Friday , January 19 2018
Home / دنیا / اخوان المسلمین کے احتجاجی حامیوں کی ہلاکت منصوبہ بند

اخوان المسلمین کے احتجاجی حامیوں کی ہلاکت منصوبہ بند

نیویارک۔ 12 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مصر میں گذشتہ سال دو احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت منصوبہ بند تھی اور اعلیٰ عہدیداروں کے حکم پر یہ کارروائی کی گئی تھی۔ اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ حقوق انسانی کے ایک ادارہ نے یہ تحقیقاتی رپورٹ پیش کی اور واقعات کی اقوام متحدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ نیویارک میں واق

نیویارک۔ 12 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مصر میں گذشتہ سال دو احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت منصوبہ بند تھی اور اعلیٰ عہدیداروں کے حکم پر یہ کارروائی کی گئی تھی۔ اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ حقوق انسانی کے ایک ادارہ نے یہ تحقیقاتی رپورٹ پیش کی اور واقعات کی اقوام متحدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ نیویارک میں واقع ہیومن رائٹس واچ نے ایک سال طویل تحقیقات کے بعد 188 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی ہے۔ اس گروپ نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہیکہ منتخبہ صدر محمد مرسی کے حامیوں کی سیکوریٹی فورسیس کے ہاتھوں ہلاکت کے 6 واقعات کی تحقیقات کی جائے۔ واضح رہیکہ محمد مرسی کو 3 جولائی 2013ء کو فوج نے کئی دن کے عوامی احتجاج کے بعد اقتدار سے معزول کردیا تھا۔

اس رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت مصر نے کہا کہ یہ منفی اور جانبداری پر مبنی رپورٹ ہے۔ اس میں نامعلوم عینی شاہدین پر اکتفا کیا گیا ہے۔ 14 اگست 2013ء کو سیکوریٹی فورسیس نے اخوان المسلمین کے ہزاروں حامیوں کو دو احتجاجی کیمپس میں گھس کر ہلاک کردیا اور بے شمار کو گرفتار کرلیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ اخوان المسلمین کے قاہرہ کے رابعہ العدویہ پر احتجاجی مظاہرے کو ختم کرنے کے دوران 817 احتجاجی ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں اس واقعہ کا چین کے تنان مین اسکوائر پر 1998ء احتجاجی قتل عام سے موازنہ کیا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکیٹیو ڈائرکٹر کنتھ روتھ نے یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مصر کی سیکوریٹی فورسیس نے حالیہ عرصہ کے دوران ایک ہی دن میں مظاہرین کو اتنی زیادہ تعداد میں ہلاک کیا جس کی مثال نہیں دی جاسکتی۔

یہ اپنی نوعیت کا دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کا واقعہ ہے۔ اسے محض طاقت کے زیادہ استعمال یا ناقص تربیت قرار دیتے ہوئے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حکومت مصر کے اعلیٰ سطح پر تیار کردہ منصوبہ تھا۔ اس منصوبہ میں شامل کئی عہدیدار اب بھی مصر میں اقتدار پر ہے اور وہ جوابدہ ہیں۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل پر زور دیا گیا ہیکہ وہ اجتماعی ہلاکتوں کی تحقیقات کیلئے بین الاقوامی کمیشن قائم کریں۔ اس کارروائی میں ماخوذ رہنے والوں کے خلاف تعزیری الزامات عائد کئے جانے چاہئے اور بین الاقوامی عدالت میں ان کا مواخذہ ہونا چاہئے۔ رپورٹ میں موجودہ صدر عبدالفتح السیسی کو تشدد کا ’’کلیدی آلہ کار ‘‘ قرار دیا گیا۔ وہ اس وقت فوجی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ رپورٹ میں مختلف حکومتوں پر قاہرہ کو فوجی مدد معطل کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT