Wednesday , December 12 2018

اخلاقی غنڈہ گردی، مسلمانوں کو چاہنے والی ہندو لڑکی کی خودکشی

دھنیا شری کے ’’آئی لو مسلمس‘‘ واٹس اپ مسیج پر بی جے پی ، سنگھ پریوار کی نفرت ا نگیز مہمکا نتیجہ
بنگلورو 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایک ہندو لڑکی کیلئے واٹس ایپ پر مسلمانوں سے محبت و ہمدردی کا اظہار کرنا جان لیوا ثابت ہوا۔ نفرت پر مبنی فرقہ پرستی چلانے والی دائیں بازو کی ہندوتوا تنظیموں کی ہراسانی سے تنگ آکر اس لڑکی نے بالآخر خودکشی کرلی۔ پولیس نے کہا ہے کہ 20 سالہ ہندو لڑکی نے واٹس ایپ پر ’آئی لو مسلمس‘‘ (میں مسلمانوں سے محبت کرتی ہوں) کا مسیج پوسٹ کیا تھا جس کے ساتھ ہی ہندو دہشت پسندوں نے اس کا پیچھا اُٹھالیا۔ واقعہ چکمگلور کے مدیگیری میں پیش آیا۔ پولیس نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاکہ 20 سالہ دھنیا شری بی کام کی طالبہ تھی جس کی نعش ہفتہ کو اُس کے کمرہ میں لٹکی ہوئی پائی گئی۔ یہ لڑکی اپنے ایک دوست سنتوش کے ساتھ چیاٹنگ کررہی تھی جہاں مذہب اور ذات پات پر غیر ضروری لڑائی جھگڑے پر بحث جاری تھی۔ سنتوش کے ایک سوال پر دھنیا شری نے جواب دیا تھا کہ ’’میں مسلمانوں کو چاہتی ہوں‘‘۔ بعدازاں مدیگیری بی جے پی یوا مورچہ ٹاؤن یونٹ کا صدر انیل راج مسلمانوں سے دوستی کے خلاف وارننگ دینے کے لئے اس کے گھر پہونچ گیا۔ دھنیا شری کے جواب پر چراغ پا سنتوش نے بھی اُس کو مسلمانوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کے خلاف سخت وارننگ دی تھی۔ اس نے اس چیاٹنگ کے اسکرین شاٹس مقامی وی ایچ پی اور بجرنگ دل قائدین کو بھی پوسٹ کیا تھا۔ جس کے ساتھ ہی یہ اسکرین شاٹس وائرل ہوگئے جو دھنیا شری اور اس کی ماں کے لئے ذہنی اُلجھن کا سبب بن گئے۔ چکمگلور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ایم انا ملائی نے کہاکہ بی جے پی یوتھ لیڈر انیل راج اور دیگر چند نوجوان جمعہ کی شام گھر پہونچ کر لڑکی اور اس کی ماں کو مسلمانوں سے دوستی کے خلاف وارننگ دی تھی۔ دوسرے دن دھنیا شری نے خودکشی کرلی۔ نعش کے قریب دستیاب خودکشی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ نے اس کی نجی زندگی اور تعلیم کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ ایس پی نے کہاکہ ایک مقامی بی جے پی یوتھ لیڈر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ چار ملزمین مفرور ہیں۔ انا ملائی نے کہاکہ ’’پانچ افراد اس (لڑکی) کے گھر گئے تھے۔ ہم نے اس واقعہ کا سخت نوٹ لیا ہے۔ ان تمام کو سخت سزائیں دی جائیں گی‘‘۔ پولیس افسر نے کہاکہ ’’برائے مہربانی اس (واقعہ) کو ’اخلاقی پولسنگ‘ مت کہئے۔ اس کو اخلاقی غنڈہ گردی کہا جائے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT