Thursday , September 20 2018
Home / سیاسیات / اترپردیش میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست

اترپردیش میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست

اترپردیش میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست وارناسی ، لکھنو اور آگرہ میں آزاد امیدواروں کی شاندار کامیابی

اترپردیش میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست
وارناسی ، لکھنو اور آگرہ میں آزاد امیدواروں کی شاندار کامیابی
لکھنو ۔ 12 ۔ جنوری (سے است ڈاٹ کام) اترپردیش میں بی جے پی کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب وارنسی اور لکھنو میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں اس کے تائیدی امیدواروں میں سے ایک نے بھی کامیابی حاصل نہیں کی ۔ تاہم پارٹی کو آگرہ میں صرف نشست پر اکتفاء کرنا پڑا۔ وارنسی میں اگرچیکہ وزیراعظم نریندر مودی لوک سبھا کیلئے نمائندگی کرتے ہیں۔ تمام 7 نشستوں پر آزاد امیدواروں نے قبضہ کرلیا۔ جہاں سے بی جے پی نے پہلی مرaتبہ اپنے امیدواروں کو نامزد یا دوسرے امیدواروں کی تائید کی تھی۔ لکھنو جو کہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا آبائی پارلیمانی حلقہ ہے ، آزاد امیدواروں کے ہاتھوں بی جے پی کے تمام 9 امیدواروں کو شکست اٹھانی پڑی ۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں پارٹی کے ناقص مظاہرہ پر بی جے پی کے ریاستی صدر لکشمی کانت باجپائی نے بتایا کہ بیشتر امیدواروں کو پا رٹی کا انتخابی نشان نہیں دیا گیا جس کے باعث انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ وارناسی میں تمام آزاد امیدواروں سنگیتا، شلیندر سنگھ ، راجکمار داس، مسعود حسین، چندرا کشور، شاہنواز علی اور شلیجہ سریواستوا نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے جبکہ لکھنو میں بھی تمام آزاد امیدواروں جگدیش پرساد، پرمود شرما ، روپا دیوی ، سواتی یادو، امیت کمار شکلا، انجم آراء، سنجے کمار ویش اور رینا سنگھانیا نے فتح حاصل کی ہے۔ علاوہ ازیں آگرہ میں بھی بی جے پی کا مظاہرہ بہتر نہیں تھا، جہاں پر پارٹی کی کامیابی صرف ایک نشست تک محدود ہوکر رہ گئی، اگرچیکہ بی جے پی امیدواروں نے پارٹی کے انتخابی نشان پر مقابلہ کیا تھا لیکن آزاد امیدواروں کے آگے وہ ڈھیر ہوگئے ۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کل منعقد ہوئے اور نتائج کا اعلان آج کیا گیا۔ بی جے پی کی شکست فاش پر اترپردیش کے وزیر اور سماج وادی پارٹی لیڈر امبیکا چودھری نے کہا کہ انتخابی نتائج نے بی جے پی کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھول رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی نے بلند بانگ دعوے کئے تھے لیکن وہ عوام کے توقعات پر پوری نہیں اتری، حتیٰ کہ مرکز میں برسر اقتدار آنے کے بعد اترپردیش اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں بھی بی جے پی کو 11 میں سے 9 حلقوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا اور آنے والے دنوں میں بی جے پی کی شکست اس کا مقدر بن جائے گی کیونکہ عوام کو حقیقت سمجھ میں آگئی ہے۔

وارناسی ، لکھنو اور آگرہ میں آزاد امیدواروں کی شاندار کامیابی
لکھنو ۔ 12 ۔ جنوری (سے است ڈاٹ کام) اترپردیش میں بی جے پی کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب وارنسی اور لکھنو میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں اس کے تائیدی امیدواروں میں سے ایک نے بھی کامیابی حاصل نہیں کی ۔ تاہم پارٹی کو آگرہ میں صرف نشست پر اکتفاء کرنا پڑا۔ وارنسی میں اگرچیکہ وزیراعظم نریندر مودی لوک سبھا کیلئے نمائندگی کرتے ہیں۔ تمام 7 نشستوں پر آزاد امیدواروں نے قبضہ کرلیا۔ جہاں سے بی جے پی نے پہلی مرaتبہ اپنے امیدواروں کو نامزد یا دوسرے امیدواروں کی تائید کی تھی۔ لکھنو جو کہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا آبائی پارلیمانی حلقہ ہے ، آزاد امیدواروں کے ہاتھوں بی جے پی کے تمام 9 امیدواروں کو شکست اٹھانی پڑی ۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں پارٹی کے ناقص مظاہرہ پر بی جے پی کے ریاستی صدر لکشمی کانت باجپائی نے بتایا کہ بیشتر امیدواروں کو پا رٹی کا انتخابی نشان نہیں دیا گیا جس کے باعث انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ وارناسی میں تمام آزاد امیدواروں سنگیتا، شلیندر سنگھ ، راجکمار داس، مسعود حسین، چندرا کشور، شاہنواز علی اور شلیجہ سریواستوا نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے جبکہ لکھنو میں بھی تمام آزاد امیدواروں جگدیش پرساد، پرمود شرما ، روپا دیوی ، سواتی یادو، امیت کمار شکلا، انجم آراء، سنجے کمار ویش اور رینا سنگھانیا نے فتح حاصل کی ہے۔ علاوہ ازیں آگرہ میں بھی بی جے پی کا مظاہرہ بہتر نہیں تھا، جہاں پر پارٹی کی کامیابی صرف ایک نشست تک محدود ہوکر رہ گئی، اگرچیکہ بی جے پی امیدواروں نے پارٹی کے انتخابی نشان پر مقابلہ کیا تھا لیکن آزاد امیدواروں کے آگے وہ ڈھیر ہوگئے ۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کل منعقد ہوئے اور نتائج کا اعلان آج کیا گیا۔ بی جے پی کی شکست فاش پر اترپردیش کے وزیر اور سماج وادی پارٹی لیڈر امبیکا چودھری نے کہا کہ انتخابی نتائج نے بی جے پی کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھول رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی نے بلند بانگ دعوے کئے تھے لیکن وہ عوام کے توقعات پر پوری نہیں اتری، حتیٰ کہ مرکز میں برسر اقتدار آنے کے بعد اترپردیش اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں بھی بی جے پی کو 11 میں سے 9 حلقوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا اور آنے والے دنوں میں بی جے پی کی شکست اس کا مقدر بن جائے گی کیونکہ عوام کو حقیقت سمجھ میں آگئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT