Wednesday , December 12 2018

اتر پردیش میں گلقند پر ویاٹ برخاست بنارسی پان مزید میٹھا ہوجائے گا

لکھنؤ۔/21مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) دنیا بھر میں اپنی مٹھاس کیلئے مشہور بنارسی پان مزید میٹھا ہوجائے گا کیونکہ حکومت اتر پردیش نے گلاب کی خوشبو سے معطر گلقند کو ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے علاقہ قنوج میں سب سے زیادہ گلقند بنایا جاتا ہے جس میں طبی خواص بھی پائے جاتے ہیں۔ ٹیکس سے استثنیٰ دینے کے باعث ریاست میں گلقند کی صنع

لکھنؤ۔/21مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) دنیا بھر میں اپنی مٹھاس کیلئے مشہور بنارسی پان مزید میٹھا ہوجائے گا کیونکہ حکومت اتر پردیش نے گلاب کی خوشبو سے معطر گلقند کو ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے علاقہ قنوج میں سب سے زیادہ گلقند بنایا جاتا ہے جس میں طبی خواص بھی پائے جاتے ہیں۔ ٹیکس سے استثنیٰ دینے کے باعث ریاست میں گلقند کی صنعت کو زبردست فروغ حاصل ہوگا۔ لکھنؤ میں گلقند کے ایک سرکردہ تاجر امیت نے یہ بات کہی اور بتایا کہ صرف قنوج میں ہی قریب 300کروڑ مالیتی گلقندتیار کی جاتی ہے جس کی شہرت بیرونی ممالک تک پائی جاتی ہے۔ ایک پان کے تاجر منو نے بتایا کہ ٹیکس سے استثنیٰ دینے کے بعد میٹھا پان کی قیمت بھی گھٹ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ راجستھان میں گلقند پر کوئی ویاٹ نہیں ہے ، گلقند کو پان کی لذت میں اضافہ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ حکومت اتر پردیش نے قدر پر مبنی محصول (VAT) سے استثنیٰ قرار دیا ہے یہ فیصلہ چیف منسٹر اکھلیش یادو کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں کیا گیا ۔ قنوج کے گلقند میں مقامی گلاب کا پھول استعمال کیا جاتا ہے جس کی مہاراشٹرا، راجستھان،مدھیہ پردیش، کرناٹک اور آندھرا پردیش میں زبردست مانگ ہے اور ویاٹ سے استثنیٰ کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ علاوہ ازیں گلقند کو آیورویدک ٹانک بھی کہا جاتا ہے جو کہ ترش مزاجی اور جسم کی حرارت گھٹاتا ہے اور آنکھوں میں جلن اور سرخ ہونے سے بچاتا ہے جبکہ دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط اور قبض وبدہضمی کے لئے اکسیر ہے۔

TOPPOPULARRECENT