Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / اجتماعی عصمت ریزی ‘ ملزمین کی سزائے موت برقرار

اجتماعی عصمت ریزی ‘ ملزمین کی سزائے موت برقرار

نئی دہلی 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی ہائیکورٹ نے آج نئی دہلی میں 16 ڈسمبر 2012 کو پیش آئے اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ میں چار خاطیوں کو سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے ۔ اس واقعہ پر سارے ملک میں عوام میں برہمی کی لہر پیدا ہوگئی تھی اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے ۔ جسٹس ریوا کھیتراپال اور جسٹس پرتیبھا رانی پر مشتم

نئی دہلی 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی ہائیکورٹ نے آج نئی دہلی میں 16 ڈسمبر 2012 کو پیش آئے اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ میں چار خاطیوں کو سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے ۔ اس واقعہ پر سارے ملک میں عوام میں برہمی کی لہر پیدا ہوگئی تھی اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے ۔ جسٹس ریوا کھیتراپال اور جسٹس پرتیبھا رانی پر مشتمل بنچ نے اکشے ٹھاکر ‘ ونئے شرما ‘ پون گپتا اور مکیش نامی خاطیوں کو سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے اور کہا کہ انہوں نے جس جرم کا ارتکاب کیا ہے وہ شاذ و نادر پیش آنے والے واقعات میں شمار کیا جاسکتا ہے ۔ بنچ نے کہا کہ ٹرائیل عدالت نے سزائے موت کا جو اعلان کیا ہے اس کی توثیق کی جاتی ہے اور خاطیوں کی اپیل کو مسترد کیا جاتا ہے ۔ جس وقت عدالت میں ملزمین کو سزائے موت کی توثیق کی گئی ، متوفی لڑکی کے والدین بھی موجود تھے ۔

23 سالہ متوفی لڑکی کی والدہ نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو عدلیہ پر مکمل یقین ہے ۔ ہمیں امید تھی کہ ایسا ہی فیصلہ ہوگا تاہم ہمیں قطعی اطمینان اسی وقت ہوگا جب خاطی اپنے انجام کو پہونچ جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پورا انصاف اسی وقت ملے گا جب سب پھانسی پر لٹکائے جائیں گے ۔ ہائیکورٹ نے 3 جنوری کو مسلسل ساڑھے تین ماہ تک سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے آج سنایا گیا ۔ 16 ڈسمبر 2012ء کی رات رام سنگھ ‘ ونئے ‘ اکشے ‘ پون ‘ مکیش اور ایک کم عمر لڑکے نے اس لڑکی اور اس کے ایک ساتھی کو بس میں سفر کے دوران نشانہ بنایا اور لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کی تھی ۔ اس لڑکی کے ساتھی پر بھی حملہ کیا گیا تھا ۔ چھٹا ملزم سزا سنائے جانے کے وقت نابالغ تھا اس لئے اسے زیادہ سے زیادہ تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT