سنستھان اور بھگوا رکشا واہانی اس تقریب کا حصہ تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تقریب ’ رام مندر مسئلے اور حل‘‘ کا اکھیلا بھارتیہ سماگرا وچار منچ کے زیر اہتمام انعقاد عمل میں آیاتھااور یہ لکھنو یونیورسٹی کے محکمے پبلک ایڈمنسٹریشن بلڈنگ میں منعقد ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT