Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اترپردیش انتخابات کے بعد ملک میں حیدرآباد کے تعلق سے نفرت کی لہر

اترپردیش انتخابات کے بعد ملک میں حیدرآباد کے تعلق سے نفرت کی لہر

مقامی سیاسی جماعت کے قائدین شدید تنقید کا نشانہ ، سیکولر سیاسی جماعتیں بھی بی جے پی سے مرعوب
حیدرآباد۔15مارچ (سیاست نیوز) اتر پردیش انتخابی نتائج کے دور رس اثرات کے متعلق عوامی مباحث کے دوران یہ کہا جانے لگا ہے کہ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار کا حصول ملک بھر میں فرقہ واریت کے علاوہ آمرانہ طرز حکمرانی کے فروغ کا سبب بنے گا لیکن ان حالات کے لئے جو لوگ ذمہ دار ہیں ان پر اس کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے بلکہ وہ تو اپنے بچاؤ کیلئے بی جے پی کو اقتدار کے حصول میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیاب بنانے کیلئے صرف دولت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کچھ ایسی غلطیاں بھی ہیں جن کے افشاء ہوجانے سے ساکھ متاثر ہوتی ہے اسی لئے مرکزی حکومت کو اپنا ہمنوا بنائے رکھنا مجبوری ہے اور ان مجبوریوں کے سبب ہے بدنامی کے باوجود بھی مسلم ووٹوں کی تقسیم کے لئے کوشش کا حصہ بننے والی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لئے ملت کا سودا کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہی ہیں۔ شیر میسور ٹیپو سلطان کی انگریزوں کے خلاف جنگ میں انہیں ریاست دکن حیدرآباد کے حکمراں طبقہ کی حمایت اور مدد حاصل نہ ہونے کے سبب آج بھی میسور اور سری رنگا پٹنم کے علاوہ کرناٹک کے کچھ علاقوں میں دکنی و حیدرآبادی عوام کو غدار کہا جاتا ہے لیکن یہ عمل اس وقت کے حکمراں کا تھا اور عوام کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ اسی طرح اب اتر پردیش انتخابات کے بعد پیدا شدہ صورتحال میں حیدرآباد کے متعلق ملک کے سیکولر طبقہ میں نفرت کی لہر پیدا ہونے لگی ہے اور اس نفرت کا کھل کر اظہار کیا جانے لگا ہے جبکہ اترپردیش کے حالات کے لئے حیدرآبادی عوام ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے چند سیاسی قائدین کے سبب عوام کو نشانہ بنایاجانے لگا ہے۔ ریاست اترپردیش میں انتخابی نتائج نے مہاراشٹرا کے ساتھ ساتھ بہار میں بھی اپنے اثرات دکھانے شروع کردیئے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ناقابل تسخیر سمجھا جانے لگا ہے اور سیکولر سمجھی جانے والی سیاسی جماعتیں بھی بی جے پی سے مرعوب ہونے لگی ہیں ۔ انتخابی نتائج خواہ کچھ ہوں لیکن جو نفرت کی سیاست کے زوال کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے اس کی پابجائی کیلئے طویل عرصہ درکار ہو سکتا ہے۔ فیروز آباد‘ مرادآباد کے علاوہ اترپردیش کے ان علاقوں کے تاجرین جن کا تعلق حیدرآبادی تاجرین سے ہے وہ حیدرآبادیوں کے ساتھ تجارت پر از سر نو غور کرنے کی بات کرنے لگے ہیں جو کہ صورتحال کو اندوہناک بنا سکتا ہے ۔ حیدرآباد میں برتن کی تجارت کرنے والے ایک تاجر نے بتایا کہ اترپردیش انتخابات سے قبل تک ان کی تجارت پر کوئی اثر نہیں تھا لیکن اترپردیش کے انتخابی نتائج نے ان کے کاروبار کو متاثر کیا ہے کیونکہ جو لوگ اپنی تیارکردہ اشیاء کی فروخت کیلئے رابطہ کیا کرتے تھے اب وہ درکار اشیاء روانہ کرنے میں ٹال مٹول کر رہے ہیں۔ ان صنعتکاروں کا احساس ہے کہ حیدرآبادی سیاسی جماعت انتخابات میں نہ ہوتی تو یہ مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ اسی طرح سیکولر ذہن کے حامل اکثریتی طبقہ کے صنعتکار بھی سونچنے لگے ہیںاور یہ کہا جا رہا ہے کہ حیدرآبادی تاجرین سے تجارت میں تخفیف کی جائے اس طرح کی نفرت کو اگر فروغ حاصل ہوتا ہے تو اترپردیش سے جڑے تجارتی بازاروں پر منفی اثرات کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ اترپردیش انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی میں جو عنصر کام کئے ہیں ان میں سب سے اہم فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹوں کی تقسیم تصور کیا جا رہا ہے۔ان مسلم سیاسی جماعتوں کی ایسی کیا مجبوری ہے جس کے سبب انہوں نے نوشتۂ دیوار پڑھے بناء ہی اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرلیا؟ اس سوال پر جاری مباحث کے دوران یہ کہا جا رہا ہے کہ بھاری دولت حاصل کی گئی ہوگی لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ جن لوگوں نے امیدوار کھڑے کئے ہیں ان کے پاس دولت کی فراوانی ہے اور مزید دولت کی حرص کے متعلق کہنا درست نہیں ہے لیکن عوام میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ جماعت کے کالجس یا بینک یا پھر مقدمات ایسے امور ہیں جن کے سبب قائدین مجبور ہیں اور وہ بی جے پی کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔شہر حیدرآباد کے عوام کے درمیان جاری اس گفتگو کے متعلق سیاسی جماعت کے قائدین میں ہلچل پیدا ہونے لگی ہے اور سماجی رابطہ کی ویب سائٹس کے ذریعہ مہاراشٹراکے ساتھ اترپردیش کے حالات عوام تک پہنچنے کے سبب شہریان حیدرآباد بھی ان امور پر غور کرنے لگے ہیں۔اترپردیش کے نتائج نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو جو استحکام بخشا ہے اس کے بعد اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ وزیر اعظم کرنسی تنسیخ کی طرح کوئی بھی آمرانہ فیصلہ کرنے کے موقف میں ہیں اور ان کے اس موقف کو چیالنج کرنے والی کوئی طاقت باقی نہیں رہی۔

TOPPOPULARRECENT