Thursday , June 21 2018
Home / دنیا / ابوبکر بغدادی بچپن سے طاقت اور اقتدار کا خواہشمند تھا

ابوبکر بغدادی بچپن سے طاقت اور اقتدار کا خواہشمند تھا

برلن ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اسلامک اسٹیٹ (داعش) کا خوفناک سربراہ جس کے سر پر 10 ملین امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسکولی تعلیم کے دوران امتحان میں کامیاب نہ ہونے کے سبب ایک ہی جماعت میں دو سال تعلیم حاصل کیا تھا۔ عراقی فوج میں بھرتی کی کوششوں میں بھی ناکام ہوگیا تھا اور بعد میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کے دوران ی

برلن ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اسلامک اسٹیٹ (داعش) کا خوفناک سربراہ جس کے سر پر 10 ملین امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسکولی تعلیم کے دوران امتحان میں کامیاب نہ ہونے کے سبب ایک ہی جماعت میں دو سال تعلیم حاصل کیا تھا۔ عراقی فوج میں بھرتی کی کوششوں میں بھی ناکام ہوگیا تھا اور بعد میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کے دوران یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں بھی ناکام ہوگیا تھا۔ ابوبکر البغدادی جس نے خود کو خلیفہ قرار دیا ہے۔ اس خود ساختہ خلیفہ نے اپنی دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کو آئی ایس کا نام دیا۔ جرمن کے محققین نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا کہ نوجوانی میں وہ زیادہ قابل یا متحرک نہیں سمجھا جاتا تھا۔ 44 سالہ البغدادی اب خوفناک تنظیم داعش کی قیادت کررہا ہے

اور یہ تنظیم نہ صرف عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کرچکی ہے بلکہ اس کے سرغنوں نے سینکڑوں مقامی شہریوں کے علاوہ کئی بیرونی افراد کے سر قلم کردیئے ہیں۔ لندن کے ایک آزاد اخبار نے لکھا ہے کہ ’’اس شخص نے جو اب خود نئی مملکت اسلامیہ عراق و شام کا خلیفہ ہونے کا اعلان کیا ہے بچپن میں اسکولی تعلیم کے دوران امتحان میں ناکامی کے سبب ایک ہی جماعت میں دوسرے سال بھی تعلیم حاصل کیا تھا کیونکہ اس کی انگریزی انتہائی ناقص تھی۔ جرمنی کے اے آر ڈی ٹیلی ویژن چینل اور سوڈیوش زمیننگ اخبار نے گذشتہ روز اس کے بارے میں نئے انکشافات کرتے ہوئے بغدادی کے پیدائشی مقام کے رہنے والوں کے حوالہ سے لکھا کہ وہ سمارہ کے اسکول میں پڑھتا تھا اور وہاں کی تنگ گلیوں میں فٹبال کھیلا کرتا تھا۔ بغدادی کے ایک پڑوسی نے کہا کہ وہ بچپن سے طاقت اور اثرورسوخ کی خواہش رکھتا تھا۔ بغدادی ایک راسخ العقیدہ سنی مسلم خاندان کا تیسرا یا چوتھا بیٹھا تھا۔ ماضی میں سنی اقلیت کے حامی عراقی ڈکٹیٹر کی حکومت کے باوجود فوج میں محض اس لئے البغدادی کی بھرتی نہیں کی گئی تھی کہ وہ بے انتہا تنگ نظر تھا۔

بغدادی ایک کمزور تعلیمی ریکارڈ کا حامل طالب علم تھا جس کی وجہ سے اس کو قانون کی تعلیم کیلئے یونیورسٹی میں داخلے سے محروم ہونا پڑا تھا، جس کے بعد اس نے دینی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی اور اتفاق سے اس کو کامیابی حاصل ہوگئی۔ غالباً یہی وجہ ہیکہ وہ اپنے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر انتہاء پسند بن گیا۔ درس فقہ میں 8 سالہ تعلیم کے بعد 1999ء میں اس کو پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل ہوئی تھی۔ دینی درسگاہ سے حاصل کردہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری نے اس کو آئی ایس (داعش) لیڈر کی حیثیت سے ابھرنے میں مدد کی اور وہ اپنی ذہنی اختراع کے مطابق ان اصولوں کے مطابق داعش کی بربریت کو حق بجانب بھی قرار دیا کرتا ہے۔ البغدادی کے ایک پڑوسی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اسکولی دوستوں کو تک ہلاک کردیا گیا اور پھر اس تنظیم کے امیر کی حیثیت سے اس کا ابھرنا انتہائی تشویشناک ہے۔

TOPPOPULARRECENT