Thursday , November 23 2017
Home / اداریہ / اترکھنڈ حکومت کی بحالی

اترکھنڈ حکومت کی بحالی

عدالت سے اس کو ملی رستگاری
رہی پُرخطر جس کی تقصیر جامع
اترکھنڈ حکومت کی بحالی
اترکھنڈ میں بالآخر عوام کی منتخبہ حکومت کو بحال کردیا گیا ہے ۔ اترکھنڈ ہائیکورٹ نے مرکز کی جانب سے ریاست میںصدر راج نافذ کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا ہے اور ہریش راوت کی قیادت والی حکومت کو بحال کردیا گیا ہے ۔ ہائیکورٹ نے ہریش راوت حکومت کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ 29 اپریل کو ایوان اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کردکھائے ۔ عدالت میں ہریش راوت کی درخواست پر مسلسل سماعت کی جا رہی تھی اور دو دن مسلسل سماعت کے بعد بالآخر عدالت نے مرکز کی جانب سے صدر راج کے نفاذکے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عوام کی منتخب کردہ ہریش راوت حکومت کو بحال کرنے کے احکام جاری کردئے ۔ عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے دوران بھی مرکزی حکومت کے خلاف کئی ریمارکس کئے گئے تھے اور یہ ریمارک اور تبصرہ بھی کیا گیا تھا کہ صدارتی اعلامیہ کی اجرائی بھی عدالتی نظرثانی کی متقاضی ہوسکتی ہے ۔ عدالتی ریمارکس کا تسلسل بالآخر اس کے فیصلے پر ٹوٹا اور عدالت نے قانونی جواز اور حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے صدر راج کے نفاذ کو کالعدم قرار دیدیا ۔ جہاں اس فیصلے کا معذول چیف منسٹر ہریش راوت نے خیر مقدم کیا ہے وہیں بی جے پی کی جانب سے اشارے مل رہے ہیں کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائیگی ۔ خود مرکزی حکومت کے وکیل نے اترکھنڈ ہائیکورٹ میں زبانی استدعا کی تھی کہ اس فیصلے پر حکم التوا جاری کیا جائے تاکہ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جاسکے ۔ یہ استدعا بھی مسترد کردی گئی کیونکہ ایسی کوئی مثال نہیں ہے کہ کسی عدالت نے خود اپنے ہی فیصلے پر حکم التوا جاری کیا ہو۔ اترکھنڈ ہائیکورٹ کی رولنگ کے بعد ایک طرح سے سیاسی کھیل کا خاتمہ ہوا ہے اور یہاں مرکزی حکومت و بی جے پی کو سیاسی کھیل میں مات کھانی پڑی ہے ۔ یہ سیاسی مات حکومت کیلئے جھٹکے اور دھکے سے کم نہیں ہے کیونکہ مرکز نے یہاں حکومت کی ذمہ داری اور اس کے غیر جانبدار رویہ کو اختیار کرنے کی بجائے سیاسی کھیل کا حصہ بن گئی تھی اور اپوزیشن جماعت کی حکومت کو نشانہ بناکر اسے بیدخل کردیا تھا ۔ اس سے قبل بھی اپوزیشن کانگریس کی ایک ریاستی حکومت کو بیدخل کردیا گیا تھا اور وہاں بی جے پی نے اقتدار پر قبضہ جمالیا ۔
جیسے ہی عدالت کا فیصلہ آیا بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ذمہ داران اور حکومت کے مشیران بھی سرگرم ہوگئے ہیں اور وہ کسی طرح بھی اس فیصلے پر حکم التوا حاصل کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کوئی شخصی لڑائی یا انا پرستی کا مسئلہ نہیں ہے جس پر مرکزی حکومت کو اس طرح کی جلد بازی دکھانے کی ضـرورت ہے ۔ عدالتی فیصلے کا جائزہ لینے اور قانون کی مطابقت کو دیکھتے ہوئے اس کو قبول کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کے وفاقی ڈھانچہ اور کردار اور دستوری حدود کو قبول کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس فیصلے کے خلاف اگر واقعی قانونی گنجائش ہو تو اپیل کی جاسکتی ہے لیکن اس کو محض دستور اور قانون تک محدود رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس کو سیاسی لڑائی کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے اورمرکزی حکومت یا بی جے پی اس کو سیاسی لڑائی کے طور پر لڑتی دکھائی دے رہی ہے ۔ یہ طریقہ کار ملک کے حکمرانی کے معیارات اور اخلاقی تقاضوں کے مغائر ہے ۔ اگر مرکز میں آپ کی حکومت ہے تو آپ ریاستوں پر بھی کسی بھی طریقہ سے اقتدار حاصل کرنے میں حق بجانب نہیں ہوسکتا ۔ ریاست ہو یا مرکز ہو ہر جگہ اقتدار عوام کے ووٹ سے حاصل ہوتا ہے اور جمہوریت کا یہی طرہ امتیاز ہے کہ ملک کے عوام کا جو فیصلہ ہوتا ہے ‘ چاہے وہ کسی کے حق میں ہو یا کسی کے خلاف ہو ‘ وہی سب کیلئے قابل تعمیل ہوتا ہے ۔ اترکھنڈ کی حکومت کو بھی ریاست کے عوام نے اپنے ووٹ سے منتخب کیا تھا اور اس حقیقت کو مرکز کو قبول کرنا چاہئے تھا ۔ یہ وفاقی اقدار کے مطابق عمل ہوتا لیکن این ڈی اے حکومت نے ایسا نہیں کیا ۔
اقتدار حاصل کرنا ہر جماعت کا خواب ہوتا ہے ۔ چاہے وہ کسی شہر کے کا رپوریشن پر ہو ‘ چاہے کسی ریاست کی حکمرانی ہو یا ملک کی حکمرانی ہو۔ ہر جماعت چاہتی ہے کہ اسے اقتدار ملے اور وہ ترقی کے منصوبوں کے ساتھ کام کرے ۔ تاہم اقتدار حاصل کرنے کیلئے غلط راستوں کو اختیار کرنا جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے ۔ ہندوستانی جمہوریت کو دنیا بھر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے ۔ ہماری جمہوریت دنیا کی دوسری سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس کے ساتھ مذاق نہیں کیا جانا چاہئے ۔جمہوری اصولوں سے کھلواڑ نہیں ہونا چاہئے ۔ ملک میں وفاقی طرز حکمرانی ہے اور اس کا بھی پاس و لحاظ ہونا چاہئے ۔ اسکی ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور مرکز کو چاہئے کہ وہ ریاستی حکومتوں کو نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے کی بجائے ان کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے تاکہ ریاستوں کی ترقی کو یقینی بناتے ہوئے قومی ترقی میں مدد حاصل کی جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT