Tuesday , October 23 2018
Home / Top Stories / اترپردیش میں 44 ہزار کروڑ کا خسارہ بجٹ پیش، نیا ٹیکس نہیں

اترپردیش میں 44 ہزار کروڑ کا خسارہ بجٹ پیش، نیا ٹیکس نہیں

لکھنؤ 16 فروری (سیاست ڈاٹ کام) اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ حکومت نے آج اسمبلی میں رواں مالی برس19۔2018 کے لئے 4,28,384.52کروڑ روپے کا بجٹ متعارف کرایا۔ یہ یوگی حکومت کا دوسرا بجٹ ہے جو 44,053.32 کروڑ کا خسارہ بجٹ ہے لیکن کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔ بجٹ کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ یہ 2019 کے عام انتخابات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تیا ر کیا گیا ہے۔ بہت سے نئے منصوبوں کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔ وزیر فینانس راجیش اگروال نے چیف منسٹر یو گی کی موجودگی میں بجٹ پیش کیا ۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے اس سال بجٹ میں 60 ہزار کروڑ ر زائد روپیوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ وزیر فینانس نے ایوان میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ اِس بجٹ کی جسامت 4 لاکھ 25 ہزار کروڑ روپئے سے زائد ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابل 11.4 فیصد برتر ہے۔ اِس بجٹ میں بندیل کھنڈ اکسپریس پراجکٹ کے لئے 650 کروڑ روپئے کی گنجائش رکھی گئی ہے جبکہ گورکھپور لنک اکسپریس وے پراجکٹ کے لئے 550 کروڑ روپئے، پوروانچل اکسپریس وے کے لئے ایک ہزار کروڑ اور آگرہ ۔ لکھنؤ اکسپریس وے کے سلسلہ میں 500 کروڑ روپئے کی بجٹ گنجائش مختص کی گئی ہے۔ تمام سرکاری دفاتر میں ای آفس سسٹم کے لئے 30 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے اور 250 کروڑ روپئے کا اسٹارٹ اپ فنڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ برقی شعبہ کی اسکیمات کے لئے 29,883 کروڑ روپئے الاٹ کئے گئے جبکہ 1,500 کروڑ روپئے کمبھ میلہ 2019 ء (الہ آباد) کے لئے رکھا گیا۔ اسی طرح گاؤ شالہ اور بے سہارا پشو آسرا یوجنا کے لئے 98.5 لاکھ روپئے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ محکمہ ابتدائی تعلیم کے لئے 18.167 کروڑ روپئے سروو سکھشا ابھیان کے لئے رکھے گئے ہیں۔ پہلی تا آٹھویں جماعت کے تمام طلبہ کو مفت کتابیں اور یونیفارم کی فراہمی کے لئے ترتیب وار 76 کروڑ اور 40 کروڑ روپئے فراہم کئے جائیں گے۔ مڈ ڈے میل کے لئے 2,048 کروڑ روپئے اور اسٹوڈنٹس کو میوؤں کی تقسیم کے لئے 167 کروڑ روپئے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ حکومت نے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے زیرانتظام اسکولوں میں فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے بھی 500 کروڑ روپئے کی گنجائش رکھی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT