Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / اخوان المسلمین اور شیخ قرضاوی کی تائید جاری رکھنے قطر کا عہد

اخوان المسلمین اور شیخ قرضاوی کی تائید جاری رکھنے قطر کا عہد

دوحہ ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت قطر کے قریبی ذرائع نے آج دعویٰ کیا کہ یہ خلیجی ملک اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کیلئے دیگر تین خلیجی ممالک کے دباؤ کے آگے سرنگوں نہیں ہوگا۔ ذرائع نے کہا کہ مصر کے اخوان المسلمین اور شام کے باغیوں کیلئے جاری دوحہ کی تائید و مدد بند کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ب

دوحہ ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت قطر کے قریبی ذرائع نے آج دعویٰ کیا کہ یہ خلیجی ملک اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کیلئے دیگر تین خلیجی ممالک کے دباؤ کے آگے سرنگوں نہیں ہوگا۔ ذرائع نے کہا کہ مصر کے اخوان المسلمین اور شام کے باغیوں کیلئے جاری دوحہ کی تائید و مدد بند کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے ایک سخت قدم اٹھاتے ہوئے چہارشنبہ کو قطر سے اپنے سفیروں کو واپس طلب کرلیا تھا ایسے سخت اقدام کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

ان تینوں ممالک نے الزام عائد کیا تھا کہ ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے سے متعلق سمجھوتہ کی پابندی کرنے میں قطر ناکام ہوگیا ہے۔ تاہم اس کے دوسرے روز جمعرات کو حکومت قطر کے قریبی ذرائع نے کہا تھا کہ حکومت قطر، ایسے کسی سمجھوتہ کی پابندی نہیں کرے گی۔ قبل ازیں قطر کی کابینہ نے بھی خلیجی تعاون کونسل کے دیگر تین رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف کئے گئے سخت فیصلہ پر حیرت

اور افسوس کا اظہار کیا تھا لیکن دوحہ نے کہا تھا کہ جوابی کارروائی کے طور پر وہ (قطر) ان تین ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس طلب نہیں کرے گا اور خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کی سلامتی کے عہدہ پابند رہے گا۔ حکومت قطر کے قریبی ذرائع نے مزید کہا کہ ’’دباؤ کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو وہ اپنی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔ یہ اصول کا معاملہ ہے جس کے ہم پابند رہیں گے۔ خواہ اس کی قیمت کچھ ہی کیوں نہ ہو ہم اس (اصولی معاملہ) کے پابند رہیں گے‘‘۔ ذرائع نے کہا کہ قطر اپنے یوم تاسیس سے آج کی تاریخ تک اپنے اصولوں اور فیصلوں کا پابند رہا ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے کٹر مخالف، اخوان المسلمین کے پرجوش حامی اور بااثر سنی عالم دین یوسف القرضاوی کے بشمول اخوان المسلمین کے تمام ارکان کو پناہ و مدد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور یہ عمل روکا نہیں جائے گا

اور متحدہ عرب امارات سخت اعتراض و برہمی کا اظہار کرچکے ہیں۔ 1980ء کی دہائی میں تشکیل شدہ خلیجی تعاون کونسل دراصل امریکہ و دیگر مغربی ممالک کی حامی چھ شاہی حکومتوں کی ایک تنظیم ہے جو خلیج میں ایران کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کیلئے بالعموم اپنے داخلی اختلافات کو درپردہ رکھتی رہی ہیں۔ قطر کے جواں سال امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے جو گذشتہ سال جون میں اپنے والد شیخ حمد سے عنان اقتدار حاصل کئے ہیں، صاف طور پر کہا ہیکہ ان کا ملک قطر، اپنی خارجہ پالیسی پر دوسروں سے ہدایات حاصل نہیں کرے گا۔ ان کے اس ریمارکس سے واضح ہوگیا ہیکہ وہ بھی اپنے والد کی عادت پر کاربند رہنا چاہتے ہیں۔ شیخ حمد ماضی میں بحیثیت امیر کئی ایسی پالیسیاں اختیار کرتے رہے تھے جو دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں اور موقف سے متضاد رہا کرتے تھے۔

چھوٹا سا خلیجی ملک قطر تیل اور قدرتی گیس کا بہت بڑا برآمد کنندہ ملک ہے جو 2011ء میں بہار عرب کے آغاز کے بعد سے اپنی تیل کی دولت کو کئی عرب ممالک جیسے تیونس، مصر، لیبیا اور شام میں بغاوتوں، عوامی شورش و بے چینی کی حوصلہ افزائی کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ علاقائی تنازعات میں کلیدی ثالثی کا رول ادا کرنے کے پوشیدہ عزائم کے تحت مصری اخوان المسلمین، افغان طالبان اور ایسے ہی دیگر باغی گروپوں کے ارکان کو اپنی پناہ و سرپرستی فراہم کرتا رہا ہے۔ نیز سرکاری سرپرستی یافتہ الجزیرہ ٹیلیویژن چینل کے ذریعہ پوشیدہ قطری پالیسیوں کی تشہیر کی جاتی ہے۔ تاہم اس ٹیلیویژن چینل کا دعویٰ ہیکہ وہ ایک آزاد نشریاتی ادارہ ہے جو علاقہ کے تمام فریقوں کو مساویانہ طور پر موقع فراہم کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT