Thursday , December 13 2018

احادیث شریفہ جدید علوم کا سرچشمہ‘ سائنسی ترقی تبلیغ اسلام کی راہ میں معاون

جامعہ نظامیہ میں جلسہ ختم بخاری شریف میں مولانا محمد خواجہ شریف کا متاثر کن درس

جامعہ نظامیہ میں جلسہ ختم بخاری شریف میں مولانا محمد خواجہ شریف کا متاثر کن درس

حیدرآباد 25 مئی (پریس نوٹ) ملک کی باوقار اسلامی درسگاہ جامعہ نظامیہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد خواجہ شریف صاحب نے آج جامعہ نظامیہ میں بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کہا کہ ملت اسلامیہ ہمیشہ احادیث شریفہ سے وابستگی کی بنیاد پر ہی کامیابی حاصل کی ہے ۔ جب کبھی احادیث سے مسلمانوں کا تعلق کمزور ہوا ‘ ان کو ناکامی سے دو چار ہونا پڑا ۔ مسلمان کی زندگی کے شب و روز ‘ اس کی انفرادی و اجتماعی معاشرت ‘ قرآن و حدیث کے مطابق ہونا چاہئے ۔ اسی میں کامیابی و کامرانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ احادیث شریفہ جدید علوم کا سرچشمہ ہیں اور سائنسی ترقی سے اسلام کے حقائق آشکار ہوتے جا رہے ہیں ۔ سائنس کی ترقی سے جہاں دوسرے مذاہب خائف ہیں وہیں اسلام کے لئے یہ ترقی ممد و معاون ثابت ہو رہی ہے ۔حضرت مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین صاحب حسینی صابری امیر جامعہ نظامیہ نے صدارت کی۔مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے اس موقعہ پر اپنے خیرمقدمی خطاب میں کہا کہ جامعہ نظامیہ نے اپنی تاسیس کے آغاز سے ہی علوم عالیہ کا اہتمام کیا ہے اور یہاں کا حلقہ درس پوری علمی دنیا میں شہرت رکھتا ہے ۔ مولانا نے کہا کہ بخاری شریف کے فیضان کو محبین جامعہ اور عامۃ الناس تک پہنچانے کے لئے اس درس کا عام اہتمام کیاگیا ہے تاکہ طلبہ جامعہ کے ساتھ اہل ذوق اور عام مسلمان بھی برکتوں سے مالا مال ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ ایک عظیم اسلامی یونیورسٹی ہے اور یہاں ہمیشہ علمی و تحقیقی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں ۔انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دور روایتی نہیں ہے ہمیں عصری اسلوب میں مخالفین اسلام کو جواب دینا ہوگا

اس کے لئے طلبہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں اور موجودہ دور کے تقاضوں کو محسوس کریں ۔ انہوں نے اس موقع پر حضرت شیخ الحدیث کو مبارکباد پیش کی ۔ اور کہا کہ آج کے درس سے حاضرین کو اندازہ ہوگا کہ حدیث فہمی کیا چیز ہے ۔ اور جامعہ نظامیہ میں درس کا طریقہ کار کس قدر متاثرکن ہوتا ہے ۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آخری میں کہا کہ ایک حدیث میں کئی ایک حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں ۔ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے اپنے درس میں کہا کہ بخاری شریف کی آخری حدیث اپنے معنی و مطالب کے اعتبار سے نہایت جامع اور دنیا و آخرت میں سکون و راحت کی ضامن ہے اس کو کسی بھی مجلس کے آخر میں پڑھ لیاجائے تو کفارہ مجلس ہے ۔ یہ حدیث شریف ظاہر و باطن کی تمام بیماریوں کا علاج بھی ہے ۔ اس عقیدہ ‘ اعمال اور حسن خاتمہ اور کامرانی کی ساری چیزیں موجود ہیں ۔ مولانا نے سلسلہ درس جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہر حدیث میں حلاوت و لذت پائی جاتی ہے ۔ لیکن یہ کیفیت بخاری شریف میں بہت زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے احادیث کو 16 سال میں جمع کیا ۔ آپ ہر حدیث کو لکھنے سے پہلے غسل فرماتے اور دو رکعت نماز ادا کرتے ۔مولانا نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بخاری شریف کی آخری حدیث ’’ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم ‘‘ کے ورد سے آنکھوں کی بیماریوں بینائی سے محرومی ’ فالج وجع مفاصل اور دیگر امراض سے حفاظت ہوتی ہے۔ مولانا محمد خواجہ شریف نے کہا کہ بخاری شریف کی آخری حدیث تمام کتاب کا خلاصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علامہ عسقلانیؒ کے مطابق بخاری شریف میں 3907 عنوانات کے تحت 9082 احادیث ہیں ۔ انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ بخاری شریف میں 22 ثلاثیات ہیں یعنی وہ حدیث جو صرف تین واسطوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے ۔ لیکن امام اعظمؒ کے پاس ثلاثیات کا ایک بڑا مجموعہ ہے بلکہ آپ کے پاس ثنائیات اور وحدانیات بھی ہیں جو امام بخاریؒ کے پاس نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بخاری شریف کی اکثر ثلاثیات مکی بن ابراہیم سے مروی ہیں ۔ اور مکی بن ابراہیم حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کے شاگرد ہیں ۔

بخاری شریف میں 17مقامات پر ’’ قال بعض الناس‘‘ کے ذریعہ حضرت امام بخاریؒ نے تخاطب کیا لیکن ہر مقام پر اس سے مراد حنفیہ نہیں ہیں ۔ حضرت امام بخاری احناف کے قدر شناس ہیں کیونکہ وہ خود ایک واسطہ اور دو واسطوں سے حضرت امام اعظم کے شاگرد ہیں ۔ طلباء جامعہ نظامیہ نے حضرت شیخ الحدیث کا عربی زبان میں لکھا گیا کلام پیش کیا جو ختم بخاری کی مناسبت سے نظم کیا گیا تھا ۔ حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین صدر مفتی جامعہ نظامیہ کی دعا پر درس کا اختتام ہوا ۔شہ نشین پرحضرت مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ ‘ مولانا مفتی محمد عظیم الدین مفتی جامعہ نظامیہ‘ مولاناڈاکٹر محمد سیف اللہ شیخ الادب ‘ مولانا سید عزیز اللہ قادری شیخ المعقولات ‘ مولانا شیخ محمد عبدالغفور شیخ التجوید ‘ مولانا سید ضیاء الدین شیخ الفقہ‘مولانا میر لطافت علی شیخ التفسیر‘ مولانا محمد انوار احمد نائب شیخ التفسیر مولانا نعمت اللہ قادری مودب جامعہ اور جناب عمر علی خان کے علاوہ اساتذہ جامعہ نظامیہ اور دیگر معززین موجود تھے ۔ مولانا محمدفصیح الدین نظامی مہتمم کتب خانہ جامعہ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ مولانا حافظ محمد عبیداللہ فہیم قادری ملتانی منتظم جامعہ نظامیہ نے انتظامات کی نگرانی کی ۔ طلبائے فاضل سندی نے شیوخ و اساتذہ جامعہ کی گلپوشی کی ۔ اس موقع پر اہل علم‘ طلباجامعہ ‘ طلبا قدیم جامعہ نظامیہ اور عامۃ الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT