Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / اترپردیش ۔ مجوزہ انتخابات اور سیاسی سرگرمیاں

اترپردیش ۔ مجوزہ انتخابات اور سیاسی سرگرمیاں

غضنفر علی خان

اترپردیش کے ہر الیکشن کو ملک میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ ہماری سب سے بڑی ریاست ہے۔ یہاں جس پارٹی کو اسمبلی یا پارلیمان میں زیادہ سیٹیں ملنی ہیں اقتدار اس کے ہاتھ ہوتا ہے۔ اس وقت اترپردیش میں اسمبلی چناؤ ہونے کو ہے۔ لہٰذا بشمول کانگریس اور بی جے پی دونوں علاقائی پارٹیاں بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی یہاں سبقت حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے اس کے پاس کوئی انتخابی موضوع یا مسائل نہیں ہے۔ وہ ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔ کالادھن واپس لانے سے لیکر عام آدمی کی زندگی سے راست تعلق رکھنے والے مسئلہ مہنگائی کی یکسوئی میں مودی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ اب سرد ہوچکا ہے لیکن اب بھی بی جے پی یہی باور کرتی ہے کہ اترپردیش کے رائے دہندوں کو مذہب اور دھرم کے نام پر تقسیم کرکے، ہندو مسلم فساد یا فساد جیسی صورتحال پیدا کرکے وہ اترپردیش کے ہندو ووٹرس کو حاصل کرسکتی ہے۔ اس کام کی انجام دہی میں قومی پارٹی کانگریس بی جے پی کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ یہاں بی جے پی کو دونوں علاقائی پارٹیوں (بہوجن سماج، سماج وادی پارٹی) سے سخت مقابلہ ہے۔ کانگریس اس ریاست میں ہونے والے انتخابات تمام قیاس آرائیوں کے بموجب چوتھے نمبر پر ہے۔ پہلے اور دوسرے نمبر دونوں علاقائی پارٹیاں اپنا اپنا مقام طئے کریں گی اور اگر حالات یہی رہے تو تیسرے نمبر پر بی جے پی اور چوتھے نمبر پر کانگریس پارٹی کے ہونے کے امکانات ہیں لیکن یہ کوئی قطعی صورت نہیں ہے اس میں کوئی بھی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اترپردیش میں نمبر ایک انتخابی پوزیشن کے حصول کیلئے بہوجن سماج اور سماج وادی پارٹی میں سخت مقابلہ ہے۔ یہ دونوں جماعتیں فی الوقت بی جے پی سے زیادہ مقبول ہیں لیکن ان کی اسی مقبولیت نے اترپردیش کے سیاسی منظر کو گنجلک اور پیچیدہ بنادیا ہے۔ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا ہیکہ ان دونوں میں کیا کوئی مفاہمت (انتخابی) ہوگی یا دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔ انتخابی مفاہمت کے امکانات نہیں ہیں۔ ان کے درمیان مقابلہ ہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ دونوں کے سیکولر ہونے پر کوئی شبہ نہیں ہے۔ کم از کم بی جے پی جیسی کٹر پارٹی کے مقابلہ میں بہوجن سماج اور ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی پر اعتبار سے سیکولر پارٹیاں ہیں۔ بی جے پی کو اس بات کا اندازہ ہیکہ اس کا اصل مقابلہ  ان ہی علاقائی پارٹیوں سے ہے۔ اس لئے ووٹرس کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی ہر ممکن کوشش بی جے پی کی جانب سے کی جارہی ہے۔ مظفرنگر کے بھیانک فسادات کے بعد کیرانہ میں بھی اسی تقسیم کی کوشش کی گئی۔ یہ پروپگنڈہ کیا گیا کہ کیرانہ سے ہندو ترک مقام کرنے پر مجبور کئے جارہے ہیں اور بڑی تعداد میں ہندو اپنا مقام چھوڑ کر اترپردیش کے دوسرے اضلاع میں منتقل ہوگئے ہیں جو جھوٹ بات ثابت ہوئی۔

اترپردیش کے ریاستی بی جے پی لیڈروں نے مسلم اقلیت کو ڈرانے کی بھی بہت کوششیں کی گئیں کہا گیا کہ ہم مسلمانوں کا ہندوستان سے صفایا کریں گے تو کہیں کہا گیا کہ ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ نہ کہنے والوں کو ملک چھوڑ دینا چاہئے لیکن بی جے پی کی ہر کوشش کے منفی اثرات ہوئے۔  اترپردیش خاص طور پر کثیر مسلم آبادی رکھنے والے اضلاع میں مسلمانوں کی بی جے پی سے بدگمانی جو پہلے ہی سے تھی بڑھ گئی اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر یہی ووٹ دونوں علاقائی پارٹیوں کے حق میں چلے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اترپردیش میں مسلم ووٹ کم از کم 126 حلقوں میں فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں۔ اسی لئے آج مسلم ووٹ کے حصول کیلئے ہر پارٹی بھرپور کوشش کررہی ہے۔ سوال یہ ہیکہ بی جے پی کے مقابلے میں کیا مسلمانوں کے پاس کوئی متبادل ہے۔ قومی سطح پر بی جے پی کے مدمقابل اگر کوئی سیاسی تنظیم یا پارٹی کھڑے ہوسکتی ہے تو وہ تنظیمی لحاظ سے صرف کانگریس ہے لیکن کانگریس کا سارے ملک میں برا حال ہے۔ مسلم اقلیت کیلئے یہ ضروری ہیکہ وہ اپنا ووٹ مختلف سیکولر پارٹیوں کے درمیان تقسیم ہونے نہ دیں۔ کانگریس یو پی میں اپنے لئے نیا چہرہ تلاش کررہی ہے کیونکہ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے چہرے کوئی Impact گہرا تاثر نہ چھوڑ سکے۔ پارٹی کے لئے نئے چہرہ کے طور پر پرینکا گاندھی کو ابھارا جارہا ہے۔ کانگریس کی مجبوری یہ ہیکہ وہ نہرو گاندھی خاندان کی وراثت کے بوجھ سے کبھی خود کو آزاد نہ کرسکی۔ پرینکا گاندھی ایک طرح سے اترپردیش میں کانگریس پارٹی کا آخری حربہ ہیں لیکن سوال یہ ہیکہ اگر پرینکا گاندھی بھی کانگریس پارٹی کو اترپردیش میں کامیاب نہ کرا سکیں تو پھر کیا ہوگا۔ وہ کانگریس کا آخری ہتھیار ہیں اور جس شدت کے ساتھ اترپردیش میں سیاسی پارٹیاں زور لگا رہی ہیں اس سے یہ امید بہت کم ہے کہ پرینکا گاندھی کوئی بڑا فرق پیدا کرسکیں گی۔ مشکل یہ ہیکہ کانگریس کیلئے ان کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں ہے۔ سیکولر ووٹ کا حصول کانگریس کبھی حق رہا ہوگا لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے۔ بہار جو ملک کی دوسری بڑی ریاست ہے وہاں تمام سیکولر پارٹیوں کے اتحاد نے بی جے پی کو انتخابات میں شرمناک شکست دی تھی۔ اگر اترپردیش میں بھی سیکولر پارٹیاں بہار کے تجربہ کا عادہ کریں تو فرقہ پرست بی جے پی پارٹی کو ہرا سکتی ہیں چونکہ سیاسی پارٹی کے ناطے اترپردیش میںکانگریس سیاسی طاقت نہیں رہی اس لئے پارٹی کو دیگر سیاسی پارٹیوں بالخصوص سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ سیکولر محاذ میں شامل ہونا پڑے گا۔ سیکولرازم کی ٹھیکہ داری سے کانگریس کو دستبردار ہوتے ہوئے ملک کے سیکولرازم کی بقاء کی خاطر کانگریس کو یہ قربانی دینی پڑے گی۔ دونوں علاقائی پارٹیوں کو بھی اپنی انا کو ختم کرتے ہوئے کوئی ایسا مفاہمیت فارمولہ تلاش کرنا پڑے گا کہ ریاست کا سیکولر ووٹ بٹنے نہ پائے۔ بی جے پی کو صرف ایک ہی طبقہ کے ووٹ مل سکتے ہیں مسلم ووٹ بینک میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اگر یہ ووٹ بینک متحد رہ کر سیکولر پارٹیوں کے حق میں ووٹ استعمال کرے تو اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی نہیں ملے گی جن کا وہ خواب دیکھ رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT