Sunday , September 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / ابلیس لعین اور عیسائیوں کا باطل نظریہ

ابلیس لعین اور عیسائیوں کا باطل نظریہ

توحید خالص، دینِ اسلام کاطرۂ امتیاز ہے، یہودیت اور عیسائیت بھی توحید کے قائل ہیں لیکن ان کے پاس توحید خالص کا تصور نہیں، وہ خدا کو وحدہٗ لاشریک مانتے ہیں ساتھ میں اللہ تعالیٰ کے مقابل میں دوسری قوت کو بھی متوازی سمجھتے ہیں۔

توحید خالص، دینِ اسلام کاطرۂ امتیاز ہے، یہودیت اور عیسائیت بھی توحید کے قائل ہیں لیکن ان کے پاس توحید خالص کا تصور نہیں، وہ خدا کو وحدہٗ لاشریک مانتے ہیں ساتھ میں اللہ تعالیٰ کے مقابل میں دوسری قوت کو بھی متوازی سمجھتے ہیں۔

عیسائی خیر و شر، اچھائی اور بُرائی، نیکی و بدی کو دو خانوں میں تقسیم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو خیر، بھلائی، اچھائی، معروف کا خالق مانتے ہیں اور شیطان کو بُرائی، بدی اور شر کا خالق سمجھتے ہیں۔ نیز شیطان ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے مقابل میں ایک متوازی قوت ہے۔ نعوذباللہ ان کے نزدیک صرف خیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور شر و بُرائی شیطان کی طرف سے ہے جبکہ ایسا عقیدہ توحید کے صد فیصد منافی ہے۔ اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر خیر و شر، اچھائی اور بُرائی، نیکی و بدی، شفاء و بیماری، نعمت و آفت سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے مدمقابل، اس کے متوازی یا متقارب کوئی قوت نہیں۔
عیسائی اپنے باطل نظریات، فاسد تاویلات اور آزادانہ افکار و خیالات کی بناء گمراہ ہوئے، ہر چیز کو اپنے اپنے عقل و فہم کے مطابق غور و خوض کرنے کی بناء گمراہی کے شکار ہوئے جبکہ دین اسلام میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہر چیز کو کھول کھولکر واضح کردیا اور عقائد سے متعلق جتنی باتیں ہیں ان سب کو بغیر کسی ابہام و پوشیدگی کے بیان کردیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اپنے ارشادات و فرامین کے ذریعہ کوئی شک و شبہ باقی نہ رکھا بطور خاص ہمارے ائمہ و متکلمین نے عقائد کے تمام جزئیات و فروعات کو بالتفصیل بیان کردیا۔ اب عامۃ المسلمین کے لئے توحید سے متعلق اشکالات نہ رہے۔

ابلیس اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، وہ آگ سے پیدا کیا گیا، اس نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے کے حکم کی خلاف ورزی کی، تکبر و غرور کیا۔ مادی و عنصری لحاظ سے آگ کا خاک سے افضل و اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور کہاکہ میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اور آدم خاک سے پیدا کئے گئے ہیں۔ بھلا اعلیٰ، ادنیٰ کو کیونکر سجدہ کرسکتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے حکم کی عدولی کی بناء راندۂ درگاہ ہوا، وہ جو معلم اول اور معلم الملائکۃ کہلاتا تھا، جو فرشتوں کو توحید و الوہیت کا درس دیا کرتا تھا وہ تا ابد ملعون و مغضوب قرار پایا اور جنت جیسی اعلیٰ نعمت کے مقام سے نکالا گیا۔ تب سے وہ انسان کا کھلا دشمن ہوگیا۔ ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت مانگی جو عطا کردی گئی۔ ابلیس نے کہا : اے پروردگار! میں تیرے بندوں کو طرح طرح کے داؤ اور فریب سے گمراہ کرتا رہوں گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میرے مخلص بندوں پر تیرا زور چلنے والا نہیں۔ (سورۃ بنی اسرائیل : ۷۰)

قرآن مجید سے پہلے دنیا کے کسی ادب میں لفظ ’’ابلیس‘‘ نہیں ملتا، اس لفظ کے اشتقاق کے بارے میں علمائے لغت میں اختلاف ہے کہ یہ عربی ہے یا عجمی؟ ائمہ لغت و نحو نے لفظ ’’ابلیس‘‘ عجمی (غیر عربی) لفظ قرار دیا اور قرآن مجید میں اس کے وجوہ اعراب عجمی ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ ابن جریر الطبری نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ جس میں لفظ ’’ابلیس‘‘ فعل متعدی کی صورت میں آیا ہے۔ ’’ابلیس ابلسہ اللہ من الخیر کلہ‘‘ (یعنی ابلیس وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے فلاح و بھلائی سے محروم رکھا)
D.Herbelot اور دیگر مستشرقین یورپ نے لفظ ’’ابلیس‘‘ کو یونانی لفظ (ذیابولوس) سے معرّب سمجھا ہے مگر ان دونوں لفظوں میں مقارنت و مماثلت اور وجہ اشتقاق تلاش کرنا دشوار ہے۔
بائبل : تکوین میں جہاں حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کا قصہ مذکور ہوا ہے اس میں حضرت آدم و حضرت حوا کو بہکانے و ورغلانے کی نسبت ’’ابلیس‘‘ یا ’’ذیابولوس‘‘ یا ’’عزازیل‘‘یا ’’شیطان‘‘ کی طرف نہیں کی گئی بلکہ اس کو ’’حیتہ‘‘ یعنی سانپ Serpent کی طرف کی گئی ہے۔ عربی، فارسی، ترکی اور اردو ادب میں ’’ابلیس‘‘ کو شیطان کا مترادف سمجھا گیا ہے۔ فارسی ادب میں ’’عزازیل‘‘ کا لفظ بھی بکثرت استعمال ہوا ہے۔
بعض نے ابلیس کو ملائکہ میں شمار کیا ہے اور اس کو فرشتوں کی ایک صنف قرار دیا جنھیں ’’الجن‘‘ کہتے ہیں اور وہ ’’نارالسموم‘‘ سے پیدا کیا گیا۔ جبکہ متکلمین اور مفسرین کے نزدیک ابلیس ملائکہ میں سے نہیں تھا جنات میں سے تھا۔ ابلیس نے خود کہا : خلقتنی من نار و خلقتہ من طین (سورۃ الاعراف) تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وخلق الجان من مارج من نار (سورۃ الرحمن) یعنی اللہ تعالیٰ نے جنوں کو لو کی آگ سے پیدا کیا۔

مذکورہ وضاحت سے ظاہر ہے کہ ابلیس، شیطان دونوں ایک ہی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بالمقابل کوئی قوت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک کی مہلت دی ہے، اور اس کو بدی کی ایک قوت بنایا جو اللہ تعالیٰ کے امر کے تحت ہے اور انسان کی آزمائش کے لئے اس کو ڈھیل دی گئی ہے اور واضح طور پر بیان کردیا گیا کہ وہی حضرت آدم و حضرت حوا کو جنت سے نکالے جانے کا سبب ہے (سورۃ البقرہ ۲؍۳۶) اور اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی ہے (سورۃ الاعراف ) وہ انسان کا کھلادشمن ہے (سورۃ یوسف ۵؍۱۷) اب شیطان اور اس کی ذریت کا یہی کام ہے کہ انسان کو بدی پر اُبھارا جائے، اس کے لئے دنیا و آخرت کی رسوائی کا سامان پیدا کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے دور کیا جائے۔ (سورۃ النساء ۴؍۶۰) اللہ تعالیٰ نے بھی شیطان کو آگاہ کردیا کہ شیطان اس کا کھلا دشمن ہے۔ انسان کو بھی چاہئے کہ وہ شیطان کو اپنا دشمن سمجھے۔ اس کی باتوں میں نہ آئے۔ وہ تو انسان کو گمراہ کرنے پر تلا ہے۔ لہذا اس سے بچتے رہنا چاہئے (سورۃ للبقرۃ ۲؍۲۰۸) قیامت کے دن شیطان اپنے گمراہ کن کردار اور اللہ تعالیٰ کی حقانیت کا اعتراف کرے گا (سورۃ ابراہیم ۲۲)

حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوذر سے فرمایا : کیا تم نے جن و انس کے شیاطین سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی ہے؟ تو وہ کہنے لگے : کیا انسانوں کے بھی شیطان ہوتے ہیں فرمایا : ہاں اور وہ جنوں کے شیاطین سے بھی زیادہ بُرے اور خطرناک ہوتے ہیں۔ (کشاف اصطلاحات الفنون ۷۸۸)
لہذا عیسائیوں کا نظریہ عقلاً و نقلاً باطل اور غیر معقول ہے، اور عقیدۂ توحید میں عیسائیوں کی تشریحات کے مطابق ایسا جھول ہے جو ناقابل بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے آخری نبی ﷺ کی اُمت میں پیدا کیا اور اِس اُمت کو توحیدِ خالص کے جوہر سے سرفراز فرمایا۔

TOPPOPULARRECENT