Monday , September 24 2018
Home / ادبی ڈائری / ادب کا زبان سے تعلق

ادب کا زبان سے تعلق

وحید اشرف

وحید اشرف
ادب کا زبان سے تعلق یا زبان کا ادب سے رشتہ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو لگتا تو مہمل ہے لیکن سنجیدگی سے اس پر غور کیا جائے تو یہ تحقیق ادق امر ہے ( یعنی تحقیق کا یہ کام باریک بینی اختیار کرجاتا ہے) کہ قدیم و جدید مہذب زبانوں جیسے عربی، فارسی، فرنچ اور اردو سے ادب کا رشتہ کیوں کر استوار ہوسکتا ہے۔ ان بہترین اور عالی زبانوں کا ادب سے رشتہ اور وابستگی، ان کے بولنے، لکھنے اور پڑھنے والوں کی تہذیب اور شائستگی کے انداز سے بآسانی سمجھ میں آسکتا ہے۔ فارسی کی اکثر لغات میں اس طرف اشارہ بھی ملتا ہے۔ اس میں عالیت پر استوار زبانوں یعنی (Clasical Language) کی تفہیم اس طرح کی گئی ہے۔The pem is a clasic example of th khrassani style یعنی شاعری کی ایک صنف نظم کی مثال خُراسانی اسلوب سے دی جاسکتی ہے۔ ایسی کئی توضیحات سے زبان کی عالیت ثابت ہوتی ہے۔ یہ زبان کے مختصر اور تشنہ معیارات کی بات ہوئی۔ اب ادب کے معنوں پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اردو کے ساتھ لفظ ادب کیوں کر مربوط ہوا۔ ادب عربی زبان کا لفظ ہے جو کئی معنوں کا حامل ہے۔ قدیم عرب میں ادب بمعنی ’’ ضیافت ، مہمان نوازی، شائستگی، سلیقہ، خوش بیانی، کم سخنی، حُسنِ سلوک‘‘ بھی ادب کہلاتا تھا۔ ادب کے یہ معنی ابھی بھی مختلف النوع مفاہم میں استعمال ہوتے ہیں۔
اسی ضمن میں نہیں چاہتے ہوئے بھی کچھ یوروپی فلسفیوں کے نظریہ کو پیش کرنے پر اس لئے مجبور ہوں کہ جب بھی اردو ادب پر کچھ لکھتے یا بولتے ہیں تو کسی یوروپی ادیب کا حوالہ ضروری ہے ورنہ ان کے بغیر تحریر غیر معیاری قرار دے دی جاتی ہے۔ یہ بیماری 60 کے ابتدائی دہے سے چل رہی ہے۔ چنانچہ اردو ادب سے مغربی اقوال کو حذب کرنا مشکل کردیا گیا ہے۔ میتھیو آرنلڈ کے نزدیک ’’ ادب اس کو کہا جاتا ہے جو کتابوں کے ذریعہ ہم تک پہنچتا ہے‘‘ ۔ کارڈینل نیومن کہتے ہیں ’’ انسانی فکر، خیال اور احساس جو زبان کے ذریعہ تحریری شکل میں ہو ادب کہلاتا ہے‘‘۔ نارمن جووک کے بموجب ادیب کا خیال، احساس اور فکر جب تحریری شکل اختیار کرلیتی ہے وہ ادب ہے جس کو پڑھ کر قاری مسرت اور غم حاصل کرتا ہے۔‘‘ بیسویں صدی کے ابتدائی دورسے آہستہ آہستہ اردو ادبی میں اساطیری ( بیہودہ اور عامیانہ ) اسلوب، جس کی بنیاد دروغ گوئی پر ہے، نے جگہ بنانی شروع کردی۔ یہ اسلوب ایسے طبقہ کی تسکین کا ذریعہ ہے جو تنہائی پسند اور خودلذتی کی علت میں مبتلاء رہتے ہیں۔ اُس وقت اس میں ایسے شعراء، افسانہ نگار، ناول نگار اور ڈرامہ نویس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا جو اسی رفتار سے سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی جیسے ادیبوں کی صف میں شامل ہونے کیلئے بے چین تھے۔ یوروپی وا ساطیری لٹریچر کے بذریعہ انگریزی بے تحاشہ تراجم ہونے شروع ہوگئے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ یہ طلاطم جلد ہی تھم گیا مگر دکھ اس بات کا ہے کہ اس کی جگہ دوبارہ اردو ادب نے نہیں لی۔ زبان سے ادب کا رشتہ یا تعلق کیا معنی رکھتا ہے۔ یہاں احاطہ ’’ اردو ادب ‘‘ تک ہی محدود ہے۔ کسی دوسری ہندوستانی زبان سے اس کا کوئی تقابل نہیں ۔ اردو سے ادب کا نکل جانا ہمارے لئے کتنا نقصاندہ ہورہا ہے ۔ انسانی فکر سے مذکورہ صفات کا نکل جانا ادب کی موت ہے جو واقع ہوچکی ہے۔ ان تینوں مغربی مفکرین کے نزدیک ’ ادب ‘ زبان کے ساتھ مربوط ہے۔ اردو ادب کے ابتدائی دور کے کچھ کچھ اثرات افکار قدیمہ کی طرح آج بھی باقی ہیں۔ادوبمعنی ’’ ضیافت، مہمان نوازی، شائستگی، ، سلیقہ، خوش بیانی، کم سخنی، حُسن سلوک ، تہذیب ‘‘ ہمارے مزاج سے کیوں کر دور ہوگیا کیونکہ ہم نے اپنی زبان سے بے رُخی اختیار کرلی ہے۔ اس کو پڑھنے والے بہت ہیںلیکن سیکھنے اور سمجھنے والے کم ہی ہیں۔ مگر وہ بھی بعض وقت ادبی بداخلاقی کے شکار ہوجاتے ہیں۔ آج اردو استاد، شاعروں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے شاگردوں کی تعداد میں بے ہنگام اضافہ ہورہا ہے۔ان استادوں کی اپس میں محاذ آرائی اور دشنام طرازی اردو ’ ادب ‘ کی تمام عالی اصناف اور اسلوب کی دھجیاں اُڑاتی نظر آرہی ہے۔ ایک وقت ہندوستان بھر میں صفِ اول کے شاعر و ادیب کے انتخاب پر ایک محضرہ ہوا، اس میں کسی اتفاق کے بغیر یہ اعلان کردیا گیا کہ ہندوستان میں اردو کے سب سے بڑے شاعر فلاں ہیں، بجائے شائستگی کے ساتھ تسلیم و رضا آپس میں اختلافات ظاہر ہوگئے اور زبان قابو سے باہر ہوگئی۔ ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوا۔ اردو سے ادب کا جنازہ اُٹھ گیا۔
میان دو تن دشمنی بود و جنگ
سر از کِبر بر یک دیگر چوں پلنگ
( دو دوستوں میں دشمنی جب جنگ پر آمادہ کرتی ہے تو وہ باہم ایک دوسرے پر غرور سے مثل چیتا جھپٹ پڑتے ہیں۔ )

Top Stories

TOPPOPULARRECENT