Thursday , September 20 2018
Home / خواتین کا صفحہ / اتنا تو لحاظ رہے …!

اتنا تو لحاظ رہے …!

حال ہی میں مجھے ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے چینائی جانے کا اتفاق ہوا۔ چونکہ ہوٹل میں رہنا مجھے کچھ خاص پسند نہیں ، اس لئے سوچا کیوں نہ اس بہانے اسکول کے زمانے کی سہیلی شاہین‘ جن کی رہائش اَب چینائی میں تھی، کے یہاں قیام کروں۔ اس بات کا اشتیاق بھی تھا کہ بچپن کی یادیں تاز ہ ہوجائیں گی۔ شاہین بھی بے حد خوش تھی کیونکہ ہم برسوں بعد ملیں گے۔ کتنا کچھ تھا کہنے اور سُننے کو۔ بہر حال میں مقررہ دن اس کے گھر جاپہنچی، اُس نے نہایت گرمجوشی سے میرا استقبال کیا۔ ڈھیر ساری باتیں اور نہایت لذیذ کھانا کھانے کے بعد اُس نے کہا کہ میں تھوڑا سا آرام کرلوں۔

شام میں جب اُس کے شوہر آجائیں تو ہم گھومنے کیلئے باہر جائیں گے۔ کافی مدت بعد موقعہ ملا تھا دن کے وقت سُستانے کا، اور میں اس کو گنوانا نہیں چاہتی تھی۔ جوں ہی بستر پر لیٹی نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ گہری نیند سے جب بیدار ہوئی تو خود کو ذہنی و جسمانی طور پر ترو تازہ پایا۔ جلد تیار ہوکر جوں ہی کمرے کے باہر قدم رکھا تو میں ٹھٹک کر رہ گئی۔ حیرانی سے شاہین کو دیکھا جو بالوں پر مہندی اور چہرے پر ملتانی مٹی کا لیپ لگائے صوفے پر بیٹھی ناخنوں پر نیل پالش لگارہی تھی۔ قریب ہی اُس کا شوہر ایک ملگجی سی بنیان پہنے آئینہ کے سامنے کھڑا ہوا تھا اور چہرے کو آڑا ترچھا کرتے ہوئے ناک کے بال تراشنے میں مصروف تھا۔ دونوں آپس میں گفتگو بھی کررہے تھے۔ دو قدم تیزی سے پیچھے ہٹاتے ہوئے میں کمرے میں واپس آگئی۔ جو منظر میں نے ابھی دیکھا تھا اُس سے کافی ڈسٹرب ہوگئی تھی۔ رہ رہ کر خیال آتا کہ کیا یہ وہی شاہین ہے جو شوہر کے گھر لوٹنے سے قبل نہ صرف خود تیار ہوتی بلکہ بیٹھک کو ٹھیک کرتے ہوئے چائے کا اہتمام بھی کرتی، اور وسیم اُس کا شوہر وہ تو وضع قطع کا اس قدر پابند تھا اور گھر میں اس طرح رہتا گویا باہر جانے کیلئے تیار ہے۔ میں سوچنے لگی آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ شادی کے دس پندرہ برس ساتھ گذارنے کے بعد ایسا کیا بدل جاتا ہے کہ ہمیں پرواہ ہی نہیں ہوتی کہ ہمارا شریک حیات ہمارے بارے میں کیا سوچے گا۔ میں مانتی ہوں کہ میاں بیوی کے درمیان ایک لمبی رفاقت کے بعد بے تکلفی آجاتی ہے لیکن ایک طرح کا لحاظ رکھنا تو لازمی ہوتا ہے۔سبھی جانتے ہیں کہ عورتیں بیوٹی پارلر جاتی ہیں یا پھر گھر ہی میں اپنے چہرے کو نکھارنے کی تدبیریں کرتی ہیں اور مرد بھی اپنے آپ کو خوش وضع بنائے رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کی موجودگی میں ہو؟ کچھ تو پردہ داری ہونی چاہئے اور اس معاملہ میں ایک بھرم قائم رہنا چاہئے کیونکہ جب تنہائی میں شوہر اپنی شریک حیات کے بارے میں پیار و محبت سے سوچے تو تصور میں جو شبیہ اُبھرے تو اس کا چہرہ لیپا پوتی سے ڈھکا ہوا ہو، کیا آپ ایسا چاہیں گی؟۔

TOPPOPULARRECENT