Sunday , January 21 2018
Home / کھیل کی خبریں / اتھلیٹس کیساتھ دفاعی عملہ کے مساوی سلوک کیا جائے

اتھلیٹس کیساتھ دفاعی عملہ کے مساوی سلوک کیا جائے

نئی دہلی۔ 9 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی اسپورٹس کیلئے اپنا ویژن پیش کرتے ہوئے بی جے پی کے وزارتِ عظمی امیدوار نریندر مودی نے کہا کہ اتھیلیٹس کو ملک کے دفاعی عملہ کی طرح تصور کیا جانا چاہئے اور ٹریننگ کے معاملے میں ان کے ساتھ خصوصی رویہ اختیار کیا جانا چاہئے۔ چیف منسٹر گجرات نے پیرا اولمپلک اسپورٹس کیلئے بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت

نئی دہلی۔ 9 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی اسپورٹس کیلئے اپنا ویژن پیش کرتے ہوئے بی جے پی کے وزارتِ عظمی امیدوار نریندر مودی نے کہا کہ اتھیلیٹس کو ملک کے دفاعی عملہ کی طرح تصور کیا جانا چاہئے اور ٹریننگ کے معاملے میں ان کے ساتھ خصوصی رویہ اختیار کیا جانا چاہئے۔ چیف منسٹر گجرات نے پیرا اولمپلک اسپورٹس کیلئے بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انٹرنیشنل پیرا اتھیلیٹ دیپا ملک نے یہ بات بتائی جو کل بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر نریندر مودی کے ساتھ ’’چائے پہ چرچہ‘‘ کا حصہ تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مودی جی نے کہا کہ اسپورٹس شخصیتوں کو ایک سپاہی کی طرح تصور کیا جانا چاہئے۔

اسپورٹس کی حامل شخصیتوں کو وہی موقف ملنا چاہئے جو ملک میں سپاہیوں اور دفاعی عملہ کو دیا جاتا ہے جس طرح ایک سپاہی اپنے خاندان اور وقت کی قربانی دیتے ہوئے ساری زندگی ملک کی سلامتی کیلئے وقف کردیتا ہے اسی طرح ایک اسپورٹس کھلاڑی بھی مسلسل ٹریننگ کی مشقت سے دوچار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ملک کو ایک میڈل دلانے کیلئے کئی قربانیاں دینی پڑتی ہے ۔ دیپا ملک نے نریندر مودی کے حوالے سے یہ بات بتائی۔ دیپا ملک ان 6 اسپورٹس شخصیتوں میں شامل ہیں جنہوں نے کل بی جے پی ہیڈ کوارٹرس پر نریندر مودی کے ساتھ تبادلہ خیال کیا تھا۔

اس پیانل مباحثے میں شامل دیگر اتھیلیٹس میں ارجن ایوارڈ یافتہ کرکٹ انجم چوپڑہ اور نشانہ باز شما شرور بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیرا اسپورٹس انفراسٹرکچر اور پیرا اسپورٹس کے تعلق سے بیداری کے سلسلے میں نریندر مودی کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایک خصوصی اسپورٹس سنٹر کے قیام کی بھی ضرورت ہے۔ دیپا ملک نے کہا کہ انہوں نے اس پیانل مباحثہ میں بتایا کہ ہم اپنے میڈل یافتگان کو ایوارڈس دیتے ہیں، انہیں انعامی رقم اور روزگار فراہم کیا جاتا ہے،

لیکن اس میڈل کے حصول کیلئے جو طویل سفر اور مشکلات کا وہ سامنا کرتے ہیں، انہیں بالکلیہ نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ دیپا ملک نے خود اپنی طویل جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنا کیٹرنگ بزنس بند کرنا پڑا، کئی قربانیاں دینی پڑیں۔ کئی اتھیلیٹس مالی عدم استحکام کی وجہ سے اچانک دُوری اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اتھیلیٹس اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوتے۔ دیپا ملک نے تیراکی، شارٹ پٹ ، ڈسکس تھرو میں کئی میڈلس حاصل کئے ہیں، وہ فالج کا شکار ہیں۔ انہوں نے پہلے ہی چار لمکا ریکارڈس قائم کئے انہوں نے 2008ء میں جمنا ندی کا ایک کیلومیٹر فاصلہ تیرتے ہوئے پورا کیا۔ 2009ء میں 55.25 کیلومیٹر تک بنا رکے بائیک پر سواری کی۔ 2011ء میں 5,359 میٹر کی بلندی پر کھردنگلا کے علاقہ میں کار سواری کی اور 2013ء میں چینائی تا دہلی 3,278 کلومیٹر تک کا فاصلہ ذریعہ کار پورا کیا۔

TOPPOPULARRECENT