Saturday , November 25 2017
Home / ہندوستان / اترپردیش میں القاعدہ کا کوئی وجود نہیں

اترپردیش میں القاعدہ کا کوئی وجود نہیں

بی جے پی رکن اسمبلی کے سوال پر ریاستی وزیر ، اعظم خاں کا جواب
لکھنو ۔ 15 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ضلع سنبھلی سے وابستہ القاعدہ کے 2 کارکنوں کی گرفتاری کے دو ماہ بعد حکومت اترپردیش نے آج کہا ہے کہ ریاست کے دیگر علاقوں میں عسکریت پسند گروپس کی سرگرمیوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم حکومت مشتبہ افراد پر قریبی نظر رکھی ہوئی ہے ۔ وزیر پارلیمانی امور مسٹر اعظم خاں نے آج ریاستی اسمبلی میں ایک تحریری جواب میں یہ اطلاع دی ۔ جب کہ شیام دیو رائے چودھری ( بی جے پی ) اور اکھلیش پرتاپ سنگھ ( کانگریس ) نے یہ سوال کیا تھا کہ گذشتہ سال ضلع سنبھل میں القاعدہ کے مبینہ کارکنوں کی گرفتاری کے بعد آیا مزید عسکریت پسندوں کی موجودگی کوئی اطلاع دستیاب ہوئی ہے ؟ مسٹر اعظم خاں نے کہا کہ عسکریت پسند گروپس کا پتہ چلانے کے لیے تمام مشتبہ عناصر پر نگرانی رکھی ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حالات مکمل قابو میں ہے ۔ جب بھی کوئی اطلاع ملتی ہے تو حکومت سخت کارروائی کرے گی ۔ گذشتہ سال دسمبر میں دہلی پولیس نے اترپردیش میں ضلع سنبھل کے متوطن ظفر مسعود اور محمد آصف کو القاعدہ برصغیر ہند شاخ سے وابستگی کے الزام میں گرفتار کیا تھا ایک اور ضمنی سوال میں رائے چودھری نے دریافت کیا کہ اترپردیش ریاست آیا القاعدہ کے نشانہ پر ہے اور سوامی پرساد موریہ ( بی ایس پی ) نے استفسار کیا کہ اس مسئلہ پر آیا ریاستی حکومت نے مرکز سے مشاورت کی ہے ۔ مسٹر اعظم خاں نے کہا کہ جب بھی کوئی اطلاع ملتی ہے تو ریاستی حکومت ، مرکز کو فراہم کرتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی مذہب یا انسانیت کسی بھی بے قصور کی ہلاکت کی اجازت نہیں دیتی اور سعودی عربیہ جو کہ اسلام کا مرکز اور منبع ہے نے بھی اس طرح کے واقعات کی مذمت کی ہے ۔ مختلف برداریوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی صرورت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے مفاد میں نہیں ہیکہ کوئی فساد پھوٹ پڑے اور ملک کمزور ہوجائے ۔۔

TOPPOPULARRECENT