Monday , October 22 2018
Home / ہندوستان / اتر پردیش اسمبلی میں شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے مناظر

اتر پردیش اسمبلی میں شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے مناظر

لکھنو 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام )اتر پردیش اسمبلی میں آج شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھے گئے جب بی جے پی ارکان نے یہ الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت ذبیحہ گاؤ کے مسئلہ کو نظر انداز کررہی ہے۔ ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ کے پیش نظر وقفہ صفر کو ملتوی کردیا گیا ۔ بی جے پی رکن ستیش مہانانے وقفہ صفر کے دوران اس مسئلہ کو اٹھایا اور یہ الز

لکھنو 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام )اتر پردیش اسمبلی میں آج شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھے گئے جب بی جے پی ارکان نے یہ الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت ذبیحہ گاؤ کے مسئلہ کو نظر انداز کررہی ہے۔ ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ کے پیش نظر وقفہ صفر کو ملتوی کردیا گیا ۔ بی جے پی رکن ستیش مہانانے وقفہ صفر کے دوران اس مسئلہ کو اٹھایا اور یہ الزام عائد کیا کہ گائے اور دیگر جانوروں کے غیر قانونی ذبیحہ پر ریاستی حکومت چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اس غیر قانونی کاروبار میں منظم ٹولیاں کارکرد ہیں ۔ وزیر افزائش مویشیاں مسٹر راج کشور سنگھ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی مسالخ کے خلاف کارروائی کیلئے ریاستی حکومت سنجیدہ ہے اور گذشتہ چند ماہ کے دوران 2,032ایف آئی آر درج اور 3,512 افراد کو گرفتار اور 22,514 مویشیوں کو بچالیا گیا اور اس مقصد کیلئے محکمہ کی جانب سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسالخ کو لائسنس جاری کرنے کا اختیار مرکزی حکومت کے پاس ہے اور اب وزیر اعظم بھی آپ کی پارٹی (بی جے پی ) کے ہیں اگر وہ مسالخ بند کرنے کا حکم جاری کردیئے تو ریاست میں یقیناً عمل آوری کی جائے گی۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ بی جے پی رکن اسمبلی مہانہ غیر قانونی مسالخ سے وابستہ جس ٹولی کا تذکرہ کررہے ہیںاس کا تعلق بی جے پی سے ہے ۔

ان کے اس جواب سے غیر مطمئن بی جے پی ارکان برہمی کی حالت میں ایوان کے وسط میں آگئے اور وزیر انیمل ہسبنڈری سے مناسب جواب دینے کا مطالبہ کیا ۔ دریں اثناء وزیر پارلیمانی امور مسٹر محمد اعظم خان اس بحث میں شامل ہوتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گوشت کی برآمد پر امتناع عائد کردیا جائے۔ انہوں نے بی جے پی ارکان سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ گلابی انقلاب کی بات کررہے ہیں لیکن ملک سے باہر گوشت کی برآمد پر اب تک پابندی عائد کیوں نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر گوشت کی برآمد پر امتناع عائد کردیا گیا تو تمام مسالخ خود بخود بند ہوجائیں گے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بھی گائے کا گوشت دستیاب ہے لہذا ہر ایک مقام پر پابندی ہونی چاہئے ۔ مظفر نگر کے فسادات کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے مسٹر اعظم خان نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سہارنپور، کانتھ اور مظفر نگر میں جو ناخوشگوار واقعات پیش آئے ہیں ملک نے اس کی قیمت ادا کردی ہے اور مہانہ کو اس پر شرمسار ہونا چاہئے تھا ۔

مسٹر اعظم خان کے تبصرہ پر اعتراض کرتے ہوئے بی جے پی مقننہ پارٹی لیڈر مسٹر سریش کمار کھنہ نے کہا کہ جب بھی کوئی مسئلہ اٹھایا جاتا ہے یہ وزیر مظفر نگر کے فسادات کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔یہ کوئی مناسب بات نہیں ہے اگر تمہارا (اعظم خان) رویہ جاری رہا تو یقیناً ہمارا ووٹ بینک مزید مضبوط ہوجائے گا تاہم اعظم خاں نے بی جے پی لیڈر کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ کو ووٹ بینک کی سیاست سے وابستہ کرنا بی جے پی کیلئے شرمناک بات ہے۔ مسٹر سریش کمار کھنہ نے کہا کہ یقیناً مرکزی حکومت گوشت برآمد پر امتناع کریگی اور اسپیکر سے درخواست کی کہ وزیر افزائش مویشیاں راج کشو سنگھ کو ہدایت دیں کے ان کے ریمارکس سے دستبرداری اختیار کرلیں ۔ جنہوں نے الزام عائد کیا کہ غیر قانونی مسالخ چلانے میں بی جے پی سے وابستہ ٹولیاں ملوث ہیں۔ بی جے پی اور سماجوادی پارٹی ارکان کے درمیان بحث و تکرار کے دوران بی جے پی ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور گاؤ ہتھیا بند کرو کے نعرے بلند کرنے لگے ۔ جس پر اسپیکر مانا پرساد پانڈے نے وقفہ صفر کو ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT