Wednesday , December 13 2017
Home / سیاسیات / اتراکھنڈ کیلئے مرکز کا فیصلہ کوڑے دان کی نذر ، شیوسینا

اتراکھنڈ کیلئے مرکز کا فیصلہ کوڑے دان کی نذر ، شیوسینا

نریندر مودی حکومت کیلئے بہت بڑا دھکہ، ہائیکورٹ کے تاریخی فیصلہ کا خیرمقدم
ممبئی ۔ 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اتراکھنڈ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد نریندر مودی حکومت پر ایک اور شدید تنقید کرتے ہوئے این ڈی اے کی اہم حلیف پارٹی شیوسینا نے آج کہاکہ اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے مرکز کے فیصلہ کو کوڑے دان کی نذر کردیا گیا۔ یہ فیصلہ اپنے آپ ایک ’’توہین انگیز‘‘ ہے۔ اتراکھنڈ کے معاملہ میں بیجا مداخلت کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ مودی حکومت کو اتراکھنڈ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد شدید اور سب سے بڑا دھکہ لگا ہے۔ ہائیکورٹ نے کل اپنے سخت ترین فیصلہ میں اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے مرکز کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیاتھا۔ مودی حکومت نے ریاستی امور میں بیجا مداخلت کی تھی۔ عدالت نے اس فیصلہ کے منہ پر طمانچہ مار دیا۔ شیوسینا نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ایک دستوری طور پر منتخب حکومت کو بحال کردیا۔ اس فیصلہ سے صدر جمہوریہ کے دفتر پر بھی آنچ آرہی ہے۔

عدلیہ نے مرکز کے فیصلہ کو یکسر کوڑے دان میں ڈال دیا۔ اس مرکز کے موقف کی نفی بھی ہوئی ہے اور یہ کہ صدرجمہوریہ نے مرکز کی سفارشات کی توثیق بھی کی۔ شیوسینا کے اخبار ترجمان سامنا میں ایڈیٹوریل لکھتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کی ناکامیوں پر شدید تنقیدیں کی گئی ہیں۔ اس کا کہنا ہیکہ عدالت نے صدر راج کے تعلق سے جو احساسات اور تاثرات ظاہر کئے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ صدر جمہوریہ سے کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے۔ ان کی غیردانستہ بھول کا مطلب مرکز کی مودی حکومت نے پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرکے غلطی کی تھی۔ مودی حکومت اپنے ذاتی مقاصد کیلئے صدرجمہوریہ جیسے جلیل القدر عہدہ کے دفتر کا بیجا استعمال کررہی ہے۔ سیاسی فائدہ کیلئے جمہوریت کے اعلیٰ ادارہ کو اس طرح غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ مستقبل میں بھی صدرجمہوریہ کے دفتر کو سیاسی مفادات کی پوجا کا مرکز بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ بہرحال ہائیکورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ ہائیکورٹ نے صدر راج کے نفاذ کو کالعدم قرار دینے کے ساتھ ساتھ مرکز کی بھی سرزنش کی ہے کہ اس نے ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت کو بیدخل کرنے کی کوشش کی تھی۔ شیوسینا مرکز اور مہاراشٹرا دونوں میں بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے مخلوط حکومت میں شامل ہیں، لیکن اپنی حلیف بی جے پی کی ہر کارروائی پر شدت سے تنقید بھی کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT