Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / اترپردیش میں جنگل راج ۔ فرقہ وارانہ فسادات سے ابتر صورتحال

اترپردیش میں جنگل راج ۔ فرقہ وارانہ فسادات سے ابتر صورتحال

بہوجن سماج پارٹی ہی اقلیتوں کی محافظ ۔ سابق چیف منسٹر مایاوتی کا ادعا

لکھنؤ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بہوجن سماج پارٹی نے آج 100 سے زائد اسمبلی حلقوں کے لئے امیدواروں کی تیسری فہرست جاری کردی ہے جس میں 24 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ پارٹی نے تاحال 403 اسمبلی نشستوں کے لئے 300 امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے 100 امیدواروں کی پہلی فہرست میں 36 مسلمانوں، دوسری میں 22 اور تیسری میں 24 امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔ چونکہ ریاست کے رائے دہندوں میں مسلمانوں کی تعداد 20 فیصد ہے جس کے پیش نظر مسلم برادری کو خاطر خواہ اہمیت دی گئی ہے۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ جملہ 403 نشستوں کے لئے بتدریج امیدواروں کو قطعیت دی جارہی ہے جس کے مطابق 87 دلتوں، 97 مسلمانوں اور 106 دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کو ٹکٹ دیئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں 113 ٹکٹ اعلیٰ ذاتوں، 66 برہمنوں، 36 کشیریہ اور مابقی دوسروں کو مختص کئے گئے ہیں۔ بی ایس پی سربراہ نے یہ ادعا کیا ہے کہ امیدواروں کا فیصلہ بہت پہلے ہی کرلیا گیا تھا جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ نریندر مودی کے دور حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ تعصب اور امتیاز برتا جارہا ہے۔ مایاوتی نے مسلمانوں کو خبردار کیاکہ سماج وادی پارٹی یا کانگریس کو ووٹ دیا گیا تو صرف بی جے پی کو فائدہ حاصل ہوگا۔ لہذا زعفرانی پارٹی کو بالراست حمایت کرنے سے گریز کریں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ داخلی خلفشار سے دوچار سماج وادی پارٹی اور عوام کی تائید سے محروم کانگریس کے حق میں اپنا ووٹ ضائع نہ کریں۔ انھوں نے کہاکہ مسلمانوں کا انتشار بی جے پی کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا جبکہ مسلم اتحاد، ریاست کے مقدر کو بدل سکتا ہے کیوں کہ 403 میں سے کم ازکم 125 حلقوں میں مسلمان کلیدی رول ادا کرسکتے ہیں۔ دریں اثناء بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر اور سابق چیف منسٹر مایاوتی نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں آئندہ فروری مارچ میں ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں نوٹ کی منسوخی ، وعدہ خلافی اور امن و قانون اہم انتخابی موضوع ہوں گے ۔محترمہ مایاوتی نے آج یہاں پارٹی کے سینئر عہدیداروں اور 403 اسمبلی سیٹوں پر پارٹی کے امیدواروں کی منعقدہ اجلاس میں انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی طرف سے لوک سبھا انتخابات کے دوران ریاست کے عوام سے کئے گئے انتخابی وعدوں کو پورا نہ کرنا، مرکزی حکومت کی نوٹ کی منسوخی کے فیصلے سے ہونے والے عوام کو تمام پریشانیوں اور امن و قانون اہم موضوع میں شامل کئے جائیں گے ۔محترمہ مایاوتی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا انتخابات کے دوران ریاست کے عوام سے تمام طرح کے وعدے کئے تھے لیکن آج تک ایک بھی پورا نہیں کیا گیا۔ مرکزی حکومت کا نوٹ کی منسوخی فیصلہ نہایت تکلیف دہ اور جلدی میں کیا گیا فیصلہ ہے ۔ اس کا خمیازہ بھگتنے کے خوف سے بی جے پی کے رہنما طرح طرح کی بیان بازی اور تمام ہتھکنڈے اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔بی ایس پی کی صدر نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس اسمبلی انتخابات کے دوران ہی طلب کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بجٹ میں کچھ لوک دلکش اعلانات کرکے عام لوگوں کو بہکایا جا سکے ۔ بی جے پی کی مہم جوئی سے لوگوں کو بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے خاندانی اختلاف سے ریاست کا امن و قانون خستہ حال ہے ۔ ترقیاتی کام نہیں ہو رہے ہیں۔ ایس پی اترپردیش میں حکمراں پارٹی ہے اس کی حکمرانی میں جنگل راج اور فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے ریاست بدحالی کے دور سے گزر رہی ہے ۔ اب ایسی حکومت سے نجات حاصل کرنے کا صحیح وقت آ گیا ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے دونوں ہی گروپوں کو معلوم ہے کہ وہ اقتدار میں آنے والے نہیں ہیں۔ یہاں آکسیجن پر چلنے والی کانگریس پارٹی سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے بے تاب ہیں ۔ اس بارے میں بھی عوام کو بیدار اور ہوشیار کرتے رہنے کی ضرورت ہے ۔محترمہ مایاوتی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے دونوں دھڑوں میں سیاسی و انتخابی مجبوری کے تحت اگر توڑ پھوڑ رک جاتی ہے تو بھی اس سے یہاں کی عام لوگوں کا کوئی بھی بھلا ہونے والا نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT