Tuesday , December 11 2018

احتیاطی طور پر زیر حراست افراد کو حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جاسکتا

نئی دہلی ۔ 12 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) انتخابات کے دوران سیاسی حریفوں کے خلاف پولیس کے اختیارات کا بیجا استعمال کرنے کے الزامات کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ ایسے افراد جنہیں احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا ہو انہیں حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ جھارکھنڈ میں منعقد شدنی اپنی بات میں اگر الیکشن کمیشن کی اس ہدایت پر عمل نہیں کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔ عام طور پر یہ شکایتیں کی جاتی ہیں کہ رائے دہی سے قبل پولیس بعض ایسی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو جو ایک د وسرے کے حریف ہوتے ہیں، احتیاطی طورپر حراست میں لے لیتی ہے۔ لہذا الیکشن کمیشن نے جھارکھنڈ کے چیف سکریٹری کو ایک مکتوب تحریر کیا ہے جہاں انہیں عوام کی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 62(5) کی یاد دہانی کروائی جس کے تحت یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ایسے افراد جنہیں احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا ہے ، انہیں بذریعہ ڈاک اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کا پورا پورا اختیار ہے ۔ جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات پانچ مراحل میں پایہ تکمیل کو پہنچیں گے جس کا آغاز 25 نومبر کو ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT