Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / ابوبکر بغدادی ہنوز زندہ ہے : امریکی وزیردفاع

ابوبکر بغدادی ہنوز زندہ ہے : امریکی وزیردفاع

دولت اسلامیہ میں آج بھی اُس کا اہم رول ، ہلاکت کے متعدد دعوے بے بنیاد ، امریکی رپورٹرس سے بات چیت
واشنگٹن ۔22 جولائی ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی وزیر دفاع جیمس میاٹس نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اُن کا خیال یہ ہے کہ دولت اسلامیہ قائد ابوبکر البغدادی ہنوز زندہ ہے ۔ اس طرح میاٹس نے اُن دعوؤں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بغدادی امریکی فضائی حملہ میں ہلاک ہوچکا ہے ۔ میاٹس نے کہاکہ اُن کا ایقان ہے کہ بغدادی اب بھی کہیں روپوش ہے تاہم اُس کی ہلاکت پر اُس وقت یقین کروں گا جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ (صد فیصد یقین کے ساتھ ) ہم نے اُسے ہلاک کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایبٹ آباد میں القاعدہ سربراہ اُسامہ بن لادن کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا تھا کہ وہ مرچکا ہے لیکن امریکہ کو اُس وقت تک یقین نہیں آیا جب امریکہ نے خود اس مشن میں حصہ لیتے ہوئے اُسامہ کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کیا۔ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اگر ہم ( امریکہ ) یہ سمجھتے ہیں کہ بغدادی زندہ ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ ہم مسلسل اُس کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ گزشتہ ماہ روسی افواج نے یہ ادعا کیا تھا کہ بغدادی کو 28 مئی کو شام کے شہر رقّہ میں جس وقت بغدادی اپنے کچھ بااعتماد ساتھیوں سے ملاقات کررہا تھا اُس وقت اُسے ہلاک کردیا گیا جبکہ متعدد دیگر خبریں یا ( افواہیں) بھی پھیل رہی تھیں کہ بغدادی عراق یا شام میں مارا گیا ہے کیونکہ 2014 ء میں اپنی خلافت کا اعلان کرنے کے بعد بغدادی کو کسی نے نہیں دیکھا ۔ یہ ایک ایسی پُراسرار حقیقت ہے جس کی تہہ تک ہر کوئی پہنچنا چاہتا ہے اور جتنے منہ اُتنی بات کے مصداق ہر کوئی نئے دعوے کررہا ہے لہذا میں بھی یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ بغدادی ہنوز زندہ ہے ۔ پنٹاگان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بغدادی اب دولت اسلامیہ کے روزمرہ کے آپریشنس میں ملوث نہیں ہے جبکہ میاٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ میں بغدادی آج بھی اہم رول ادا کررہا ہے۔ ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ امریکہ نے پنی پالیسی پر نظرثانی کرنے کا کام ہنوز مکمل نہیں کیا ہے ۔

صحافی نے افغانستان پر امریکہ کی تازہ ترین پالیسی کے بارے میں سوال کیا تھا ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے میاٹس نے مزید وضاحت کی کہ انھوں نے جنگ زدہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودہ تعداد 4000 میں اضافہ کرنے کیلئے صدارتی اختیارات کا اب تک کوئی استعمال نہیں کیا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ صدارتی اختیارات کا کیا مطلب ہے کیونکہ وہ تو صرف وزیردفاع ہیں صدر نہیں ۔ تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ بات میں بھی جانتا ہوں کہ میں صدر نہیں ہوں لیکن صدر موصوف کو جو اختیارات حاصل ہیں اُن اختیارات کے بارے میں یاد دہانی کرواتے ہوئے صدر موصوف سے یہ اجازت حاصل کی جاسکتی ہے کہ آیا افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافہ کیا جائے یا نہیں ۔ آپ جنگ کرتے ہیں تو اُس جنگ کا کوئی مقصد ہوتا ہے ۔ جنگ برائے جنگ نہیں ہوتی لیکن اب میں خود بھی ایک جنگ کی تیاری کررہا ہو اور ہر جنگ کا ایک نہ ایک دن خاتمہ ہوتا ہے لیکن کیا کیا جائے امریکہ میں کوئی ڈکٹیٹر شپ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بیحد مقبول اور جمہوریت کی پاسداری کرنے والا ملک ہے جہاں جنگوں کے بارے میں نہیں سوچا جاتا بلکہ عوام اور عوام کے فیصلوں کے بارے میں سوچا جاتا ہے اور شاید اس جنگ کی سیاسی وجہ ہوسکتی ہے ۔ ہم نے شاید جمہوریت اور جنگ کو گڈمڈ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سیاسی وجوہات پر لڑی جانے والی جنگ کا بھی ایک نہ ایک دن خاتمہ تو ہونا ہی ہے ۔ اسامہ بن لادن کا تعاقب بھی امریکہ سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ہی کررہا تھا جو اُس کی موت کے ساتھ ہی ختم ہوگیا ۔ یہاں میں ایک بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حالات چاہے جنگ کے ہوں یا امن کے ، ملک کی پالیسی درست ہونی چاہئے اور ساتھ ہی ساتھ حکمت عملی بھی ۔ پالیسی صحیح ہے اور حکمت عملی غلط یا اس کے برعکس تو پھر سمجھ لیجئے کہ آپ اپنی سمت کھوچکے ہیں ۔آپ کہاں جارہے ہیں یہ آپ کو خود نہیں معلوم اور ایسے لوگوں کو صرف گڈلک ہی کہا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT