Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / اجمیر شریف کو غلاف مبارک اور نذرانہ کے فیصلہ پر تنازعہ

اجمیر شریف کو غلاف مبارک اور نذرانہ کے فیصلہ پر تنازعہ

وقف بورڈ کے گرانٹ ان ایڈ سے رقم حاصل کرنے محکمہ اقلیتی بہبود کا فیصلہ

وقف بورڈ کے گرانٹ ان ایڈ سے رقم حاصل کرنے محکمہ اقلیتی بہبود کا فیصلہ
حیدرآباد۔/12فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے اجمیر شریف کو ڈھائی لاکھ روپئے مالیتی غلاف مبارک اور ڈھائی لاکھ روپئے نذرانہ کی پیشکشی کا فیصلہ تنازعہ کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے یہ رقم وقف بورڈ کی گرانٹ اِن ایڈ سے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ حکومت کی جانب سے اس طرح کے فیصلہ کی صورت میں زائد فنڈ جاری کیا جانا چاہیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اجمیر شریف میں تلنگانہ بھون کی تعمیر سے متعلق فیصلہ کے وقت اپنی جانب سے غلاف روانہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود نے وقف بورڈ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے گرانٹ اِن ایڈ سے 5لاکھ روپئے خرچ کرنے کی ہدایت دی جس میں ڈھائی لاکھ روپئے سے غلاف مبارک کی تیاری اور ڈھائی لاکھ روپئے دیوان اجمیر شریف کو بطور نذرانہ پیش کرنے سے متعلق فیصلہ سے آگاہ کیا گیا۔ مکتوب میں کہا گیا کہ یہ اخراجات وقف بورڈ کی گرانٹ اِن ایڈ سے مکمل کئے جائیں گے۔ عہدیداروں کی جانب سے اس فیصلہ کے بعد ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمود علی نے اس قدر قیمتی غلاف کی تیاری میں عجلت سے کام نہ لینے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے باوجود محکمہ کے عہدیداروں نے چادر کی تیاری کا آرڈر دے دیا اور پرانے شہر میں اسے تیار کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس چادر میں چاندی کا کام شامل کیا گیا تاہم غلاف کی حقیقی مالیت کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اس کا اندازہ تو ماہرین ہی لگاسکتے ہیں۔ غلاف کی تیاری کے بعد اب یہ مسئلہ پیدا ہوچکا ہے کہ چیف منسٹر کی جانب سے کون اجمیر شریف جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ تین دن قبل ہی اجمیر شریف میں حاضری دے چکے ہیں اب چیف منسٹر کی جانب سے ہوسکتا ہے کہ اقلیتی بہبود کے کسی عہدیدار کو روانہ کیا جائے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے ڈھائی لاکھ روپئے کا نذرانہ دیوان سجادہ نشین سید زین العابدین علی خاں کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ و قف اُمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ کی گرانٹ اِن ایڈ سے رقم حاصل کرنے کے بجائے حکومت کو خصوصی بجٹ جاری کرنا چاہیئے تھا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ جاریہ سال گرانٹ اِن ایڈ کے طور پر وقف بورڈ کو 2کروڑ روپئے جاری کئے گئے لیکن ابھی تک اسے خرچ نہیں کیا گیا۔ یہ رقم مساجد، درگاہوں اور عاشور خانوں کی تعمیر و مرمت اور تزئین نو کیلئے جاری کی جاتی ہے۔ اس اسکیم پر عمل آوری کا ابھی تک آغاز نہیں ہوا اور نہ ہی ایک ماہ میں مکمل رقم کا خرچ ممکن ہے۔ گرانٹ اِن ایڈ جس مقصد کیلئے الاٹ کی گئی اس کی تکمیل کے بغیر اس رقم سے دیگر اُمور کی انجام دہی باعث حیرت ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے آج پرانے شہر جاکر غلافکی تیاری کا جائزہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایک عہدیدار کے ذریعہ یہ کام انجام دیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT