Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / اترپردیش میں پچھلے48گھنٹوں میں 18انکاونٹر‘ اعلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ’’ اپنے بچاؤ میں ہم نے گولی چلائی ہے‘‘۔

اترپردیش میں پچھلے48گھنٹوں میں 18انکاونٹر‘ اعلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ’’ اپنے بچاؤ میں ہم نے گولی چلائی ہے‘‘۔

اترپردیش پولیس نے پچھلے48گھنٹوں میں18انکاونٹرس کئے ہیں ‘ مطلوب مجرمین کی فہرست میں سے 25کو گرفتار بھی کیااور مظفر نگر میں جس مجرم کے سر پر پچیس ہزار کا انعام تھا اس کو ڈھیر کردیا۔

لکھنو۔شہر کے پڑوسی ضلع غازی آباد میں ریاست کی اسپیشل ٹاسک فورس( ایس ٹی ایف) کو اسوقت کامیابی ہاتھ لگی جب اس نے بدنام زمانہ اندرا پال کو ڈھیرکردیا۔ مغربی اترپردیش کے مظفر نگر کے بشمول جملہ 33کیس اس کے خلاف زیرالتوا ء تھے۔ پولیس اور بدمعاشوں کے درمیان میں تازہ جھڑپ ایک روز قبل ریاست کے ضلع کنو گنج میں ہوا ۔

جہاں پر دو پولیس والے بھی اس کاروائی میں زخمی ہوگئے ۔ تاہم مذکورہ مشتبہ مجرمین پولیس کے مطابق بھاگنے میں فرار ہوگئے۔جمعہ کے روز ایک او رانکاونٹر میں پولیس نے دو ایسا مجرمین کو گرفتار کیاجن کے سر پر پچاس ہزار روپئے کا انعام تھا۔ پولیس کے مطابق مذکورہ مجرمین نے پچھلی اتوار کو کاروباری دنیش گپتا کو قتل کرنے کی بات قبول کی ہے۔

ریاست میں ہونے والے سلسلہ وار انکاونٹر کے بچاؤ میں پولیس کے اعلی عہدیداروں بشمول ریاست کے نئے ڈی جی پی او پی سنگھ نے کہاکہ ’’ پولیس نے اپنے بچاؤ میں فائیرنگ کی ہے‘‘۔ مسٹر سنگھ نے اپنی ایک حالیہ پریس کانفرنس میں کہاکہ ’’ انکاونٹر اس وقت رونما ہوتے ہیں جب میں مجرمین کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انکاونٹر ہم اپنے بچاؤ میں کرتے ہیں‘‘۔

جب سے ریاست میںیوگی ادتیہ ناتھ کی زیرقیادت بی جے پی کی حکومت ائی ہے تب سے پچھلے سال مارچ میں 950انکاونٹر ایک سال سے کم کے وقفہ میں ہوئے ہیں۔

دوسوسے زائد لوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے اور تیس سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔اترپردیش پولیس کی اس پالیسی کی وجہہ سے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے پچھلے نومبر میں انکاونٹر میں ہلاک ہونے والی کی تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔

این ایچ آر سی نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہاکہ’’ مذکورہ این ایچ آر سی اترپردیش حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر انکاونٹر میں ہونے والی ہلاکتوں پر مشتمل میڈیا رپورٹس کے پیش نظر سومٹو اختیار کیا ہے‘‘۔

ریاستی حکومت نے تاہم یہ کہا ہے کہ ہر انکاونٹر کے بعد بہتر انداز میں اس کی مجسٹریٹ تحقیقات بھی کرائی گئی ہے۔واضح رہے کہ اسی سال جنوری میں ریاست کی درالحکومت لکھنو سے 450کیلومیٹر کے فاصلے پر ماتھرا کے قریب جاری انکاونٹر کے دوران گولیو ں کے تبادلہ میں ایک اٹھ سال کے معصوم بچی کی موت واقع ہوگئی تھی۔

پولیس ٹیم نے مبینہ مجرمین سے بات چیت کی کوشش کی مگر مجرمین کی گولیا ں چلانا شروع کردیا جس کے نتیجے میں مذکورہ انکاونٹر پیش آیاتھا

TOPPOPULARRECENT