Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / اتر کھنڈ کی سیاسی لڑائی راشٹرپتی بھون تک پہونچ گئی

اتر کھنڈ کی سیاسی لڑائی راشٹرپتی بھون تک پہونچ گئی

حکومت کو بیدخل کیا جائے :بی جے پی ‘مرکز پر عدم استحکام کو ہوا دینے کانگریس کا الزام
دہرہ دو ن/ نئی دہلی 21 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) اترکھنڈ بحران پر جاری لڑائی آج صدر جمہوریہ کے در تک پہونچ گئی جب بی جے پی نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست میں ہریش راوت حکومت کو بیدخل کردیا جائے جبکہ کانگریس نے مرکز پر حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ کانگریس نے پارٹی کے دو باغی ارکان اسمبلی کو خارج بھی کردیا ہے ۔ اب جبکہ ریاست میں اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت رہ گیا ہے کانگریس نے سابق چیف منسٹر وجئے بہوگنا کے فرزند ساکیت اور جوائنٹ سکریٹری انیل گپتا کو مخالف پارٹی سرگرمیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے خارج کردیا ہے ۔ چیف منسٹر ہریش راوت نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر پیسے اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان کی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے ۔ پارٹی نے ساکیت اور انیل گپتا کو پارٹی کے نو باغی ارکان اسمبلی کی تائید کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خارج کردیا ہے ۔ اب ریاست کا سیاسی منظر نامہ دارالحکومت منتقل ہوگیا ہے جب ریاست کے تمام بی جے پی ارکان پارلیمنٹ و ارکان اسمبلی نے راشٹرپتی بھون تک مارچ کیا جس کے بعد ایک وفد نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کرتے ہوئے ہریش راوت حکومت کو بیدخل کرنے کا مطالبہ کیا اور ادعا کیا کہ حکومت اقلیت میں آگئی ہے۔ پارٹی نے کانگریس کے نو باغی ارکان کو بھی ساتھ لیجانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اس مشورہ کے بعد کہ یہ مناسب نہیں ہوگا منصوبہ بدل دیا گیا ۔ بی جے پی لیڈر وجئے ورگیہ نے کہا کہ یہ حکومت اقلیت میں آگئی ہے اور اسے اقتدار پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ انہوںنے ریاست کے بحران میں صدر جمہوریہ سے مداخلت اور حکومت کی برطرفی کی اپیل کی ۔ انہوں نے اسپیکراسمبلی کی جانب سے فینانس بل کی منظوری کے اعلان کو غیر دستوری قرار دیا ۔ بی جے پی اور کانگریس کے باغی ارکان نے اس پر رائے دہی کروانے کا مطالبہ کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT