Tuesday , December 19 2017
Home / مضامین / اتحاد ایئر ویز اور جیٹ ایئر ویز کا اتحاد فضائی نیٹ ورک میں بہتری کی ضمانت

اتحاد ایئر ویز اور جیٹ ایئر ویز کا اتحاد فضائی نیٹ ورک میں بہتری کی ضمانت

ایس ایم بلال
اتحاد ایئر ویز کا جیٹ ایئر ویز میں اسٹریٹیجک سرمایہ کاری دونوں ایئرلائنز کی اس خطے میں ایک بہترین اور خوش آئند عمل کا آغاز ہے  ۔جس میں نیٹ ورک گروتھ ، ریونیو میں اضافہ اور آپریشنل اور قدر و قیمت میں بہتری آنے کے قوی امکانات ہیں ۔ اس بات کا ذکر  ایئر لائنز کے سینئر ایگزیکیٹو نے کیا ۔
بمبئی میں میڈیا کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے جیٹ ایئر ویز کے چیئرمین نریش گوئل ، جیمس ہوگن ، اتحاد ایئر ویز کے پریسیڈنٹ اور چیف ایگزیکیٹو اور جیٹ ایئر ویز کے چیف ایگزیکیٹو کرامر بال نے بھی انڈین کیریئر میں نہایت اہم نتائج سامنے آنے کی باتیں کہیں اور اس سے متعلق دیگر تفصیلات بیان کیں ۔ دونوں ایئرلائنز دوسری ایئرلائنز کے مقابلے ہندوستان سے باہر اور دوسرے مقامات سے ہندوستان تک زیادہ فلائٹس کا اہتمام کرتی ہیں ۔ جس میں ملک کے انٹرنیشنل ایئر ٹریول مارکٹ میں 12 فیصد شیئر کے ساتھ ان فلائٹس کا انتظام و انصرام کرتی ہیں ۔
نومبر 2013 میں اتحاد ایئر ویز نے جیٹ ایئر ویز میں 24 فیصد سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا  ،اس وقت سے دونوں ایئرلائنز نے ہندوستان اور ابوظہبی کے درمیان 9 سے 15 تک ڈائرکٹ روٹ میں اضافہ کیا ہے ۔ کلیدی روٹس پروائڈ با ڈیڈ ایئر کرافٹ اور کچھ مارکٹس میں روزانہ پرواز کرنے والی فلائٹس میں اضافہ کیا گیا ۔
میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے مسٹر گوئل ، مسٹر ہوگن اور مسٹر بال نے کہا کہ فی الوقت 40,000 سیٹس کے ساتھ ہندوستان اور ابوظہبی کے درمیان دونوں ایئرلائنز ہر ہفتہ مشترکہ طور پر پرواز کی سہولت فراہم کرتی ہیں ۔  اسی سہولت کا نتیجہ یہ ہے کہ گیسٹ ٹریلونگ کے لئے ہندوستان اور ہندوستان کے باہر پوری دنیا سے زیادہ بہتر کنکٹویٹی کے متبادل فراہم ہوں گے  ۔
نریش گوئل نے کہا کہ ’’ہمارا اسٹریٹجک اشتراک جو اتحاد ایئر ویز کے ساتھ عمل میں آیا ہے اس میں انٹیگریشن ، جوائنٹ سیلس کوششیں وسائل و ذرائع میں اشتراک اور نالج ٹرانسفر وغیرہ شعبے شامل ہیں ۔ یہ تمام شعبے ایسے ہیں جن میں اشتراک سے نہ صرف ہمارے مہمانوں کو بلکہ ہمارے ملازمین کو بھی معاشی طور پر فائدہ ہوگا‘‘ ۔ اتحاد ایئر ویز کے ساتھ مل کر ہم اس وقت ماہانہ 4300 انٹرنیشنل فلائٹس کا اہتمام کرتے ہیں ۔ ہم اپنے مہمانوں کو دوسری ایئرلائنز کے مقابلے ہندوستان سے اور ہندوستان تک زیادہ فلائٹ فراہم کرتے ہیں ۔ اس میں ڈومسٹک اور گلوبل نیٹ ورک دونوں شامل ہیں ، جس کے ذریعہ ہم نہایت بہترین اور آرام دہ رابطہ کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔
جیٹ ایئر ویز مسلسل اس بات کی کوشش کررہا ہے کہ وہ اپنا ہوم ہَبس بمبئی اور دہلی میں قائم کرے ۔ بمبئی 35 فیصد اور نئی دہلی میں 13 فیصد ٹرانسفر ٹریفک میں اضافہ ہوا ہے ۔
جیمس ہوگن نے کہا کہ پارٹنر شپ کے پہلے سال میں جیٹ ایئر ویز کو کافی اچھی منفعت حاصل ہوئی جو صارفین اور ہندوستانی معیشت کے حق میں زیادہ بہتر ثابت ہوا ۔ ’’اب ہم ہندوستان سے باہر مارکٹ لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں‘‘۔
’’جیٹ ایئر ویز ہمارے لئے ایک بہترین پارٹنر ہے ۔ یہ ہندوستان میں مقبول اور نہایت مضبوط برانڈ کے طورپر جانا جاتا ہے ۔ جس نے نیٹ ورک انفراسٹرکچر ، اور ایک ہنرمند ورک فورس تیار کیا ہے اور ساتھ ہی صارفین کی ایک بڑی تعداد کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے‘‘ ۔
اتحاد ایئر ویز ایک نہایت متحرک سرمایہ کاری کرنے والی فضائی سرویس ہے اور اسٹرٹیجک پارٹنر ہے ۔ ہم نے جیٹ ایئر ویز کو فریش اور فینانشیل استحکام  فراہم کیا ہے ۔ گلوبل نیٹ ورک میں ہم نے اس کی مدد کی ہے ۔ فلائٹ کنکٹیویٹی میں اضافہ کیا ہے اور ساتھ ہی مختلف سرگرمیوں کے ذریعہ اس کی کارگزاری ، اور استعداد بشمول وسائل کے اشتراک میں اس کی معاونت کی ہے ۔
2015 کے پہلے چھ ماہ میں اتحاد ایئر ویز نے کم و بیش 35,000 مہمانوں کو جیٹ ایئر ویز کے نیٹ ورک کو ہندوستان میں اس کے کوڈ شیئر پارٹنر شب کے ذریعہ پہنچانے کا کام کیا ہے ۔ جس میں جیٹ ایئر ویز نے 82,000 مہمانوں کو اتحاد ایئر ویز نیٹ ورک تک پہنچانے کا کام کیا ہے۔
کرامربال نے کہاکہ جیٹ ایئر ویز کا سنگل برانڈ فل سرویس پراڈکٹ اسٹرٹیجی نہایت کامیاب رہا ۔ مسابقتی ماحول میں ہم نے مہمانوں کو اولیت دینے والے فلسفے پر یقین کرتے ہوئے مہمانوں کی بہتر سہولت اور انھیں بہتر اقدار پر مشتمل صحت مند ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہیں ۔ اتحاد ایئر ویز پارٹنر کے دوسرے ممبران اتحاد ایئر ویز ایسٹالیا ، ایئربرلن ، نیکی ، ایئر سربیا ، ایئر سیچلیس اور اتحاد ریجنل ہیں ۔
مسٹر گوگل نے کہا کہ ’’اتحاد ایئر ویز کے ساتھ ہمارا اشتراک اسٹریٹیجک  تعلقات میں نہایت نمایاں رول ادا کرے گا ۔ مستقبل میں ہم نہایت مضبوط بیس بنانے کی سمت میں مسلسل کوشاں رہیں گے ۔ طویل المدتی مفاد کے پیش نظر ایسے فیصلے بھی کئے جائیں گے جو مستقبل میں ہمارے شیئر ہولڈرس کے مفاد میں ہو ۔ ہم اس سلسلے میں لگاتار اپنی کوششیں جاری رکھیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT