Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / احتجاجی جلوس کے دوران راہول گاندھی گرفتار، مودی حکومت پر تنقید

احتجاجی جلوس کے دوران راہول گاندھی گرفتار، مودی حکومت پر تنقید

نئی دہلی ۔ /3 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کو آج دو دن میں تیسری بار گرفتار کرلیا گیا ۔ دہلی پولیس نے جنتر منتر پر انہیں گرفتار کیا تاکہ سابق فوجی کی خودکشی کے خلاف احتجاجی جلوس کی قیادت سے انہیں روکا جاسکے ۔ پولیس کی کارروائی پر کانگریس کی قیادت میں زبردست ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نریندر مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’ جمہوریت کا مذاق ‘‘ اڑا رہی ہے ۔ صورتحال کو کانگریس نے ’’غیر معلنہ ایمرجنسی‘‘ قرار دیا ۔ راہول گاندھی نے اپنی رہائی کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ پولیس نے گرفتاری کے خلاف ان کی شکایت درج کرنے سے انکار کردیا ۔ جبکہ پولیس ذرائع کے دعویٰ ہے کہ راہول گاندھی ’’اغوا‘‘ کی شکایت درج کروانا چاہتے تھے ۔ تاہم انہوں نے بعد ازاں اپنا ارادہ تبدیل کردیا ۔ پولیس کی کارروائی پر کانگریس کی قیادت برہم ہوگئی۔ سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید ، سابق منسٹر دہلی شیلا ڈکشٹ ، کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا ، دہلی پردیش کانگریس کے صدر اجئے مارکن نے پولیس کی کارکردگی کے سلسلے میں مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ قبل ازیں راہول کی گرفتاری کے بارے میں الجھن پیدا ہوگئی تھی ۔ کیونکہ پولیس کا کہنا تھا کہ کانگریس قائد کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ان کی حفاظت کے پیش نظر انہیں مقام احتجاج سے لے جایا گیا ہے ۔ تاہم راہول گاندھی نے اپنے ٹوئٹ پر تحریر کیا کہ انہیں دہلی پولیس نے جنتر منتر سے گرفتار کرکے دوسرے مقام پر منتقل کردیا تھا ۔ پولیس کی گاڑی تغلق روڈ پولیس اسٹیشن کے راستے میں پانچ فیروز شاہ روڈ پر روک دی گئی اور راہول گاندھی کو رہا کردیاگیا ۔ بعد ازاں انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جس انداز میں ان کے ساتھ اور ان کے خاندان کے ساتھ رویہ اختیار کیا جارہا ہے ۔ اس سے فوج کے حوصلے فوت ہوں گے ۔ حکومت کو چاہئیے کہ اپنی غلطی تسلیم کرلے اور او آر او پی پر ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کے مطابق عمل آوری کرے ۔  ایسا نہ کرکے مودی نے اپنے انتخابی وعدہ توڑ دیئے ہیں ۔ پولیس کے عہدیدار نے کہا کہ راہول گاندھی کی حفاظت کے پیش نظر انہیں جنتر منتر کے ہجوم سے ہٹا کر لیجایا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT