Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اتحاد ظاہر کرنے کے لیے اقلیتی عہدیداروں کی کریم نگر تفریح

اتحاد ظاہر کرنے کے لیے اقلیتی عہدیداروں کی کریم نگر تفریح

مسائل کی سماعت لیکن حل نہیں، مقامی افراد کو مایوسی، سکریٹری اور مشیر میں سرد جنگ پھر نمایاں
حیدرآباد۔15 ستمبر (سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کی کارکردگی کے بارے میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کی ناراضگی کے بعد عہدیداروں نے آپس میں بہتر تال میل ظاہر کرنے کے لیے آج ضلع کریم نگر کا دورہ کرتے ہوئے مختلف اقلیتی اداروں اور اوقافی جائیداوں کا معائنہ کیا۔ اس دورے کے موقع پر حکومت کے مشیر اے کے خان اور سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کے درمیان دوریاں اور اختلاف رائے پھر ایک مرتبہ کھل کر سامنے آگیا۔ اطلاعات کے مطابق مختلف امور میں دونوں نے ایک دوسرے کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے میڈیا کے روبرو اپنی سرد جنگ کا ثبوت پیش کردیا۔ بھلے ہی دونوں عہدیدار ایک ساتھ سفر کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے تھے کہ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن کریم نگر پہنچنے تک گاڑی میں اتحاد نظر آیا۔ چیف منسٹر کے دفتر کو یہ پیام دینے کی کوشش کی گئی کہ اقلیتی بہبود کے تمام عہدیدار اے کے خان کی قیادت میں بہتر تال میل کے ذریعہ کام کررہے ہیں۔ حکومت کے مشیر کی حیثیت سے اے کے خان نے اس دورے کی منصوبہ بندی کی تھی اور یہ پہلا موقع ہے جب تمام اہم ا داروں کے اعلی عہدیدار قافلے کی شکل میں کسی ضلع کو روانہ ہوئے۔ کریم نگر میں اوقافی جائیدادوں کا معائنہ کیا گیا۔ اقلیتی اقامتی اسکول اردو بھون اور مسلم شادی خانے کا جائزہ لیا گیا لیکن کوئی بھی اقلیتی ادارہ ضلع میں بہتر طور پر کام کرتا دکھائی نہیں دیا۔ اقلیتی بہبود کی اسکیمات میں سست روی، اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضے اور اقامتی اسکول میں بنیادی سہولتوں کا فقدان جیسے معاملات منظر عام پر آئے۔ بعد میں ضلع کلکٹر سرفراز احمد اور کمشنر پولیس کملاسن ریڈی کے ہمراہ عہدیداروں کا جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ضلع کلکٹر سے خواہش کی گئی کہ وہ اقلیتی اداروں اور ان کی اسکیمات پر خصوصی توجہ دیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دنوں ضلع سے تعلق رکھنے والے صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کو اقلیتی عہدیداروں کی عدم کارکردگی اور باہمی تال میل کی کمی سے واقف کرایا تھا۔ چیف منسٹر نے موجودہ صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا اور ڈپٹی چیف منسٹر کو محکمہ اقلیتی بہبود کی نگرانی کرنے کی خواہش کی۔ حکومت کے مشیر اور سکریٹری اقلیتی بہبود کے علاوہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ ایم اے منان فاروقی اور سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور اس دورے میں شامل تھے۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن شفیع اللہ اس قافلہ میں شامل نہیں ہوئے جبکہ صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن نے عہدیداروں کو اقلیتی اداروں کا معائنہ کرایا۔ اعلی عہدیداروں کے اس دورے سے مقامی افراد میں مایوسی دیکھی گئی کیوں کہ ان عہدیداروں نے سوائے سماعت اور تیقنات کے کچھ نہیں کیا اور سرسری انداز میں معائنہ کرتے ہوئے واپس ہوگئے۔ ان عہدیداروں کے دورے کو مقامی میڈیا نے بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔ پریس کانفرنس میں ایک بھی الیکٹرانک میڈیا کا نمائندہ موجود نہیں تھا۔ صرف چند ایک اردو اخبارات کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ مختلف تنظیموں کے قائدین نے پریس کانفرنس کے موقع کو نمائندگیوں کے لیے استعمال کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیداروں کی ٹیم نے کریم نگر پہنچتے ہی پہلے اردو بھون کا دورہ کیا جہاں کمپیوٹر سنٹر کو عصری بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 10 نئے کمپیوٹرس کے ذریعہ موجودہ سنٹر کو عصری بنایا جائے گا۔ عہدیداروں نے مسلم شادی خانے کا دورہ کیا جو 2004ء میں تعمیر کیا گیا ہے لیکن آج تک بنیاسی سہولتوں کا فقدان ہے۔ حالیہ عرصہ میں اس کی تزئین نو کی گئی تھی جس کے بعد سے چند ایک شادیوں کا اہتمام ہوا ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکول برائے گرلز کے دورے کے موقع پر عہدیداروں کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ابھی تک فرنیچر کا انتظام نہیں کیا گیا اور نہ ہی دیگر بنیادی سہولتیں ہیں۔ اسکول میں طالبات کی تعداد بھی کم دیکھی گئی۔ حکومت کے مشیر نے سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی سے ربط قائم کرتے ہوئے فرنیچر سربراہ کرنے والے ادارے کے بارے میں معلومات حاصل کی اور انہیں فوری اس اسکول کا دورہ کرنے کی ہدایت دی۔ عہدیدار جب گرلز ہاسٹل پہنچے تو وہاں 75 طالبات کی گنجائش والے ہاسٹل میں 40 نام درج رجسٹر پائے گئے لیکن موجود طالبات کافی کم تھے۔ اس ہاسٹل میں بھی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے جبکہ اس سے متصل ایس سی ایس ٹی ہاسٹلس میں بہتر سہولتیں موجود ہیں۔ طالبات کو 3 کیلومیٹر کے فاصلے پر موجود کالج جانا پڑرہا ہے۔ عہدیداروں نے اردو یونیورسٹی کے سنٹر کے قیام کے لیے الاٹ کی گئی 5 ایکڑ اراضی کا بھی معائنہ کیا۔ سنٹر کا سنگ بنیاد 11 نومبر کو مولانا آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر رکھا جاسکتا ہے۔ عہدیداروں نے مسجد عدالت، مدینہ کامپلکس اور انجمن اسلام کامپلکس کی اوقافی جائیدادوں کا دورہ کیا۔ ان تینوں مقامات پر ملگیات اور ان کے کرایہ کے سلسلہ میں تنازعات پائے گئے۔ کمیٹیوں کی تشکیل کے سلسلہ میں بھی مختلف گروپس نے عہدیداروں سے نمائندگی کی۔ مقامی افراد نے بتایا کہ اوقافی اراضیات پر سیاسی باثر شخصیتوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کو ہدایت دی گئی کہ وہ مقامی عوامی نمائندے کی جانب سے قبضہ کی ہوئی اراضی کا معائنہ کریں اور دیگر جائیدادوں کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اس طرح عہدیداروں کی یہ ٹیم سی ای او وقف بورڈ کو چھوڑکر حیدرآباد واپس ہوگئی۔ اس دورے کو بظاہر کامیاب قرار دیا جارہا ہے لیکن مقامی افراد اسے عہدیداروں کی تفریح سے تعبیر کررہے ہیں۔ اس طرح کی مزید تفریحات آنے والے دنوں میں دیگر اضلاع میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

 

TOPPOPULARRECENT