Thursday , June 21 2018
Home / ہندوستان / ابو سالم ،1995ء کے پردیپ جین قتل کے مجرم

ابو سالم ،1995ء کے پردیپ جین قتل کے مجرم

ممبئی۔ 16 فروری (سیاست ڈاٹ کام) خصوصی ٹاڈا عدالت نے آج گینگسٹر ابو سالم اور دیگر دو افراد کو جو 1995ء کے مقامی بلڈر پردیپ جین کے قتل کے ملزم تھے، آج مجرم قرار دے دیا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جبکہ ابو سالم کو ہندوستان نے کسی مقدمہ میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ انہیں 2005ء میں ہندوستان کی تحویل میں لیا گیا تھا۔ خصوصی وکیل استغاثہ اُجول نکم نے کہا کہ ابو

ممبئی۔ 16 فروری (سیاست ڈاٹ کام) خصوصی ٹاڈا عدالت نے آج گینگسٹر ابو سالم اور دیگر دو افراد کو جو 1995ء کے مقامی بلڈر پردیپ جین کے قتل کے ملزم تھے، آج مجرم قرار دے دیا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جبکہ ابو سالم کو ہندوستان نے کسی مقدمہ میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ انہیں 2005ء میں ہندوستان کی تحویل میں لیا گیا تھا۔ خصوصی وکیل استغاثہ اُجول نکم نے کہا کہ ابو سالم کو دفعہ 302 (قتل)، 120B(سازش)، قانون تعزیراتِ ہند کے تحت ٹاڈا عدالت نے مجرم قرار دیا۔ دیگر دو ملزمین بھی جو خاطی قرار دیئے گئے، ان کے نام ویریندر جھمب اور مہندی حسن ہیں۔ استغاثہ اور صفائی کے وکیلوں کی بحث سزا کی نوعیت کے بارے میں کل مقرر ہے۔ عدالت جمعہ کے دن اپنا فیصلہ اس مقدمہ میں آج تک کیلئے محفوظ کرچکی ہے۔پولیس کے بموجب 7 مارچ 1997ء کو پردیپ جین کو حملہ آوروں نے ان کے جوہو بنگلہ کے باہر گولی مارکر ہلاک کردیا تھا کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنی زبردست جائیداد کے ایک حصہ سے ابوسالم کے حق میں دستبردار ہونے سے انکار کردیا تھا۔ ابوسالم دیگر بلڈر جھمب اور حسن کو اس واردات کے سلسلے میں مقدمہ کا سامنا تھا ۔ ملزم نسیم خاں سرکاری گواہ بن گیا ہے۔ ایک اور ملزم ریاض صدیقی جو قبل ازیں سرکاری گواہ بن گیا تھا، اپنے بیان سے منحرف ہوگیا ہے۔ صدیقی پر مقدمہ بعدازاں علیحدہ طور پر چلایا جائے گا۔ موجودہ مقدمہ کا آغاز 2008ء میں ہوا تھا۔ استغاثہ نے تاحال تقریباً 25 گواہوں پر جرح کی ہے جبکہ وکیل صفائی نے صرف ایک گواہ پر جرح کی۔

TOPPOPULARRECENT