Saturday , December 16 2017
Home / اداریہ / اب ٹیپو سلطان کے خلاف زہر افشانی

اب ٹیپو سلطان کے خلاف زہر افشانی

آسماں کا کچھ نہ بگڑا وہ تو جوں کا توں رہا
تھوکنے سے اس پہ لیکن منہ تو گندا ہوگیا
اب ٹیپو سلطان کے خلاف زہر افشانی
ہندوستان کے حالات ، سماج دشمن ، مسلم بیزار اور تاریخ کے دشمنوں کو غیر معمولی خوشی اور موافق حال مواقع دے رہے ہیں ۔ یہ شیر میسور ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش منانے کے سلسلہ میں سیاسی تنازعہ کھڑا کرتے ہوئے بی جے پی کے مرکزی وزراء اور قائدین نے انگریزوں کے خلاف چار جنگیں لڑتے ہوئے تحریک آزادی ہند کی بنیاد ڈالنے والے مسلم بادشاہ کی قربانیوں کو فراموش کرنے والے یہ قوم دشمن طاقتیں اس ملک کو ایک نا پسندیدہ صورتحال کی جانب ڈھکیل رہے ہیں ۔ تاریخ ہند کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے اس ملک میں قانون موجود ہے اس کے باوجود ان تک قانون کے ہاتھ نہیں پہونچ پا رہے ہیں ۔ کبھی آگرہ کے تاج محل کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی مسلم حکمرانوں جیسے ٹیپو سلطان کی توہین کی جاتی ہے ۔ شیر میسو ٹیپو سلطان کی سوانح حیات کے بارے میں اس ملک کا ہر ذی شعور شہری واقف ہے مگر بدبخت سیاسی قائدین نے مسلم اور مسلم طبقہ سے وابستہ ہر چیز کی مخالفت کر کے خود کی سیاسی بقا کو یقینی بنانے کی ناپاک مشق شروع کی ہے ۔ مسلم حکمرانوں کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹ ، مکرو فریب ، گند ، مغلظات کے لیے اپنی ساری حدیں پار کرچکے ہیں ۔ سوشیل میڈیا کو اپنی نفرت کی فیکٹری بناکر 24 گھنٹے رات دن کام کررہی ہے ۔ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے چیف منسٹر کرناٹک سدرامیا پر زور دیا ہے ۔ ان کے ایک اور ساتھی لیڈر پی سوبھا کارنڈلجے نے ٹیپو سلطان کے خلاف جھوٹ پر مبنی شر انگیز بیان دے کر انہیں کنڑا کا دشمن ہندو دشمن بلکہ قاتل اور زانی بھی قرار دیا ہے ۔ یہ ایسے لوگ جنہیں اپنے مادر وطن کی عزت اور تقدس کا بھی احساس نہیں ہے ۔ جس ملک کی فضا میں یہ لوگ سانس لے رہے ہیں ۔ اس ملک پر مسلم حکمرانوں نے بھائی چارہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور دیگر باہمی اتحاد کے فقید المثال خدمات انجام دی ہیں ۔ تاریخ سے ناواقف یہ لوگ بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں اور کم عقلی کا کھلا ثبوت دے رہے ہیں ۔ جھوٹ کی نمائش کو عام رکھ کر ملک کی تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کو بھی شرم محسوس نہیں کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کو تکلیف ایک ہی ہے وہ ’’مسلم‘‘ ہے ۔ یہ لوگ اپنی حرکتوں سے ملک کا مستقبل تاریک بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ایسے شرپسندانہ بیانات دینے اور ردعمل کا اظہار کرنے والوں کے خلاف اس ملک کے قانون کی رو سے انصاف کے کٹہرے میں لانے کی جرات کیوں نہیں کی جاسکتی ۔ اس ملک میں بہت کچھ ہورہا ہے ۔ ایک بحران کی سی کیفیت پیدا کردی جارہی ہے ۔ مسلم دشمنوں کی حماقتیں دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں ۔ سازشوں کی گھڑی کے ساتھ یہ لوگ اپنی حدوں کو پار کررہے ہیں تو آیا ہندوستانی سیکولر مزاج شہری کب تک چشم پوشی اختیار کرے گا ۔ حیرانی تو اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک حکومت کو دوسرا ذمہ دار وزیر مکتوب لکھ کر ٹیپو سلطان جینتی کے بارے میں قابل اعتراض بیان دیتا ہے اور اس کا جواب سادگی سے دیتے ہوئے چیف منسٹر سدارامیا نے صرف اتنا کہا کہ اس طرح کا مکتوب روانہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ دعوت نامہ قبول کرنا یا مسترد کرنا ان کے اختیار میں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایک دستوری عہدہ پر فائز وزیر کو ملک کی تاریخ اور اس کا حصہ رہے مسلم حکمران کے خلاف بے ہودہ الفاظ استعمال کرنے کی پاداش میں کیا فیصلہ کرنا چاہئے ۔ تاریخ دانوں اور سیکولر ملک و دستور ہند کی پاسبانی کا عہد کرنے والوں کو سوچنا ہوگا گذشتہ سال بھی ٹیپو سلطان یوم پیدائش منانے پر سیاسی تنازعہ پیدا کردیا گیا تھا ۔ کرناٹک کے عوام اپنے اس سیکولر حکمراں کی بے حد عزت کرتے ہیں ۔ تعجب اس بات کا ہے کہ آیا انہوں نے اپنے حکمران کے خلاف اٹھنے والی آواز کو اب تک کس طرح برداشت کیا ہے ۔ کسی ثبوت اور شہادت کے بغیر یہ لوگ مسلم حکمرانوں اور مسلم شناخت کے خلاف بیانات دے کر ملک کی فضا کو مکدر کرتے جارہے ہیں ۔ یہ لوگ اس ملک کی تاریخ اور تاریخی حکمرانوں کو نیچا دکھانے میں اپنی ساری توانائی خرچ کررہے ہیں ۔ اب حالات اتنے زیادہ خراب کردئیے جارہے ہیں کہ ان پر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو پھر ان کے حوصلے نہ جانے کس تباہی کی جانب لے جائیں گے ۔۔

 

TOPPOPULARRECENT