Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / اتراکھنڈ میں خط اعتماد 7 اپریل تک ملتوی

اتراکھنڈ میں خط اعتماد 7 اپریل تک ملتوی

ہائیکورٹ کے حکم التوا کا بی جے پی کا خیرمقدم ، مرکزی حکومت کو راحت رسانی
ننیتال ۔ 30 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اتراکھنڈ کا سیاسی ڈرامہ نے آج ایک نیا موڑ لے لیا جبکہ ہائیکورٹ کی ڈیویژن بنچ نے ایوان اسمبلی میں خط اعتماد حاصل کرنے کی تاریخ 7 اپریل تک کیلئے ملتوی کردی۔ مرکز کو راحت رسانی کرتے ہوئے دو ججس پر مشتمل بنچ نے کل مقرر اکثریت کی آزمائش کو 7 اپریل تک ملتوی کردیا۔ چیف جسٹس کے ایم جوزف کی زیرقیادت بنچ نے مقدمہ کی قطعی سماعت کی تاریخ 6 اپریل مقرر کی ہے۔ برطرف چیف منسٹر ہریش راوت نے ریاست میں صدر راج کے نفاذ کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست رٹ داخل کی ہے۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے مرکز کی پیروی کرتے ہوئے کل کے اتراکھنڈ ہائیکورٹ کے حکمنامہ کی سختی سے مخالفت کی اور کہا کہ عدالتیں صدر جمہوریہ کے اعلامیہ میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ چنانچہ اتراکھنڈ ہائیکورٹ کی بنچ نے کل مقرر اکثریت کی آزمائش 7 اپریل تک اور مقدمہ کی قطعی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کردی۔ اٹارنی جنرل سے خواہش کی گئی کہ 27 مارچ کو صدر راج کے نفاذ کی ایسی کیا جلدی تھی جبکہ ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کی تاریخ اگلے دن مقرر تھی۔ بہتر ہوتا کہ اکثریت کا فیصلہ خط اعتماد پر رائے دہی کے ذریعہ ہوجاتا۔ مرکز کی کارروائی کو درست قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریاست میں غیردستوری تبدیلیاں پیش آئی تھیں جبکہ 18 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس ہوا تھا اور ارکان کی خریدوفروخت جاری تھی۔ مرکز کے بموجب دستوری مشنری مکمل طور پر ناکام ہوگئی تھی۔

مطالبات زر بل کو منظور قرار دیا گیا جبکہ رائے دینے والے 67 ارکان اسمبلی میں سے 35 نے اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو صدر راج کے نفاذ کی وجوہات واضح کرنے کا ایک موقع دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے اظہار حیرت کیا کہ اقتدار کے دو مراکز کیسے ہوسکتے ہیں۔ سینئر قانون داں ابھیشیک مانو سنگھوی نے برطرف چیف منسٹر راوت کی پیروی کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ درخواست رٹ اور اپیل کی درخواستوں کو ہائیکورٹ کی بنچ کی جانب سے سماعت کے بعد ان کی یکسوئی کرنی چاہئے۔ کانگریس حکم التوا پر ناراض ہے اور اس نے منصوبہ بنایا ہیکہ اتراکھنڈ ہائیکورٹ کے احکام کے اس پہلو کو چیلنج کیا جائے۔ جے ڈی (یو) کے صدر شردیادو نے آج مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتراکھنڈ میں صدر راج کے نفاذ کے بعد لوک سبھا میں اپنی ایک غلطی کو چھپانے کیلئے ایک ہزار جھوٹ بول رہی ہے تاکہ اپنی ساکھ برقرار رکھ سکے۔ انہوں نے کہاکہ ہر چیز صبروتحمل کے ساتھ کی جانی چاہئے۔ حدود سے تجاوز نامناسب ہے۔ ملک میں جمہوریت کی خاطر چند اصول اور قواعد مقرر کئے گئے ہیں لیکن بی جے پی نے عاجلانہ بنیاد پر اتراکھنڈ میں خط اعتماد پر رائے دہی سے قبل صدر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ دریں اثناء بی جے پی نے اتراکھنڈ ہائیکورٹ کی ڈیویژن بنچ کی جانب سے کل مقرر خط اعتماد پر رائے دہی کو 7 اپریل تک ملتوی کرنے کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔

 

اتراکھنڈ میں جمہوریت کے قتل کی این ڈی اے
کی حلیف پارٹیوں نے بھی مذمت کی : کانگریس
نئی دہلی ۔ 30 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج کہا کہ اتراکھنڈ میں مرکز میں برسراقتدار پارٹی کی جانب سے ’’جمہوریت کا گلا گھوٹنے‘‘ کی کوشش پر شیوسینا نے بھی بی جے پی پر تنقید کی ہے۔ کل ہند کانگریس نے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ بی جے پی کے بعد مرکز نے مخلوط حکومت کی اور مہاراشٹرا نے مخلوط حکومت کی دوسری سب سے بڑی حلیف شیوسینا نے بھی اتراکھنڈ میں صدر راج کے نفاذ کی مذمت کی ہے۔ پارٹی کے سینئر ترجمان آنند شرما نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ غیربی جے پی حکومتوں کے خلاف ’’گہری سازش‘‘ کرتے ہوئے انہیں غیرمستحکم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ شیوسینا نے جو بی جے پی کی حلیف ہیں، اتراکھنڈ میں صدر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کی ہے۔ بی جے پی نے 9 باغی کانگریس ارکان اسمبلی کو استعمال کرتے ہوئے اتراکھنڈ کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کردیا۔ شیوسینا نے پارٹی کے ترجمان سامنا میں ایک اداریہ تحریر کرتے ہوئے اس سازش کو بے نقاب کیا ہے۔ شیوسینا نے سوال کیا کہ اگر حکومت اکثریت سے محروم ہوگئی تھی تو اس کا فیصلہ ریاستی اسمبلی میں کیا جانا چاہئے تھا۔ گورنر نے اکثریت ثابت کرنے کیلئے 28 مارچ کی تاریخ بھی مقرر کردی تھی لیکن صرف ایک دن پہلے ریاست میں صدر راج نافذ کردیا گیا۔ آخر بی جے پی کو اس کارروائی سے کیا فائدہ حاصل ہوا۔ کانگریس پارٹی اتراکھنڈ میں برسراقتدار تھی جس کے چیف منسٹر ہریش راوت نے 9 باغی ارکان اسمبلی کو پارٹی سے معطل کردیا تھا۔ گورنر نے حکومت کے اقلیت میں آجانے کے اندیشے کے پیش نظر چیف منسٹر راوت کو ہدایت دی تھی کہ وہ 28 مارچ کو ایوان اسمبلی میں اپنی اکثریت کا ثبوت پیش کریں لیکن مرکز کی جانب سے 27 مارچ سے ہی ریاست میں صدر راج نافذ کردیا گیا۔ اس کو اتراکھنڈ ہائیکورٹ نے کانگریس نے چیلنج کیا جس پر واحد رکنی بنچ نے 31 مارچ کو خط اعتماد پر رائے دہی کی ہدایت دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT