Thursday , November 23 2017
Home / سیاسیات / اترپردیش میں 22 مسلمانوں نے ہندو مذہب اختیار کر لیا

اترپردیش میں 22 مسلمانوں نے ہندو مذہب اختیار کر لیا

لکھنؤ ۔ 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے فیض آباد شہر میں 22 مسلمانوں نے ہندو مذہب اختیار کر لیا ہے۔مذہب تبدیل کرنے کی تقریب ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے ایک مقامی لیڈر کی نگرانی میں ہوئی۔واضح رہے کہ آر ایس ایس اس عمل کو ‘گھر واپسی’ کا نام دیتی ہے۔’گھر واپسی’ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کا ایک اہم پروگرام ہے اور اس کے سربراہ موہن بھگوت کئی مرتبہ اس کا دفاع کر چکے ہیں۔فیض آباد شہر اجودھیا سے ملا ہوا ہے جہاں واقع تاریخی بابری مسجد کو سنہ 1992 میں ہندو کارسیوکوں یا رضاکاروں نے مسمار کردیا تھا۔ یہ تقریب آریہ سماج کے ایک مندر میں کی گئی۔مذہب تبدیل کرنے والوں کا کہنا ہیکہ انھیں نہ کوئی لالچ دیا گیا اور نہ ان کے ساتھ کوئی زور زبردستی ہوئی۔ان کے مطابق ان کے گھر والے تقریباً 25 سال پہلے مسلمان ہوگئے تھے اور اب وہ اپنی مرضی سے دوبارہ ہندو مذہب میں داخل ہوگئے ہیں۔مذہب تبدیل کرنے والوں میں سے ایک لال محمد ہیں۔ وہ کہتے ہیں ‘ہمارے والد ہندو مذہب پر عمل کرتے تھے، بیچ میں کسی وجہ سے بہکاوے میں آ کر وہ مسلمان ہوگئے اور ہمارا نام لال محمد رکھ دیا، اب ہم اسی مذہب میں دوبارہ شامل ہوگئے ہیں جسے ہمارے والد پہلے مانتے تھے اور ہم نے اپنا نام لال من رکھ لیا ہے۔’آر ایس ایس اور دیگر ہندو قوم پرست تنظیموں کا موقف ہے کہ ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو تلوار کے زور پر مسلمان بنایا گیا تھا اس لیے انھیں دوبارہ ہندو بنانے کی کوششیں غلط نہیں ہیں۔آر ایس ایس کے مقامی پرچارک کیلاش چندر سری واستو نے کہا کہ اسلام چھوڑنے والے سبھی افراد نے اپنی مرضی سے ہندو مذہب اختیار کیا ہے۔ ‘ان افراد کے گھر والوں نے کسی وجہ سے اسلام قبول کر لیا تھا اب یہ گھر واپس آ رہے ہیں اس لیے گھر واپسی پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔’اس سے پہلے آگرہ میں بھی کچھ مسلمانوں نے ہندو مذہب اختیار کیا تھا لیکن اس وقت کافی تنازع ہوا تھا اور علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔اب آگرہ کے قریب واقع علی گڑھ میں تقریباً دو ہزار دلتوں نے دھمکی دی ہے کہ اونچی ذات کے ہندوؤں نے ان کے ساتھ زیادتیاں بند نہیں کیں تو وہ اسلام قبول کرلیں گے۔

TOPPOPULARRECENT