Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت سے انکار

اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت سے انکار

ایودھیا میں تبدیلیوں پر غفلت برتنے پر سنگین نتائج۔ صدر پردیش کانگریس نرمل کھتری کا انتباہ
الہ آباد۔/22ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) اتر پردیش میں 2017 کے اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ مفاہمت کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کانگریس نے آج یہ الزام عائد کیا ہے کہ ملائم سنگھ یادو،مایاوتی ۔ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی زیر قیادت بی جے پی کی کٹھ پتلی بن گئے ہیں۔ صدر اتر پردیش کانگریس کمیٹی نرمل کھتری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ریاست بہار میں عظیم اتحاد کی کامیابی پر یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ کانگریس اس طرح کا اتحاد سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے ساتھ قائم کرسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہار میں کٹر حریف لالو پرساد یادو اور نتیش کمار نے نریندر مودی کے خلاف مشترکہ مقابلے کیلئے باہمی اختلافات فراموش کردیا۔ اس کے برخلاف ملائم سنگھ اور مایاوتی ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما ہیں اور نریندر مودی کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ ایودھیا میں حالیہ تبدیلی اچانک رونما نہیں ہوا ہے جہاں پر رام مندر کی تعمیر کیلئے سینکڑوں لاریوں میں پتھر لائے گئے ہیں۔ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر فرقہ وارانہ صف بندی کیلئے بی جے پی کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جبکہ سماجوادی پارٹی حکومت نے پتھروں کی منتقلی کے معاملہ میں چشم پوشی اختیار کرنا ہے۔ مسٹر نرمل کھتری نے بی جے پی کے ساتھ ساز باز کرلینے پر سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں لیڈروں ( ملائم سنگھ ۔ مایاوتی ) نے بہار میں سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرتے ہوئے نریندر مودی کی اعانت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے

کیونکہ مایاوتی نے اتر پردیش میں بی جے کے تعاون سے ایک سے زائد مرتبہ حکومت تشکیل دی ہے۔ اس طرح ملائم سنگھ اور نریندر مودی نے ایک دوسرے کے بارے میں خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سماجوادی پارٹی سربراہ فرقہ پرستوں کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں، جس کی نمائندگی بی جے پی کرتی ہے۔ صدر اترپردیش کانگریس کمیٹی نے میڈیا کی ان رپورٹس کو مسترد کردیا کہ بڑی جماعتوں سے اتحاد کے بغیر کانگریس پھر ایک بار ناکام شو پیش کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مرکز میں نریندر مود حکومت سے مایوس ہوگئے ہیں اور ریاست میں حکمران سماجوادی پارٹی کو اقتدار سے بیدخل کردینا چاہتے ہیں۔اس موقع پر پارٹی کی قومی ترجمان اور سابق صدر پردیش کانگریس ریتا بہوگنا جوشی نے کہا کہ اتوار کے دن ایودھیا میں پتھروں سے لدی لاریوں ( ٹرکس ) کی آزد دراصل اتر پردیش میں فرقہ وارانہ صف بندی کیلئے بی جے پی کی خفیہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اگرچیکہ بی جے پی اس تبدیلی سے لاتعلقی کا اظہار کررہی ہے لیکن باشعور عوام، حالات اور واقعات پرنظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو ایودھیا معاملہ پر چوکس ہوجانا چاہیئے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حکمران جماعت اس کے نتائج و عواقب سے لاپرواہ ہوگئی ہے۔ہمیں امید ہے کہ حکومت فی الفور موثر اقدامات کرے گی۔ بصورت دیگر تاخیر ہونے پر کف افسوس ملنا نہ پڑے۔کھتری اور جوشی سینکڑوں پارٹی قائدین کے ساتھ یہاں پدیاترا میں شرکت کیلئے آئے ہیں جوکہ کانگریس کی ریاست گیر مہم کا حصہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT