Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / اجتماعی عصمت ریزی مقدمہ میں نابالغ مجرم کی رہائی

اجتماعی عصمت ریزی مقدمہ میں نابالغ مجرم کی رہائی

NEW DELHI, DEC 20 (UNI)- Mother of Nirbhaya (C) during a demonstration in protest against the release of the juvenile convict in 16 December rape and murder of Nirbhaya case, at India Gate in New Delhi on Sunday. UNI PHOTO-29U

انڈیا گیٹ پر عوام کا احتجاجی مظاہرہ ، ہمارے دل ٹوٹ چکے ہیں،والدین کا ردعمل
نئی دہلی ۔ /20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک کے دارالحکومت دہلی میں /16 ڈسمبر کے اجتماعی عصمت ریزی مقدمہ میں نابالغ مجرم کو آج رہا کردیا گیا ۔ دہلی کمیشن برائے خواتین کی جانب سے سپریم کورٹ کے رہائی کے احکامات پر حکم التواء حاصل کرنے کی آخری کوشش بھی ناکام رہی اور اس مجرم کو ایک این جی او کے پاس بھیج دیا گیا۔ نربھئے کے والدین رہائی پر انتہائی برہم ہوگئے اور انہوں نے احتجاج شروع کردیا ۔ ساتھ ہی ساتھ مرکز اور دہلی حکومت پر انصاف دلانے میں ناکامی کا الزام عائد کیا ۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ نابالغ مجرم اس وقت تک این جی او کی زیرنگرانی رہے گا جب تک کہ دہلی حکومت بازآبادکاری منصوبہ کو قطعیت نہیں دیتی ۔ اس وقت مجرم کی عمر 20 سال ہے ۔ اجتماعی عصمت ریزی کا شکار لڑکی کے والدین نے مجرم کی رہائی پر آج دوسرے دن بھی احتجاج جاری رکھا اور ہزاروں افراد ان کے ساتھ اس احتجاج میں شریک تھے اور وہ اس مجرم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ ہزاروں احتجاجی رہائی کے خلاف انڈیا گیٹ پر جمع ہوگئے ۔ متاثرہ لڑکی کی ماں آشا دیوی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجیوں کو حراست میں لینے کی کوشش کے دوران بھگدڑ مچ گئی اور وہ بھی اس کی زد میں آگئیں۔ انہوں نے کہا کہ آخر کتنے عصمت ریزی کے واقعات ہوتے رہیں گے اور ایسے کتنے قتل ہوتے رہیں گے ۔ انہوں نے حکومت سے نابالغ مجرمین سے متعلق قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے ۔

انڈیا گیٹ پر احتجاجیوں کو پولیس کی جانب سے حراست میں لینے پر برہم آشا دیوی نے کہا کہ اس نوجوان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنا چاہئیے لیکن آج وہ آزاد ہے اور ہم جو ابتداء سے تکلیف و مصائب کا سامنا کررہے ہیں پولیس بھی ہمارا ہی تعاقب کررہی ہے ۔ ہمارے دل ٹوٹ چکے ہیں ۔ جسٹس اے کے گوئل اور جسٹس یو یو للت پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے آج 2 بجے دن فیصلہ سناتے ہوئے دہلی کمیشن برائے خواتین کی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کردیا جس میں نابالغ مجرم کی رہائی پر حکم التواء کی خواہش کی گئی تھی ۔ عصمت ریزی کا شکار اس لڑکی کے باپ بدری سنگھ پانڈے نے کہا کہ ہم بے بس ہیں ۔ ہماری حکومت خواہ وہ مرکزی ہو یا ریاستی اُسی وقت آپ کی بات سنتی ہے جب احتجاج کرتے ہوئے لاٹھی چارج کیا جائے ورنہ انہیں عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔

TOPPOPULARRECENT