Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / اخوان المسلمین اور شام کے جہادی گروپ دہشت گرد

اخوان المسلمین اور شام کے جہادی گروپ دہشت گرد

ریاض 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے آج اخوان المسلمین اور شام کے دو جہادی گروپوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا اور بیرون سعودی عرب جہاد کرنے والے اپنے شہریوں کو انتباہ دیا کہ وہ 15 دن کے اندر وطن واپس ہوجائیں ورنہ اِنھیں سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مصر کے معزول صدر محمد مُرسی کی اخوان المسلمین کے خلاف ایک بڑا تنازعہ پیدا کرنے والے ا

ریاض 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے آج اخوان المسلمین اور شام کے دو جہادی گروپوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا اور بیرون سعودی عرب جہاد کرنے والے اپنے شہریوں کو انتباہ دیا کہ وہ 15 دن کے اندر وطن واپس ہوجائیں ورنہ اِنھیں سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مصر کے معزول صدر محمد مُرسی کی اخوان المسلمین کے خلاف ایک بڑا تنازعہ پیدا کرنے والے اقدام میں سعودی عرب نے تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ تنظیمیں جہاد کے نام پر دہشت گردی کررہے ہیں۔ سعودی عرب نے اپنے شہریوں کے شام سے واپسی کے امکان پر بھی تشویش ظاہر کی۔ سعودی شہری شام میں انتہا پسندانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

سعودی عرب نے اخوان المسلمین کے علاوہ النصریٰ فرنٹ کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے جو شام میں القاعدہ کی محاذی تنظیم ہے اور عراق میں بھی یہ سرگرم ہے۔ شام اور دونوں ملکوں میں یہ گروپ کارروائیوں میں ملوث ہے۔ سعودی عرب نے شیعہ ہوتی باغیوں کو بھی دہشت گرد گروپ میں شامل کیا ہے جو شمالی یمن میں جنگ کررہے ہیں۔ غیر معروف داخلی شیعہ گروپ کو حجاز میں حزب اللہ کہا جاتا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر قدامت پسند خلیجی ملکوں نے طویل مدت سے اخوان المسلمین کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اِنھیں اندیشہ ہے کہ اِس کی سرگرمیاں اور سیاسی اسلام کی تحریکیں اِن کی اتھاریٹی کو کمزور کرسکتی ہیں۔ سعودی عرب میں سنی زیرقیادت باغیوں کے حامیوں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے جو صدر شام بشارالاسد کو بیدخل کرنے کے لئے جنگ میں شامل ہیں۔

لیکن اِس انقلابی جہادی گروپ کے طویل مدت تک شام میں رہنے سے سعودی عرب کو بھی خطرہ ہے۔ 2003 ء سے 2006 ء تک مقامی القاعدہ کی جانب سے کئی حملے کئے گئے تھے۔ شاہ عبداللہ نے گزشتہ ماہ دہشت گرد گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور بیرون سعودی عرب جہاد کرنے والے شہریوں کیلئے 20 سال تک کی جیل کی سزا دینے کا فرمان جاری کیا تھا۔ اِسی طرح کی سزا مذہبی انتہا پسندوں اور نظریاتی گروپوں کو بھی دی جائے گی یا پھر اُن تنظیموں کو جنھیں دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر سزا کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ اِس طرح کی گروپوں کی مدد کرنا بھی مستوجب سزا ہے۔

TOPPOPULARRECENT