Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے

اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے

غضنفر علی خان
پارلیمان کا سرمائی سیشن بغیر کسی سنجیدہ اور بامقصد کارروائی کے گزر گیا۔ سیشن کیا تھا ایک طرفہ تماشا تھا۔ حکومت اپنے رویہ میں کوئی تبدیلی کرنے تیار نہیں ہوئی تو اپوزیشن نے اپنے اڑیل پن کی روش ترک نہیں کی۔ جب بھی پارلیمنٹ یا اسمبلی کا سیشن ہوتا ہے ملک کے عوام یہ امید کرتے ہیں کہ ان کے مفادات ان کی فلاح کی اسکیمات پر بحث ہوگی، قومی اور بین الاقوامی مسائل پر بحث مباحثہ ہوگا، مختلف نقاط نظر سننے کو ملیں گے لیکن ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی سرمائی سیشن ایک دوسرے کی عیب جوئی، تصادم اور آویزش پر ختم ہوگیا۔ 3 ہفتوں سے زیادہ عرصہ تک چلنے والا اجلاس صرف اختلافات کی تلخیاں بڑھانے، الزام اور جوابی الزام لگانے میں بیت گیا۔ اس صورتحال کے لئے جیسا کہ بی جے پی کہہ رہی ہے صرف اپوزیشن پارٹیوں ہی کو مورد الزام نہیں ٹہرایا جاسکتا مگر 60 فیصد غلطی ان جماعتوں کی تھی تو 40 فیصد خامیوں کے لئے بی جے پی کی مودی حکومت کو بھی ذمہ دار ٹہرایا جانا چاہئے۔ حکومت بہرحال حکومت ہوتی ہے اگر اپوزیشن ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دے رہی تھی تو خود حکومت نے ایوان میں مباحث کی راہ ہموار کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ان کی جنگ ہوتی رہی، دونوں فریقین عوامی مسائل پر بحث کرنے کچھ اہم بل پاس کرنے کے بجائے صرف ٹکرائو کا راستہ اختیار کرتے رہے۔ ملک کے کروڑہا عوام دونوں میں انا کی اس بے مقصد جنگ میں دونوں ہی کو ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے ہوئے دیکھتے رہے۔ دونوں ہی نے عوام کو یکسر نظرانداز کردیا۔ کسی نے نہیں سوچا کہ وہ غریب کسان، وہ مزدور، وہ کسی آفس کا کلرک، وہ عام آدمی کس طرح اپنی ہی رقم بینک یا اے ٹی ایم سے نکالنے کے لئے کیسے بینک پر قطاریں باندھے، ’’گویا کشکول گدائی‘‘ یا بھیک کا ٹھیکرا لئے گھنٹوں کھڑا رہا اور آج بھی کھڑا ہے۔ اس آزمائش اور صبر آزما مشکلات کے باوجود عام آدمی کو اس کی اپنی کمائی کے پیسے نہیں مل سکے۔ پارلیمان میں بیٹھے ہوئے ارکان کا کیا ہے، ان وزراء کا کیا بگڑا جو پارلیمنٹ ہائوز میں دھینگامشتی کرتے رہے۔ ان دونوں کو موسم کی سردی بھلا کیوں محسوس ہونے لگی، انہیں نہ تو اے ٹی ایم جانا پڑتا  اور نہ بینکوں کی قطاروں میں کھڑے رہ کر چند روپئے حاصل کرنا تھا۔ نوٹ بندی کے اثرات صرف عام آدمی پر ہی ہوئے۔ راقم الحروف نے کسی دولتمند کو لائن میں کھڑے ہوئے نہیں دیکھا۔ نہ کسی بینک یا اے ٹی ایم کی قطار میں کسی وزیر یا کسی رکن اسمبلی یا پارلیمان کو دیکھا۔ کالا دھن باہر لانے کا یہ کیسا طریقہ ہے جو مودی جی نے ایجاد کیا کہ بینکس کے اصلی چور، کروڑہا اربوں روپئے کالے دھن کی شکل میں رکھنے والے تو اپنی حویلیوں، اپنے آرام دہ گھروں میں بیٹھے رہے۔ آج ایمانداری سے روزی روٹی کمانے والے یا متوسط طبقہ کے وہ لوگ جو دیانتداری سے روپیہ پیسہ جمع کرتے ہیں (جو بہت تھوڑا ہوتا ہے اور ٹیکس بھی ان پر عائد نہیں ہوتا) مصیبت زدگی کی منہ بولتی تصویر بنے رہے۔ گویا مودی جی کا جبری کرنسی کی منسوخی کا فیصلہ ان ہی کمزور اور دیانتدار لوگوں کو سزا دینے کے لئے کیا گیا تھا۔ خدا جانے ابھی کتنے دن اور حکومت ان بے بس عوام کا امتحان لیتی رہے گی۔ کب تک عوام یا عام آدمی ان مصائب کو جھیلتا رہے گا اور اس سے زیاد اہم یہ بات کہ خدا جانے کب اس کے صبر و تحمل کا باندھ ٹوٹ کر کسی سیلاب کی طرح ابل پڑے گا۔ آثار تو یہی نظر آتے ہیں کہ عام آدمی کے صبر کا پیمانے لبریز ہورہا ہے۔ اصل ٹیکس چوروں نے پچھلے دروازوں سے یا بینکوں کے اعلی عہدیداروں کی دیدہ دانستہ غفلت سے ان کی ملی بھگت سے اپنا کالا دھن سفید کرلیا۔ وزیراعظم باربار کہہ رہے ہیں کہ صرف 50 دن صبر کیجئے۔ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ 50 دن عام آدمی اپنی روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مودی جی یا کسی مرکزی وزیر کو خاص طور پر وزیر فینانس ارون جیٹلی کو 50 دن تو کیا 50 ہزار دن بھی آرام سے بغیر کسی تکلیف کے گزارنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ ان تمام سیاست دانوں کے حق میں تو آسائیشوں کے کئی سرچشمے ابل سکتے ہیں۔ ان کے گھروں میں ضروریات ’’ضرورت سے زیادہ مقدار‘’ میں موجود ہوتی ہیں۔ پھر یہ بھی ہوا کہ ریزروبینک آف انڈیا کم و بیش ہر دن ایک نئے اصول کا اعلان کرتا رہا۔ کبھی اے ٹی ایم سے نکالی جانے والی رقم میں کی تو کبھی بینک میں اپنے کھاتے سے نکالی جانی والی رقم۔ توبہ قبول ہوگئی ان بدلتے ہوئے اصولوں سے آر بی آئی بھی اس ناگفتہ حالات کو مزید شدید کرنے میں مساوی طور پر حصہ دار رہا۔ حکومت اپوزیشن اور ذمہ دار سرکاری ادارے عوام سے اتنے بے تعلق ہوگئے کہ وہ صرف قاعدے اور اصول بنانے لگے ہیں۔ اس بات پر کوئی دھیان نہیں دیتا کہ کسی نئے اصول کی وجہ سے بے بس عوام کو کتنی دشواری ہوگئی۔ کیوں اتنے واضح مسائل اور عوامی مصائب کے باوجود پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن یونہی بلاکسی نتیجہ کے ختم بخیر ہوگیا۔ اس غلطی کے لئے کون ذمہ دار ہے۔ اب جبکہ سیشن ہوچکا ہے۔ کم از کم اب اپوزیشن اور حکومت کو غور کرنا چاہئے کہ انہوں نے عوام کے ساتھ کتنی زیادتی کی۔ کیوں وزیراعظم نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ وہ پارلیمان میں اپنی ’’لب بندی‘‘ نہیں ختم کریں گے۔ کیوں حکمران پارٹی نے کبھی وزیراعظم پر اس سلسلہ میں دبائو نہیں ڈالا۔ بی جے پی میں ایک ’’سیاسی عیب‘‘ بڑی تیزی سے پیدا ہوگیا ہے۔ یہ پارٹی بھی ایک شخصیت کو محور بناکر گردش کرنے لگی ہے۔ آج کی بھارتیہ جنتا پارٹی میں کوئی اور لیڈر نہیں ہے جو وزیراعظم سے کچھ کہہ سکے۔ ان کی کسی بھی بات سے اختلاف کرسکے۔ پھر کیوں بی جے پی کانگریس پر الزام عائد کررہی ہے کہ یہاں سونیا گاندھی یا گاندھی پریوار کا ہی سکہ چلتا ہے۔ بی جے پی میں بڑی جرأت کرکے پارٹی کے سینئر لیڈر نے تنقید کی تھی۔ پھر مودی اور ان کے مٹھی بھر کٹر حامیوں نے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی کو بھی خاموش کرادیا یا ہوسکتا ہے کہ پارٹی کے حالات اور اس میں پیدا ہونے والی شخصیت پرستی کو دیکھتے ہوئے اڈوانی نے خاموشی اختیار کرلی۔ یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے لیکن آج پارٹی میں وزیراعظم مودی سے اختلاف رائے کرنا تو دور کی بات ہے انہیں صلاح مشورہ دینے کی بھی پارٹی کے کسی لیڈر میں ہمت نہیں۔ بی جے پی کے کسی لیڈر نے سیشن کے دوران کیوں وزیراعظم کو یہ مشورہ نہیں دیا کہ وہ ایوان میں ڈٹ کر اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیں کیوں کوئی ایک آواز بھی ان کو مشورہ دینے کے لئے نہیں اٹھی۔ پارٹی میں آج وزیراعظم کا جو Cult بن گیا ہے وہ بی جے پی کے لئے آئندہ سخت نقصان دہ ثابت ہوگا۔ 1971 ء کی بات جس کا ذکر وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کیا تھا خود بی جے پی کے لئے بھی قابل غور ہے۔ 1971ء میں سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کی کابینہ کے وزیر فینانس چوان نے بقول نریندر مودی کے تحریراً مشورہ دیا تھا کہ حکومت کو بڑی قدر کی کرنسی کو منسوخ کردینا چاہئے۔ جواب میں آنجہانی اندرا گاندھی نے آنجہانی چوان سے کہا تھا کہ کیا کانگریس پارٹی کو آئندہ چنائو لڑنا نہیں ہے۔ یعنی کرنسی کی منسوخی کے اقدام سے کانگریس اور آنجہانی اندرا جی کو یہ خطرہ محسوس ہوگیا تھا کہ اگر کرنسی کی منسوخی کا قدم اٹھایا گیا تو کانگریس پارٹی چنائو ہار جائے گی۔ اب وزیراعظم خود سوچیں کہ یہ خطرناک فیصلہ تو کرچکے ہیں اس کے اثرات بھی محسوس کررہے ہیں۔ وہ خود طے کریں کہ کرنسی کی منسوخی کا فیصلہ نہ کرکے اندرا جی نے سیاسی تدبر سے کام لیا تھا یا ایسا ہی فیصلہ کرکے وزیراعظم مودی نے اپنی سیاسی بصیرت کا بھانڈا خود ہی پھوڑ لیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT