Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / اترکھنڈ میں صدر راج کی برخواستگی کے فیصلے پر 27 اپریل تک حکم التوا

اترکھنڈ میں صدر راج کی برخواستگی کے فیصلے پر 27 اپریل تک حکم التوا

سپریم کورٹ کا عبوری حکمنامہ ۔ فریقین کو ہائیکورٹ کے فیصلے کی نقل فراہم کرنے کی ہدایت ۔ مسئلہ دستوری بنچ سے رجوع ہوسکتا ہے
نئی دہلی 22 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مودی حکومت کیلئے قدرے راحت فراہم کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج اترکھنڈ ہائیکورٹ کے فیصلے پر 27 اپریل تک حکم التوا جاری کردیا ۔ اس فیصلے میں ہائیکورٹ نے ریاست میں صدر راج کے نفاذ کو کالعدم قرار دیدیا تھا ۔ سپریم کورٹ کے عبوری حکمنامہ سے ریاست میں ہریش راوت حکومت کا احیاء بھی رک گیا ہے ۔ تاہم سپریم کورٹ نے یہ عبوری حکمنامہ مرکز کے اس تیقن کے بعد جاری کیا ہے کہ وہ ریاست میں صدر راج کو برخواست نہیں کریگی جو آج عدالت کے حکم سے بحال ہوگیا ہے ۔ عدالت نے یہ واضح کیا کہ وہ یہ عبوری حکمنامہ جاری کر رہی ہے تاکہ دونوں فریقین کیلئے توازن برقرار رہ سکے کیونکہ عدالت کے فیصلے کی نقول انہیں فراہم نہیں کی گئی ہے ۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے عدالت سے اسی بنیاد پر حکم التوا کی خواہش کی تھی کہ ہائیکورٹ کے کل جاری کردہ فیصلے پر حکم التوا جاری کردیا جائے ۔ جسٹس دیپک مصرا اور جسٹس شیوا کیرتی سنگھ پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ 27 اپریل 2016 تک التوا میںرہے گا اس کے علاوہ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے یہ تیقن بھی دیا ہے کہ مرکزی حکومت آئندہ تاریخ سماعت تک صدارتی حکمنامہ کو برخواست نہیں کریگی ۔ مرکزی حکومت کی درخواست کی آئندہ سماعت 27 اپریل کو مقرر کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ کو چاہئے کہ وہ کل سنائے گئے اپنے فیصلے کی نقول دونوں ہی فریقین کو 26 اپریل تک فراہم کردے اور اسی دن فیصلے کی نقل سپریم کورٹ میں بھی فراہم کی جانی چاہئے ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ہائیکورٹ کے فیصلے پر حکم التوا کی اجرائی سے ریاست میں ہریش راوت حکومت کی بحالی کا عمل بھی رک گیا ہے ۔ کل ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد راوت حکومت کی حالی کی راہ ہموار ہوگئی تھی ۔ کل عدالت کے فیصلے میں ہریش راوت سے کہا گیا تھا کہ وہ ایوان اسمبلی میں اپنی اکثریت 29 اپریل کو ثابت کرے ۔

سماعت کے دوران بنچ نے یہ بھی کہا کہ ہائیکورٹ کو چاہئے تھا کہ اپنے فیصلے کی نقل پر مہر ثبت کرتے ہوئے اسے فریقین کو فراہم کرتی تاکہ وہ اپیل کرسکیں۔ ہمارے لئے بھی یہ مناسب ہے کہ ہم اس معاملہ میں انصاف کریں۔ جسٹس سنگھ نے کہا کہ اگر وہ ہائیکورٹ میں ہوتے تو وہ اس فیصلے پر عمل آوری کیلئے کچھ دن کا وقت فراہم کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کی نقل کے بغیر ہم صدر راج کے نفاذ کے جواز کا تعین نہیں کرکستے اور فی الحال ہم صرف ایک عبوری انتظام کر رہے ہیں تا وقتیکہ فیصلے کی نقول فراہم کی جائیں۔ عدالت نے ہریش راوت ( معزول چیف منسٹر ) کے علاوہ ریاست کے چیف سکریٹری کو مرکز کی درخواست پر نوٹس بھی جاری کی جس میں ریاست میں صدر راج کے نفاذ کو کالعدم قرار دینے ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے مکل روہتگی نے سینئر وکیل ہریش سالوے کے ساتھ استدعا کی تھی کہ ہائیکورٹ کے فیصلے پر حکم التوا جاری کیا جائے ۔ انہو نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں صرف ایک فریق کو راحت مل سکتی ہے ۔ وہ چیف منسٹر کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں جبکہ دوسرے فریق کو فیصلے کی نقل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مشکل پیش آسکتی ہے ۔ سینئر وکلا ابھیشیک مانو سنگھوی اور کپل سبل نے ہریش راوت اور اسپیکر اسمبلی کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے عبوری راحت پہونچائے جانے کے خلاف دلائل پیش کئے اور کہا کہ عدالت ہائیکورٹ کے فیصلے کا جائزہ لئے بغیر کس طرح سے راحت فراہم کرسکتی ہے ۔ یہ کس طرح ممکن ہے ۔ کپل سبل کا یہ خیال تھا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل آوری کو روکنا در اصل صدر راج کے نفاذ کو عملی شکل دینے کے مترادف ہوگا ۔ کھچاکھچ بھرے ہوئے کمرہ عدالت میںسماعت کرتے ہوئے بنچ نے دونوں ہی فریقین کو مطمئن کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ صرف ایک متوازن رائے اختیار کر رہا ہے کیونکہ یہ ایک دستوری عدالت ہے ۔ بنچ نے کہا کہ ہم ریکارڈ میں فیصلے کی نقل حاصل کرینگے اور پھر اس کا جائزہ لیں گے ۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اسے دستوری بنچ سے رجوع کیا جاسکتا ہے ۔ بنچ نے ہائیکورٹ کے انداز پر بھی تنقید کی جس نے یہ فیصلہ جاری کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT