Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / اتر پردیش میں مجرموں کے نشانہ پر پولیس

اتر پردیش میں مجرموں کے نشانہ پر پولیس

سماج وادی پارٹی کے دور حکومت میں غنڈے اور مافیا سرگرم۔ مایاوتی کا الزام
لکھنؤ، 23 جون (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں 21 دنوں میں پانچ پولیس افسروں کو گولی مارے جانے سے حکومت پر اپوزیشن کا زبردست دباو آگیا ہے ۔ پولیس کے ان پانچ جوانوں میں تین کی موت ہوگئی جبکہ دو بری طرح زخمی ہوگئے ۔گزشتہ 2 جون کو متھرا میں پولیس اور جواہر باغ پر ناجائز طور پر قبضہ کرنے والوں کے درمیان فائرنگ میں پولیس سپرنٹنڈنٹ (سٹی) مکمل دویدی او ر ایک تھانہ انچارج سنتوش یادو کی موت ہوگئی۔ جبکہ کل رات بدایوں میں بدمعاشوں کو بری طرح زخمی کردیا۔فیض آباد میں کل رات عنایت نگر میں جانوروں کے اسمگلروں نے ایک سپاہی کو گولی مار دی جسے نازک حالت میں فیض آباد کے ضلع اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے لکھنو کو منتقل کردیا۔ ان واقعات سے امن و قانون کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے اپوزیشن نے وزیراعلی اکھلیش یادو سے استعفی دینے کا مطالبہ کردیا ہے ۔

موریہ نے کہا کہ امن و قانون کی صورتحال بدتر ہے ۔ پولیس والے ہی محفوظ نہیں رہ گئے ہیں تو عوام کو کیا تحفظ فراہم کرائیں گے ۔ انہوں نے وزیراعلی اکھلیش یادو سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ لیکن ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے سے انہوں نے گریز کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ریاست اکھلیش سے نہیں سنبھل رہی ہے تو انہیں اپنے عہدہ سے خود استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس ایف) کی صدر اومابھارتی پہلے ہی امن و قانون کی حالت خراب بتاتے ہوئے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کرچکی ہیں۔ محترمہ مایاوتی کا کہنا ہے کہ سما ج وادی پارٹی کی حکومت میں غنڈے اور مافیا سرگرم ہوجاتے ہیں۔ اس لئے گورنر کو اسے نوٹس میں لیکر مرکز کو رپورٹ بھیجنی چاہئے ۔ محض 21 دن میں جرائم پیشہ افراد کی گولی سے پولیس کے تین جوانوں کا شہید ہوجانا اور دو دیگر کا بری طرح زخمی ہوجانا انتہائی تشویشناک بات ہے ۔ مرکزی حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہئے ْ۔

TOPPOPULARRECENT