Saturday , December 15 2018

احمدآباد کی مسلم عمارتوں پر ’سرخ نشان‘ سے خوف و سنسنی

احمدآباد 14 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے شہر احمدآباد میں ہندوؤں کی غالب آبادی والے علاقہ میں مقیم چند مسلم خاندانوں میں خوف و سنسنی کی لہر دوڑ گئی جب اُنھوں نے اتوار کی صبح اپنی رہائشی سوسائٹیوں کے گیٹس پر ’’سرخ کراس نشان‘‘ پایا۔ تاہم تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ شہر کے بلدی ادارہ کے سینیٹیشن (موریوں کی صفائی) عملہ نے یہ سرخ نشان لگایا تھا۔ ایسی ہی ایک مسلم سوسائٹی پالڈی کے ساکنان کی جانب سے الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کئے جانے کے بعد پولیس بھی حرکت میں آگئی۔ سٹی پولیس کمشنر نے متعلقہ حکام کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ مقامی ساکنان نے اپنے مکتوب میں لکھا تھا کہ اس واضح مقصد سے نشان لگائے گئے تھے کہ اس علاقہ میں رہنے والے مسلمانوں کی نشاندہی کروائی جاسکے‘‘۔ لیکن پولیس نے کہاکہ ان سوسائٹیوں کی نشاندہی کے لئے یہ نشان لگائے گئے تھے جنھیں بلدی ادارہ کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم پر مبنی کچرا نکاسی کے طریقہ کار کے تحت ان کا احاطہ کیا جائے۔ پالڈی کے پولیس انسپکٹر بی ایس اباری نے کہاکہ ’’احمدآباد میونسپل کارپوریشن اسٹاف نے گزشتہ روز ہمارے ساتھ اس علاقہ کا دورہ کیا تھا اور وہاں رہنے والوں کو مطلع کیا گیا تھا کہ یہ مہم کچرا جمع کرنے کے لئے ان کے پراجکٹ کا ایک حصہ ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’سرخ نشان سے صفائی عملہ کے سوپروائزروں کو ان سوسائٹیوں کی نشاندہی میں سہولت ہوگی جن کا جی پی ایس پر مبنی کچرا جمع کرنے کے پراجکٹ میں احاطہ کیا گیا ہے۔ اس پر ساکنان کو سنسنی و خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ پولیس نے تحقیقات کے بعد کہاکہ اس بات کا پتہ چلا ہے کہ سرخ کراس کے نشان صرف مسلم سوسائٹیوں پر ہی نہیں لگائے گئے ہیں بلکہ احمدآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کچرا جمع کرنے کے اس پراجکٹ پر عمل آوری کے لئے ہندو سوسائٹیوں کے گیٹس پر بھی یہ نشان لگائے گئے ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کرنے والے ساکنان نے الزام عائد کیا ہے کہ اس قسم کے نشان انتخابات سے قبل اس علاقہ میں نقص امن پیدا کرنے کی ایک کوشش بھی ہوسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT