Saturday , November 25 2017
Home / سیاسیات / اترپردیش میں تنہا مقابلہ کرنے مایاوتی کا اعلان

اترپردیش میں تنہا مقابلہ کرنے مایاوتی کا اعلان

کانگریس یا بی جے پی کے ساتھ اتحاد خارج از امکان
نئی دہلی ۔ 7 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : بی ایس پی نے آج یہ واضح کردیا ہے کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات 2017 میں کسی بھی جماعت سے مفاہمت نہیں کی جائے گی اور تمام نشستوں پر وہ تنہا مقابلہ کرے گی ۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ واضح کردینا چاہتی ہوں کہ بی ایس پی کسی دوسری پارٹی سے مفاہمت نہیں کرے گی ۔ حتی کہ بی جے پی اور کانگریس سے فاصلہ برقرار رکھے گی اور ہماری پارٹی تمام 403 نشستوں پر تنہا مقابلہ کرے گی ۔ انہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ سماج وادی پارٹی یہ افواہ پھیلا رہی ہے کہ ان کی پارٹی ( بی ایس پی ) بی جے پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرسکتی ہے ۔ سابق چیف منسٹر نے بتایا کہ حال ہی میں میڈیا میں یہ رپورٹس شائع ہوئی ہے کہ بہوجن سماج پارٹی مجوزہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کرسکتی ہے ۔ اسی طرح کی افواہیں سماج وادی پارٹی پھیلا رہی ہے ۔ درحقیقت سماج وادی پارٹی نے ہی بی جے پی کے ساتھ سازباز کرلی ہے اور بہار میں حالیہ اختتام پذیر اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے لیے راہ ہموار کرنے سماج وادی پارٹی ، لالو پرساد یادو اور نتیش کمار کے ساتھ عظیم اتحاد سے باہر نکل گئی تھی ۔ اترپردیش میں حکمران سماج وادی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ ریاست کے حالات سازگار نہیں ہیں اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل رہی ہے ۔ ریاست کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور بہوجن سماج پارٹی کو برسر اقتدار دیکھنے کے خواہش مند ہیں ۔ مرکزی وزیر وی کے سنگھ کے تنازعہ پر انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی پارلیمنٹ اجلاس سے قبل وی کے سنگھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت کوئی کارروائی کرنا نہیں چاہتی ہے جس کے باعث حکومت کے مخالف دلت رویہ ظاہر ہوتا ہے ۔ انہوں نے کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت ہریانہ میں یہ پارٹی برسر اقتدار تھی اس وقت پسماندہ طبقات پر مظالم ڈھائے گئے تھے ۔ گوکہ کانگریس مرکز اور ریاست میں حکمران تھی لیکن دلتوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا اور اب کانگریس سیاسی مفادات کے لیے دلتوں کے مسائل اٹھا رہی ہے ۔ واضح رہے کہ راہول گاندھی کی زیر قیادت کانگریس ارکان پارلیمنٹ مرکزی وزیر وی کے سنگھ کو ان کے ’ کتے ‘ سے متعلق ریمارک پر کابینہ سے برطرفی کے مطالبہ پر پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT