Monday , June 25 2018
Home / ہندوستان / اترپردیش میں 2300 مدرسوں کے وجود کو خطرہ لاحق

اترپردیش میں 2300 مدرسوں کے وجود کو خطرہ لاحق

ویب سائٹ پر تفصیلات کی عدم پیشکشی، فرضی قرار دینے وزیر اقلیتی بہبود کا انتباہ
لکھنو۔3 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے وزیراقلیتی بہبود نے آج کہا کہ اس ریاست کے 2,300 دینی تعلیمی مدرسوں کو یو پی مدرسہ بورڈ کے ویب سائٹ پر تفصیلات پیش نہ کرنے کے سبب اپنی مسلمہ حیثیت سے محروم ہوجانے کا خطرہ ہے۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے کابینہ وزیر اقلیتی بہبود لکشمی نارائن چودھری نے کہا کہ دیگر محکمہ اقلیتی بہبود اب ایسے مدرسوں کو فرصی/ جعلی تصور کرنے کی ایک تجویز پر غور کررہا ہے۔ چودھری نے پی ٹی آئی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’’اترپردیش میں 19,108 مدرسے ہیں جنہیں ریاستی مدرسہ بورڈ کی طرف سے مسلمہ حیثیت دی گئی ہے۔ جن کے منجملہ 16,808 مدرسے بورڈ کے ویب سائٹ پر اپنی تفصیلات پیش کرچکے ہیں۔ دیگر 2,300 مدرسے تفصیلات پیش نہیں کئے ہیں۔‘‘ چودھری نے مزید کہا کہ ’’اب یہ مدرسے کہاں ہیں؟ ہم انہیں ’فرصی‘ تصور کرتے ہیں۔ یہ امکان بھی ہے کہ اواخر جنوری تک ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘‘ تاہم انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں مدرسوں کی طرف سے تفصیلات کی فراہمی کے لیے ریاستی حکومت اواخر ماہ تک انتظار کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ریاستی حکومت کی طرف سے مسلمہ ایسے مدرسے جو ویب سائٹ پر اپنی صحیح تفصیلات پیش نہیں کرسکے ہیں کسی دشواری کا سامنا کرنے کی صورت میں حکومت سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ اگر وہ اپنے مسائل بتائیں گے، انہیں حل کرنے کے لیے ہم مدد کریں گے۔‘‘ تاہم وزیر اقلیتی بہبود لکشمی نارائن چودھری نے یہ بھی واضح کردیا کہ کسی بھی رجسٹرڈ مدرسہ کے طالب علم کو امتحان میں رجوع ہونے کے موقع سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ انہو ںنے کہا کہ ’’مدرسوں کی تفصیلات پیش کرنے کی مہلت میں متعدد مرتبہ توسیع کی گئی۔ 15 جولائی 2017ء، 30 جولائی 2017ء اور 15 اگست 2017 کو توسیع دی گئی تھی۔ لیکن حیرت ہے کہ ان 2300 مدرسوں کا کوئی بھی طالب علم پرنسپال منیجر یا کوئی اور ذمہ دار ہم سے رجوع نہیں ہوا۔‘‘ چودھری نے اپوزیشن جماعتوں پر اس مسئلہ کو سیاسی موڑ دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مدرسوں میں باقاعدہ تعلیمی نظام کو یقینی بنانا حکومت کا مقصد ہے۔ اس دوران مدرسہ بورڈ کے رجسٹرار راہول گپتا نے کہا کہ محکمہ جاتی ویب سائٹ پر تفصیلات کی پیشکشی کی مدت ختم ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں ان 2300 مدرسوں کے رجسٹریشن منسوخ و کالعدم کردیئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT