Wednesday , November 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / اب انھیں ڈھونڈ چراغ رُخ زیبا لے کر

اب انھیں ڈھونڈ چراغ رُخ زیبا لے کر

ابوزہیر سید زبیر ہاشمی
سرزمین ہندوستان پر اولین انسان اور نبی حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کا نزول خلافت اراضی کے ساتھ ہوا ۔ حضور رحمۃ اللعلمین صلی اﷲ علیہ و آلہٖ سلم کو ٹھنڈی ہوا یہیں سے آئی ۔
اقلیم ہند کا تاریخی خطۂ دکن بہت ہی مردم خیز واقع ہوا ہے ۔ یہاں ہر دور میں باکمالوں ، دیدہ وروں  دانشوروں اور قلم کاروں کے بافیض و نورانی قافلے رواں دواں رہے ۔ ہمارے ممدوح گرامی قدر ، تقدس مآب ، ادیب شہیر مولانا نورالہدیٰ مرحوم انہی کا ایک حصہ رہے ۔ جن کا انتقال ۲۶؍ ربیع الآخر ۱۴۳۷ ھ م ۶ فبروری بروز ہفتہ تقریباً ۳۰:۳ بجے دوپہر دفتر سیاست میں ہوا ۔
مولانا مرحوم ایک ایسی شخصیت تھے جن میں کئی خوبیاں رہیں ۔ روزنامہ سیاست میں آپ کی نمایاں خدمات رہیں ، مذہبی و دیگر مضامین کی کتابت ( کمپیوٹر ٹائپنگ) بڑے بہترین انداز میں کیا کرتے تھے ۔ آپ کو طویل تحریر کو مختصر کرنے میں مہارت اور کتابت میں بڑا بہترین ملکہ حاصل رہا۔
احقر کو مئی ۲۰۱۲ء سے مولانا مرحوم کے ساتھ رہکر مذہبی صفحہ ترتیب دینے کا موقع حاصل رہا ۔ آپ کو اردو ادب میں کافی مہارت حاصل تھی ۔ مرحوم مذہبی معاملہ میں خلاف ورزی کو کبھی برادشت نہیں کرتے تھے ۔
مولانا مرحوم کا انتقال ہفتہ کو ہوا اور اُس سے دوروز قبل یعنی جمعرات کو مذہبی صفحہ کی ترتیب کے دوران آپ سے آخری ملاقات رہی ۔ اتفاق کی بات ہے کہ ملاقات کہ دوران مولانا مرحوم نے کہاکہ ہمیں عشق حقیقی اختیار کرنا چاہئے ، عشق مجازی نہیں … اور اکثر مجھے یہ مشورہ دیا کرتے تھے کہ ہمیں دنیا والوں کی فکر نہیں کرنا چاہئے کہ وہ ہمارے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں ، بلکہ یہ فکر ہونی چاہئے کہ ہمارے عمل سے ہمارا رب راضی ہورہا ہے یا نہیں …

مختصر یہ کہ مولانا مرحوم ملنساری کے ساتھ ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی زندگی بتائے ہیں ۔
نوٹ :  مرحوم مذہبی صفحہ پر کسی بھی جاندار کی تصویرکشی سے احتراز کرتے ، یہاں تک کہ مذہبی صفحہ میں تصویر ڈالنے کی مخالفت میں بھی بڑے سخت موقف کے ساتھ آخر تک ڈٹے رہے ۔ آپ ہی کی اس روایات کو جاری و ساری رکھتے ہوئے آپ کی تصویر شائع نہیں کی جارہی ہے ۔
آخر میں اﷲ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ اپنے حبیب ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے طفیل میں مولانا مرحوم کے درجات کو بلند فرما اور انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرما۔ آمین
حبیب محمد بن عبداﷲ رفیع المرغنی
یوں تو اس جہانِ فانی میں جو بھی آتا ہے وہ جانے کیلئے ہی آتا ہے لیکن چند لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی موت ایک خلاء پیدا کردیتی ہے اور اُس خلاء کو تادیر کوئی پُر نہیں کرسکتا ۔ گزشتہ جمعہ کی ہی بات ہے مولانا مرحوم سے کھانے کی میز پر دیر تک مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی رہی اور دوسرے دن جب میرے دوست محمد خلیل نے یہ صدمۂ جانفزاء سنایاکہ مولانا نے دفتر سیاست میں آخری سانس لی تو ذہن و دل کچھ دیر تک اس خبر کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہی نہیں تھا لیکن اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ … ’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ‘‘…
ہمارے آقا و مولانا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اُمتیوں کو حدیث مبارکہ میں یہ تاکید فرمائی جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’لذتیں زائل اور ختم کردینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو‘‘۔ (ترمذی)

مولانا تو اس دارفانی سے کوچ کرگئے لیکن اپنے پیچھے اپنی لازوال یادیں چھوڑ گئے ۔ مولانا مرحوم کے ساتھ ابتداء ہی سے مذہبی صفحہ کا کام کرنے کا شرف حاصل رہا اور آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ آپ جہاں ایک سچے عاشق رسولؐ تھے وہیں مذہبی مسئلہ پر چاہے کتنی بڑی شخصیت ہی کیوں نہ ہو سینہ سپر ہوجاتے تھے ، مذہبی مسئلہ میں وہ کسی سمجھوتے کے قائل نہیں تھے ۔ آج جب اُن کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد مذہبی صفحہ کی گراں بار ذمہ داریاں اُٹھارہا ہوں تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ میری ہمت افزائی کیلئے یہیں کہیں موجود ہے ۔  بقول کسی شاعر کے
کرگیا ہے میری بھی جاں کا کوئی گوشہ خالی
مرنا والا کہیں مجھ میں بھی رہا کرتا تھا
فانی جہان سے مولانا تو کوچ کرگئے لیکن اپنی کارکردگی کے انمٹ نقوش چھوڑ گئے ۔ آج وہ نہیں ہے بس اُن کی یادیں ہیں … آج چند دھندلاتی تصویریں ذہن میں گردش کرتی ہے … کام کے تئیں وہ جذبہ … ذہنوں سے کبھی فراموش نہیں ہوسکتا … کسی نے کیا خوب کہا کہ    ؎
کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شام زندگی
وقت جب کم رہ گیا تو کام یادآئے بہت
لیکن یہ حقیقت ہے کہ اپنے کرنے کے کام وہ تمام کر گئے اور ہر کام بڑی آسانی سے ہنستے بولتے بحسن و خوبی کیا اور تنہا کیا   ؎
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

امام مزنیؒکہتے ہیں جس دن حضرت امام شافعی ؒ نے انتقال کیا تو اس کی صبح کو میں عیادت کے لئے حاضر ہوا تھا:مزاج کیسا ہے؟ میں نے سوال کیا،انہوں نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا:’’دنیا سے جارہا ہوں‘ دوستوں سے جدا ہورہا ہوں‘ موت کا پیالہ منہ سے لگا ہے‘ نہیں معلوم میری روح جنت میں جائے گی اسے مبارکباد دوں یا دوزخ میں جائے گی اسے تعزیت پیش کروں‘ پھر یہ شعر پڑھے:
ولما قسیٰ قلبی وضاحت مذاہبی

جعلت الرجاء فی عفوک سلما
ترجمہ: ’’اپنے دل کی سختی اور اپنی بے چارگی کے بعد میں نے تیری عفو پر اپنی امید کو سہارا بنالیا ہے‘‘۔
تعظمی ذنبی فلما قرنتہ
بعفوک ربی کان عفوک اعظما
ترجمہ:’’میرا گناہ میری نظر میں بہت ہی بڑا ہے مگر جب تیری عفو کے مقابلے میں اسے رکھا تو اے رب! تیرا عفو زیادہ نکلا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT