Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اترپردیش کے انتخابات ملک کی سیاست کو نیا رخ دیں گے

اترپردیش کے انتخابات ملک کی سیاست کو نیا رخ دیں گے

سیاسی پارٹیاں کامیابی کو یقینی بنانے نچلے درجہ کی حرکتیں کررہی ہیں
حیدرآباد۔17جنوری (سیاست نیوز) اتر پردیش انتخابات ملک کی سیاست میں نئی کروٹ لا سکتے ہیں لیکن ان انتخابات میں کامیابی کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے جو نچلے درجہ کی حرکتیں سیاسی جماعتیں کرنے لگی ہیں اس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی بلکہ شائد حصول اقتدار کیلئے دشمن ملک کی مفرور شخصیتوں کا استعمال تک اپنے مفاد کیلئے کیا جانے لگا ہے۔پاکستان میں پیدا ہونے والے تارک فتح کو ہندستانی ذرائع ابلاغ میں ترقی پسند مسلمان کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس کا استعمال کیا جانے لگا ہے اور اس شخص کو ایک نظریہ ساز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو شرعی قوانین کے خلاف لب کشائی کی نہ صرف جرا ٔت کرتا ہے بلکہ برسرعام ہم جنس پرستی کی تائید کرتا ہے۔ اتنا ہی نہیں شیطانی کلمات کے مصنف سلمان رشدی کے نظریات کے ماننے والے طور پر خود کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سرزمین ہندستان پر نوجوانوں کو آزاد خیالی کے نام پر گمراہی کا شکار بنا رہا ہے ۔اس شخص کو مخالف اسلام نظریات اور مودی کے نظریات سے ہم آہنگی کے سبب کافی شہرت حاصل ہوئی ہے اور کینیڈا کی شہریت رکھنے والے تارک فتح کا دعوی ہے کہ وہ پاکستان میں پیدا ہونے والے ہندستانی شہری ہیں ۔ حالیہ عرصہ میں نریندر مودی کے بلوچستان کے متعلق ریمارک کے بعد تراک فتح نے خوب بڑھ چڑھ کر مودی کی حمایت کی اور ٹیلی ویژن چیانلوں پر مباحث میں حصہ لیا۔ اسی طرح اس شخص کو ترقی پسند کے طور پر پیش کرتے ہوئے آزاد خیال مسلمان قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ اس کے کسی بھی نظریہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سابق میں تسلیمہ نسرین کو بھی اسی طرح سے پیش کیا جاتا رہا کہ وہ ایک آزاد خیال مصنفہ ہے اور وہ مسلم خواتین کی نظریاتی ترقی اور آزاد خیالی کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ تارک فتح بھی ایک ترقی پسند اور آزاد خیال مصنف و صحافی کی حیثیت سے اپنی شناخت بنانے میں ناکام ہونے کے بعد پاکستان میں گرفتار کیا گیا اور اس گرفتاری کے بعد اس شخص نے کچھ وقت کیلئے سعودی عرب میں زندگی گذاری لیکن اس کے بعد کینیڈا کی شہریت اختیار کرنے کے بعد کھل کر اپنے مشن پر گامزن ہوگیا اور فی الحال ہندستان میں اپنے نظریات کی غلاظت کو پھیلانے میں مصروف ہے۔ تارک فتح کے نظریات کو فروغ دینے کیلئے جو لوگ سرگرم ہیں ان میں کچھ آر ایس ایس نواز تنظیمیں بھی شامل ہیں جو اس شخص لکچرس مختلف جامعات میں منعقد کرواتے ہوئے اس کے نظریات کو یونیورسٹی طلبہ کے ذہنوں میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تارک فتح نہ صرف متنازعہ مصنف ہے بلکہ اس شخصنے توہین اسلام کے علاوہ فکری گندگی کو پیدا کرنے کا مرتکب ہے لیکن اب ایسے لوگوں کے نظریات کا استعمال مسلمانوں میں رخنہ ڈالنے کے لئے کیا جانے لگا ہے ایسی صورت میں انتہائی چوکسی اختیار کرتے ہوئے نوجوانوں کو حالات سے باخبر کرنے کی ضرورت ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT