Monday , June 25 2018
Home / مذہبی صفحہ / اخلاص فی الدین کی اہمیت

اخلاص فی الدین کی اہمیت

حافظ محمد یعقوب علی خاں

حافظ محمد یعقوب علی خاں

نماز خالص اللہ تعالیٰ کے لئے پڑھی جائے تو اس پر ثواب ملے گا اور اگر اللہ کی خوشی حاصل کرنے کے سوا کوئی دوسرا مقصد ہو تو نماز پڑھنے کے باوجود بندہ اجر و ثواب کا مستحق ہرگز نہیں ہوسکتا۔ مثلاً کوئی اس لئے نماز پڑھتا ہے کہ لوگ اس کا احترام اور چرچا کریں کہ فلاں شخص نماز کا بہت ہی پابند ہے، یا اس لئے نماز پڑھی جائے کہ فلاں شخص بہت مالدار ہے، لہذا جب وہ میری پابندی دیکھے گا تو زیادہ سے زیادہ نذرانہ وغیرہ پیش کرے گا، یا اس لئے نماز پڑھی کہ عوام کے دلوں میں ہماری وقعت و اہمیت بڑھ جائے، تو ایسے شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشی کے لئے نماز نہیں پڑھی۔ حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’حق بندگی یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لئے تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جائے‘‘ (مکاشفۃ القلوب) اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آدمی دولت کمانا، تجارت کرنا، مکان بنانا، شادی کرنا اور آبادی میں رہنا سب ترک کرکے جنگل اور پہاڑ وغیرہ کا بود و باش اختیار کرے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ سب کچھ کرے، مگر دل میں صرف اور صرف اللہ ہو۔ کسی شخص نے حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ’’میں عبادت میں کیف و سرور نہیں پاتا ہوں؟‘‘ تو آپ نے جواب دیا: ’’یہ اس لئے کہ تو عبادت کی بندگی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی بندگی نہیں کرتا۔ تو اللہ تعالی کی بندگی کر، پھر دیکھ عبادت میں کیسا مزہ آتا ہے‘‘۔ (مکاشفۃ القلوب)
ایک شخص نے نماز شروع کی، جب ’’ایاکَ نعبد‘‘ پڑھا تو اس کے دل میں خیال آیا کہ میں خالصۃً اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہا ہوں۔ غیب سے آواز آئی کہ ’’تونے جھوٹ بولا ہے، تو تو مخلوق کی عبادت کرتا ہے‘‘۔ تب اس نے مخلوق سے قطع تعلق کرلیا اور پھر نماز شروع کی۔ جب پھر اسی آیت پر پہنچا تو وہی خیال دل میں گزرا۔ پھر ندائی کہ ’’تو اپنے مال کی عبادت کرتا ہے‘‘۔ اس نے سارا مال راہِ خدا میں خرچ کردیا اور نماز کی نیت کی۔ جب اسی آیت پر پہنچا تو پھر خیال آیا کہ ’’میں حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہوں‘‘۔ ندا آئی: ’’تو جھوٹا ہے، تو اپنے کپڑوں کی عبادت کرتا ہے‘‘۔ اسی وقت اس بندۂ خدا نے جسم پر موجود کپڑے کے علاوہ اپنے سارے کپڑے راہِ خدا میں لٹادیئے۔ اس کے بعد جب نماز شروع کی اور اسی آیت پر پہنچا تو آواز آئی کہ ’’اب تو اپنے دعویٰ میں سچا ہے‘‘۔ (مکاشفۃ القلوب)

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’جو آخرت کی کھیتی چاہے، ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھائیں گے اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں‘‘۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں میں سب سے پہلے قیامت کے دن جس کا فیصلہ کیا جائے گا، وہ شہید ہے۔ اسے حاضر کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا تو وہ اقرار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’تونے اس کے شکریہ میں کیا کام کیا؟‘‘۔ عرض کرے گا: ’’تیری راہ میں جہاد کیا، یہاں تک کہ قتل کردیا گیا‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’تو جھوٹا ہے، تونے اس لئے لڑائی کی تھی کہ تجھے بہادر کہا جائے، تو تجھ کو بہادر کہا گیا‘‘۔ پھر حکم ہوگا تو اس شخص کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا، یہاں تک کہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اور وہ شخص جس نے علم حاصل کیا، اس کو سیکھا اور قرآن پڑھا، اس کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ یاد کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’’تونے ان کے شکریہ میں کیا کام کیا؟‘‘۔ عرض کرے گا: ’’علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے لئے قرآن پڑھا‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’تو جھوٹا ہے، تونے اس لئے علم سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے، تو وہ تجھے کہہ دیا گیا‘‘۔ پھر حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل کھینچا جائے گا، یہاں تک کہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر وہ شخص جسے خدا نے وسعت دی اور ہر طرح کا مال عطا فرمایا، اسے حاضر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا تو وہ اقرار کرے گا۔ پھر فرمائے گا: ’’تونے ان کے شکریہ میں کیا کام کیا؟‘‘۔ عرض کرے گا: ’’میں نے کوئی ایسا راستہ جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہو، نہیں چھوڑا اور تیری خوشنودی کے لئے خرچ کیا‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’تو جھوٹا ہے، تونے اس لئے خرچ کیا کہ تجھے سخی کہا جائے، تو وہ تجھے کہہ دیا گیا‘‘۔ پھر حکم دیا جائے گا تو اس کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا، یہاں تک کہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘۔ (مشکوۃ شریف)

خلیفۂ دوم حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ایک ایسی آگ لگی کہ پتھر سوکھی لکڑی کی طرح جلنے لگے۔ آگ کے شعلے آدھے شہر میں پھیل گئے اور لوگ کوشش کے باوجود آگ پر قابو پانے (یعنی بجھانے) سے قاصر رہے۔ لوگ خلیفۂ دوم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’یاامیر المؤمنین! یہ آگ پانی سے نہیں بجھ رہی ہے‘‘۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ آگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور یہ شعلے تمہاری بخیلی کی آگ کے شعلے ہیں۔ پانی ڈالنا بند کرو، غریبوں میں روٹی تقسیم کرو اور اگر میرا کہنا مانو تو بخیلی سے باز آجاؤ‘‘۔ لوگوں نے عرض کیا کہ ’’ہمارا دروازہ کھلا ہوا ہے، ہم سخی ہیں اور ہمیشہ سخاوت کرتے رہتے ہیں‘‘۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ صحیح ہے، لیکن خدا کے واسطے تمہارا ہاتھ نہیں کھلا، بلکہ تم نے جو کچھ بھی دیا رسم و عادت کے طورپر دیا، تم نے فخر و ناز اور قوت جتانے کے لئے دیا۔ تم نے خوف الہٰی، عاجزی، تقویٰ اور پرہیزگاری کے لئے نہ دیا، یعنی تمہارے عمل میں خلوص نہ تھا اور جس عمل میں خلوص نہ ہو، وہ بارگاہ الہٰی میں مقبول نہیں‘‘۔ (گلدستہ مثنوی۔۴۲)

حضرت سلمان دارانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک امیر شخص سے ایسی بات سنی، جو مجھے ناگوار گزری۔ میں نے اسے ٹوکنے کا ارادہ کیا، مگر مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ یہ شخص کہیں مجھے قتل کرنے کا حکم نہ دے دے۔ میں موت سے نہیں، بلکہ اس بات سے ڈرا کہ قتل کے وقت لوگوں کے سامنے میرے دل میں کہیں یہ بات نہ آجائے کہ ’’میں نے بہت عمدہ کام کیا‘‘ لہذا میں اس شخص کو ٹوکنے سے رک گیا۔ (مکاشفۃ القلوب)
مذکورہ واقعہ سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ خود بینی، منافقت اور ریا کے خوف سے خلاف شرع باتوں کو روکنے سے احتراز کیا جائے، بلکہ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ایسے کاموں میں ریا نہ آنے دیا جائے اور یہ کام محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہونا چاہئے، کیونکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم قرآن و حدیث میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے اور ریا و تفاخر سے بچنے کی تاکید آئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT