Tuesday , August 21 2018
Home / Top Stories / احمدآباد میں مسلم خاتون کی انگلیاں کاٹ دی گئیں

احمدآباد میں مسلم خاتون کی انگلیاں کاٹ دی گئیں

بجرنگ دل کی غنڈہ گردی ، نوجوان بیٹے پر بھی حملہ

احمدآباد(گجرات)۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے گاندھی نگر میں بجرنگ دل کے کارکنوں کی جانب سے ایک مسلم خاتون کی انگلیاں کاٹ دیئے جانے کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے۔ اطلاع کے مطابق ضلع کے چتراول ٹاؤن میں ہندو شدت پسندوں نے انہیں گھر سے نہ نکلنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جب خاتون گھر سے باہر نکلی تو ان کے ساتھ یہ وحشیانہ حرکت کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ 52 سالہ روشن بی بی سید کے بیٹے پر بھی حملہ کرتے ہوئے بجرنگ دل کے غنڈوں نے ان کے ہاتھ توڑ ڈالے۔ ہاسپٹل ذرائع کے مطابق روشن بی بی سید کے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا ‘ بیچ کی انگلی اور چھوٹی انگلی کاٹ دی گئی جبکہ حملے کے سبب ان کے 32 سالہ بیٹے فرزان کے ہاتھ اور کھوپڑی میں فریکچر آگیا ہے۔ دواخانہ میں دونوں کو شریک کرادیا گیا ہے جبکہ ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ سال 6 ڈسمبر کے بعد سے اس علاقہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب بجرنگ دل نے بابری مسجد کے انہدام کو لے کر مسلم غلبہ والے قصبہ سے ایک جلوس نکالا تھا۔ گزشتہ اتوار کی شب بھی یہاں پر تصادم کے بعد تناؤ میں اضافہ ہوگیا جس کی وجہ تاحال واضح نہیں ہوسکی۔ روشن بی بی کے بھتیجے اسلم سید نے بتایا کہ پیر کی صبح سعید اور اس کے بیٹے کو ان کے علاقہ سے باہر نہ جانے کا انتباہ دیا گیا تھا تاہم جب وہ اپنے مویشیوں کو چرانے کے لئے باہر گئے تو بجرنگ دل کے غنڈوں نے ان پر حملہ کردیا۔ چھترال پولیس اسٹیشن سے وابستہ پولیلس عہدیدار نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے ہوش میں آنے کے بعد پولیس ایف آئی آر درج کرے گی اور ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔ ایک مقامی کارکن شریف ملک نے بتایا کہ جن لوگوں نے ماں بیٹے پر حملہ کیا ہے ‘ وہ پہلے بھی فرقہ وارانہ تصادم میں ملوث رہے ہیں اور ان کا تعلق بجرنگ دل نامی تنظیم سے ہے۔

TOPPOPULARRECENT