Tuesday , September 25 2018
Home / دنیا /  اایچ ون بی ویزا برداروں کے شوہر یا بیوی ملازمت نہیں کرسکیں گے  ؟ 

 اایچ ون بی ویزا برداروں کے شوہر یا بیوی ملازمت نہیں کرسکیں گے  ؟ 

سابق صدر اوباما کے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے گا
ہندوستانی آئی ٹی ملازمین کو سب سے زیادہ خطرہ
’’امریکہ پہلے ‘‘ نعرہ کے تحت ملازمتوں کیلئے امریکیوں کو ترجیح

واشنگٹن ۔ 16 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ اب ایک ایسے قانون کو کالعدم کرنے کی تیاریاں کررہی ہے جس کے تحت ہزاروں اایچ ون بی ویزا ویزا بردار افراد جو مختلف ٹکنالوجی ملازمتوں سے وابستہ ہیں ، اُن کی بیویاں اور شوہر اُن کے ساتھ کام نہیں کرسکیں گے حالانکہ موجودہ طورپر ایسا ہورہا ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ اب اس طریقہ کار کو کالعدم قرار دینے کی تجویز پیش کرنے والا ہے ۔ یہاں 2015 ء کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کیونکہ اُس وقت سے H-1B ویزا برداروں کی بیویاں یا شوہر جو گرین کارڈ کے منتظر ہیں ، انھیں امریکہ میں H-4 ڈپنڈنٹ ویزا کے تحت کام کرنے کا اہل قرار دیا جاتا تھا جو دراصل سابق صدر امریکہ براک اوباما نے متعارف کروایا تھا تاہم اب ڈپارٹمنٹ آف ہوم سکیورٹی نے واضح اشارہ دیا ہے کہ سابق صدر کے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے گا جبکہ اس کی کوئی ٹھوس وجوہات نہیں بتائی گئی بلکہ صرف اتنا کہا گیا کہ ’’امریکن خریدیئے ، امریکن آزمائیے ‘‘ کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جانے والا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کا حکم عاملہ بھی اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ ہر معاملہ میں امریکہ سب سے پہلے ہونا چاہئے ۔ بہرحال جب تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوجاتا اُس وقت تک سابق طریقہ کار پر ہی عمل کیا جائے گا ۔ اب جبکہ اس قانون میں ترمیم کے بعد ملازم کا شوہر یا بیوی کو کسی دیگر مقام پر ملازمت کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا تاہم اگر اُن کی بیویوں یا شوہروں کو عرصۂ دراز تک کوئی دوسرا کام نہیں ملا تو پھر اایچ ون بی ویزا ویزا یا انتہائی ہنرمند افراد کو امریکہ میں زیادہ عرصہ تک قیام کرنا مشکل ہوجائے گا ۔

ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ اصل ملازم کے شوہر یا بیوی کو کام کرنے کی اجازت نہ دینے کی حمایت بھی کررہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اایچ ون بی ویزا ویزا پروگرام میں بھی ترمیم کی خواہاں ہے جس میں اُن پیشوں کی درجہ بندی بھی کی جائے گی جس کے تحت بہترین صلاحیت رکھنے والے افراد کو ملازمتیں دی جائیں گی ۔ اوباما کے زمانے میں اصل ملازم کی بیوی یا شوہر کو کسی دیگر مقام پر کام کرنے کی اجازت کو ویسے بھی قانونی مسائل کا سامنا ہے ۔ اس طرح ’’سیوجابس یو ایس اے ‘‘ نامی ایک گروپ نے اپریل 2015 ء میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس کے پش پشت یہی فکر کارفرما تھی کہ کہیں امریکی شہری ملازمتوں سے محروم نہ کردیئے جائیں۔ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اٹارنی جنرل جیف سیشنس نے واضح طورپر کہا تھا H-4 طریقہ کار امریکن ورکرس کے لئے نقصان دہ ہے ۔ اایچ ون بی ویزا ویزا پروگرام میں تبدیلی کے امریکی ارادے نے خصوصی طورپر ہندوستانی آئی ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے جہاں 70% ہندوستانی ورکرساایچ ون بی ویزا ویزا بردار ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ ٹرمپ جب سے برسراقتدار آئے ہیں ، انھوں نے امریکہ کے علاوہ پوری دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے ۔ کبھی وہ شمالی کوریا کو آنکھیں دکھارہے ہیں، کبھی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے رہے ہیں اور کبھی مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکہ نہ آنے کی تحدیدات عائد کررہے ہیں اور اُن کا پورا انتظامیہ اُن کی ہاں میں ہاں ملارہا ہے اور جو بھی جی حضوری نہیں کررہا ہے اُسے باہر کادروازہ دکھایا جارہا ہے ۔ یہاں تک کہ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے بارے میں بھی اب یہ کہا جارہا ہے کہ وہ بھی بس کچھ ہی دنوں کے مہمان ہیں۔دوسری طرف خود اُن پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کرنے والی خواتین کو اقوام متحدہ میں امریکہ کی خاتون سفیر نکی ہیلی نے البتہ دلاسا دیا ہے کہ اُن پر جو بیتی ہے اُس کی سماعت کی جائے گی ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT